‘ترک بمقابلہ کُرد’ کی بحث اور چند حقائق

ہلال قپلان

0 411

آپریشن چشمہ بہار کے آغاز سے جن بحثوں سے جنم لیا ہے ان میں سب سے زیادہ سفید جھوٹ یہ ہے کہ یہ ترکوں اور کُردوں کے مابین جنگ ہے۔ یہ بات یا تو لاعلمی کی بنیاد پر کی جاتی ہے یا غلط اطلاعات پھیلانے کی جان بوجھ کر کی گئی کوشش ہوتی ہے۔

ترکی کردوں کی تقریباً 15 ملین آبادی رکھتا ہے جو تمام شہریوں کے برابر حقوق رکھتے ہیں۔ ترکی کے صدور اور کئی وزراء کُرد نسل سے رہے ہیں۔ حکمران عدالت و انصافی پارٹی نے اپنے تقریباً آدھے ووٹ کرد شہریوں سے حاصل کیے ہیں۔ ترک پارلیمان میں آق پارٹی کے 100 سے زیادہ اراکین کرد ہیں۔

ترک مسلح افواج میں 10,000 سے زیادہ کرد فوجی موجود ہیں، جن میں سے کئی بڑے عہدوں پر ہیں۔ ترک قومی انٹیلی جنس ایجنسی (MIT) کے سربراہ کرد نسل سے ہیں۔ کیا آپ صدام حسین کے عراق یا بشار الاسد کے شام یا حسن روحانی کے ایران میں ایسی مثال ڈھونڈ سکتے ہیں؟ میں صالح کے عراق کا حوالہ نہیں دیتی کیونکہ یہ صدام کی پالیسیوں اور امریکی حملے کے اثرات کی وجہ سے تقسیم کے قریب ہے۔

ترک اور کردوں کے درمیان 45 لاکھ شادیاں ہوئی ہیں۔ جب صدام حسین نے کردوں پر حملہ کیا تو 5,00,000 کردوں نے ترکی میں پناہ لی۔ جب بشار الاسد کے والد نے کردوں پر حملہ کیا تو 1,00,000 سے زیادہ کردوں نے ترکی میں پناہ لی۔ اور بالآخر جب اسد جونیئر نے کردوں پر حملہ کیا تو 3,00,000 کردوں نے ترکی میں پناہ لی۔ کیوں؟ کیونکہ کرد جانتے ہیں کہ سائیکس-پیکو سرحدوں کی تشکیل سے پہلے یہاں ان کا خیر مقدم کیا جاتا تھا اور انہیں معلوم تھا کہ کسی بھی وقت اُن کو خوش آمدید کہا جائے گا، بعث پارٹی کے شام یا ملاؤں کے ایران کے برعکس کہ جہاں سیاسی بنیادوں پر ان کا خاتمہ کیا گیا۔

ماضی میں بلاشبہ ترکی میں کرد عوام کے ساتھ سنگین ناانصافیاں کی گئیں۔ مثال کے طور پر ماؤں کو قید خانے میں اپنے بیٹوں سے ملاقات کے دوران کردی زبان میں بات کرنے کی اجازت نہ تھی۔ ایک موقع ایسا بھی تھا کہ گلی محلوں میں کردی زبان بولنے سے مسائل کھڑے ہو جاتے تھے۔ ایسا وقت بھی گزرا ہے کہ جب دیاربکر میں ٹریفک لائٹوں کے رنگ تبدیل کر دیے گئے تھے تاکہ نارنجی، سرخ اور سبز رنگ ایک ساتھ نظر نہ آئے (اور یوں عراقی کردوں کی علاقائی حکومت (KRG) کا پرچم نہ بن جائے۔)

لیکن صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت میں اُس عہد کا خاتمہ ہو چکا ہے کہ جنہوں نے 2005ء میں کہا تھا کہ "مضبوط ریاستوں کو ماضی میں کی گئی غلطیوں کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔ کرد مسائل کا تعلق معاشرے کے کسی ایک طبقے تک نہیں، بلکہ یہ سب کا مسئلہ ہے۔ یہ میرا بھی مسئلہ ہے۔”

یہ وہ چند اصلاحات ہیں جو آق پارٹی نے 2004ء سے 2014ءکے دوران جمہوریت خلق پارٹی (CHP) اور ملت چی حرکت پارٹی (MHP) کے سخت اختلاف کے باوجود کیں: کردی زبان کے دفاع کا حق، نجی اسکولوں میں کردی زبان میں تعلیم کا حق، سرکاری اسکولوں میں تعلیمی زبان کی حیثیت سے کردی زبان کے انتخاب کا حق، سرکاری دستاویزات میں کردی میں نام لکھنے کا حق، انتخابی مہمات کے لیے مواد کو کردی زبان میں چھاپنے کا حق (آق پارٹی کے وزراء اور اراکین نے بھی اس حق کا استعمال کیا)، سرکاری جامعات میں کردولوجی انسٹیٹیوٹس کا قیام، سرکاری ٹیلی وژن چینل "TRT کردی” کا قیام جو 24 گھنٹے صرف کردی زبان میں نشریات پیش کرتا ہے، نجی ریڈیو اور ٹیلی وژن چینلز کہ جنہیں کردی زبان میں نشریات کی اجازت دی گئی، سرکاری نیوز ایجنسی کی کردی زبان کے سورانی اور کرمانجی لہجوں میں خدمات، تھیٹروں میں کردی زبان کے ڈرامے اور پہلی بار کردی کتابوں کی مفت تقسیم اور دیاربکر کی دجلہ یونیورسٹی میں کردی زبان میں پہلے پی ایچ ڈی پروگرام کا آغاز۔

کیا ان اقدامات سے ایسا لگتا ہے کہ آق پارٹی کو کردوں سے کوئی مسئلہ ہے؟ بلکہ وہ تو ان کے ضروری اور طویل عرصے سے جائز حقوق دے رہی ہے۔

اب ذرا پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) کو شام میں "کردوں” کی حیثیت سے پیش کرنے کے مسئلے کی طرف سے آتے ہیں؛ جیسا کہ یہ کبھی بھی ممکن ہے اور کسی حد تک نسل پرستانہ نہیں ہے کہ کسی پورے آبادیاتی گروہ کو کسی ایک مسلح گروپ کے جھنڈے تلے سمجھا جائے۔ شروع کرتے ہیں YPG کے ہاتھوں مارے جانے والے شامی کرد رہنماؤں کی فہرست سے: مشعل تمو، کردش فیوچر موومنٹ کے رہنما؛ تمو کے بھتیجے محمد سلف جیون، تحریک کے سینئر رکن؛ محمود ولی، کردش نیشنل کونسل کے سینئر رکن؛ شہرزاد حاج رشید، شام میں کردش ڈیموکریٹک یونین پارٹی کے رکن؛ نصر الدین بحرک، کردش ڈیموکریٹک پارٹی کے سینئر رکن جو مسعود برزانی سے قربت رکھتی ہے؛ صلاح بدر الدین، کردش پاپولر یونین پارٹی کے سابق جنرل سیکرٹری، جو YPG سے بچنے کے لیے عراق فرار ہو گئے؛ اور مصطفیٰ مسلم، ڈیموکریٹک یونین پارٹی (PYD) کے سابق رہنما صالح مسلم کے بھائی، جو YPG کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچنے کے لیے ترکی میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ یہ فہرست YPG کے ہاتھوں 52 کرد سیاست دانوں کے قتل تک جاری رہتی ہے۔ PKK نے 1980ء کی دہائی میں ترکی میں ایسی ہی پرتشدد حکمتِ عملی کی پیروی کی۔

مختصر یہ کہ ترکی نہ صرف "کرد دوست” ملک ہے بلکہ ایسا ملک ہے کہ جہاں کرد ترک شہریوں کے شانہ بشانہ رہتے ہیں۔ اور YPG ایک مسلح گروپ ہے جو کردوں کو دبانے اور خاموش رکھنے کے لیے دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہے جو تمام شامی کردوں کے واحد نمائندہ کی حیثیت تو کجا کسی قانون کا ہی سرے سے پابند نہیں۔

تبصرے
Loading...