اسلام آباد: ترک سفارتخانے کی طرف سے 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے شہداء کی یاد میں پروگرام

0 925

پاکستان میں ترک سفارت خانے نے جمعہ کے روز 15 جولائی 2016ء کو فتح اللہ گولن کے فوجی پیروکاروں کی ناکام بغاوت میں شہید ہونے والے ترک شہریوں کی یاد میں ایک خصوصی پروگرام کا اہتمام کیا-

اسلام آباد سفارت خانے میں منعقدہ پروگرام میں پاکستانی نگران حکومت کے وزیر انسانی حقوق و امور کشمیر روشن خورشید بروچہ، ائیر فورس کے ائیر چیف مارشل زاہد محمود، کئی سنیٹرز، سفارت کار، مختلف تنظیموں کے سربراہان اور فوجی افسران شریک ہوئے-

تقریب میں 15 جولائی کی ناکام بغاوت میں فتح اللہ گولن دہشتگرد تنظیم کی بربریت اور دہشتگردی کے وڈیو مناظر بھی دکھائے گئے جس میں صدارتی محل ، پارلیمنٹ اور پولیس ہیڈ کوارٹر پر بمباری بھی شامل تھی-

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی نگران وزیر انسانی حقوق و امور کشمیر نے کہا، "میں بہادر ترک قوم کو سلام پیش کرتا ہوں جو بہادری کے ساتھ فوجی بغاوت کے خلاف لڑے اور ملک میں جمہوریت کو محفوظ بنایا”-

شرکاء فوجی بغاوت کی وڈیوز دیکھ کر حیران رہ گئے-

نگران وزیر نے مزید کہا، "ترکی میں ہونے والی 15 جولائی کی ناکام بغاوت کی وڈیوز کوئی دیکھ نہیں سکتا لیکن میں ترک قوم کی تعریف کرتا ہوں جس نے دنیا کو دکھایا کہ اپنے ملک میں جمہوریت کا تحفظ کیسے کیا جاتا ہے”-

شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ترکی کے سفیر احسان مصطفےٰ یرداکل نے کہا کہ یہ ایک سادہ بغاوت کی کوشش نہیں تھی بلکہ فتح اللہ گولن دہشتگرد تنظیم کی ایک بڑی دہشتگردی تھی-

یرداکل نے شرکاء کو مزید بتایا کہ، "فتح اللہ گولن دہشتگرد تنظیم نے دنیا کے 160 ممالک میں ہزاروں تعلیمی ادارے قائم کر رکھے ہیں جو ان ممالک کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی رسک ہیں اور 15 جولائی کی ناکام بغاوت ان سب کو جگانے کی آواز بن گئی”-

انہوں نے مزید بتایا کہ کئی ممالک نے فتح اللہ گولن سے منسلک اسکول یا تو بند کر دئیے ہیں یا پھر ترکی کی معارف فاؤنڈیشن کے کنٹرول میں دے دئیے ہیں-

فیتو اور اس کے امریکہ میں مقیم رہنماء فتح اللہ گولن نے 15 جولائی 2016ء کو ترکی میں اپنے فوجی اور غیر فوجی پیروکاروں کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کی تھی جس میں 251 ترک شہری شہید جبکہ 2200 زخمی ہو گئے تھے-

ترک حکومت نے فتح اللہ گولن کے شرپسند پیروکاروں کو فوج سمیت باقی اداروں سے بھی نکالنے کا فیصلہ کیا اور بڑے پیمانے پر تفتیش اور صفائی مہم کا آغاز کیا گیا- جس میں اسے اپوزیشن کی حمایت حاصل تھی-

تبصرے
Loading...