مصر کے نام نہاد صدارتی انتخابات: سیسی کے مدمقابل اکلوتا مگر انوکھا امیدوار

0 1,369

مصر میں ہونے والے نام نہاد صدارتی انتخابات کے کاغذات جمع کروانے کے آخری روز جنرل عبد الفتاح السیسی کے مقابلےمیں اکلوتا امیدوار سامنے آیا ہے۔ مارچ میں ہونے والے ان انتخابات میں حصہ لینے والے تمام امیدوار جبر کی وجہ سے دستبردار ہو گئے تھے۔

پانچ روز قبل فوجی حکمران سیسی کے خلاف الیکشن لڑنے کا اعلان کرنے والے سابق چیف آف اسٹاف سامی عنان کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

آخری روز سامنے آنے والے اکلوتے امیدوار موسی مصطفےٰ موسی حزب الغد کے چیئرمین ہیں۔ جنہوں نے اس سے قبل جنرل سیسی کی دوسری ٹرم کی بھرپور حمایت کی تھی اور گذشتہ ہفتے جنرل سیسی کے حق میں بطور امیدوار صدارت پروگرام منعقد کیا تھا۔

جنرل سیسی کو 2014ء میں منتخب کیا گیا تھا، اس سے سال بھر قبل انہوں نے جمہوری طور پر مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو جبری طور پر اقتدار سے محروم کر دیا تھا۔

اتوار کے روز کئی اپوزیشن رہنماؤں نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا اور جبر کا الزام عائد کیا تھا کیونکہ سیسی کے خلاف سب سے طاقتور امیدوار کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

جنرل سیسی کے مقابلے میں سامنے آنے والے موسی مصطفیٰ موسی جب کاغذات نامزدگی جمع کروا رہے تھے اس وقت ان کے فیس بک اکاؤنٹ کے کور فوٹو پر سیسی کی تصویر لگی تھی جس پر لکھا تھا، "ہم بطور صدر مصر حمایت کرتے ہیں”۔

 

موسی نے عالمی خبر رساں ادارے کو بتاتے ہوئے کہا کہ وہ الیکشن میں شامل ہونے کے فیصلے سے قبل صدر سیسی کی حمایت کر رہے تھے”۔

الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ وہ انتخابی عمل کو صاف اور شفافیت کو یقینی بنائے گے۔

اکلوتے امیدوار اس سناٹے کے بعد سامنے آئے تھے جب ہشام غینینا پر اپنے گھر سے نکلتے ہوئے حملہ کر کے بری طرح زخمی کر دیا گیا۔ ہشام سابق انسداد بدعنوانی کے ادارے سربراہ رہے ہیں اور جنرل سیسی کے مقابلے میں آنے والے سابق آرمی چیف سامی انان کی انتخابی مہم کو چلا رہے تھے۔

ہشام کے زخمی ہونے کے بعد سامی عنان کی انتخابی مہم کمزور پڑ گئی اور انہیں ملٹری کی طرف سے اجازت لیے بغیر انتخابات لڑنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

اس سے قبل سابق اسلامسٹ صدارتی امیدوار عبد المنعم ابوالفتاح اور محمد انور سادات نے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔

تبصرے
Loading...