فخر الدین پاشا، جس تاریخی شخصیت سے عرب حکمران نا واقف یا بھول چکے ہیں

0 26,887

شیر صحرا (The Lion of Desert) کے نام سے یاد کیے جانے والے فخر الدین پاشا ترک تاریخ کی ایک اہم شخصیت ہیں۔ اور ان کی طرف سے مدینہ کا دفاع اس تاریخ کا ایک کاسہ لیس واقعہ ہے۔ ترکی میں فرید الدین پاشا کے دفاع مدینہ میں کردار پر کئی تحقیقاتی مقالے لکھے جا چکے ہیں اور ان پر پی ایچ ڈی بھی کی گئی ہے۔

مقدس آثار و مخطوطات

شریف مکہ حسین بن علی کی بغاوت کی تیاریوں کو دیکھتے ہوئے، 28 مئی 1916ء کے دن فرید الدین پاشا کو مدینہ میں تعینات کیا گیا۔ فرید الدین پاشا بغاوت شروع ہونے سے پہلے ہی مدینہ پہنچ گئے اور اہم دفاعی اقدامات اٹھانے شروع کئے۔ 3 جون کو شریف مکہ نے مدینہ کے مواصلاتی نظام، ریلوے اور ٹیلی گراف لائنوں کو تباہ کر دیا۔ اگرچہ اس نے 5 اور 6 جون کو مدینہ کی چیک پوسٹس پر حملہ کیا لیکن ناکام بنا دیا گیا۔ مدینہ کے دفاع کے دوران فخر الدین نے جو اہم قدم اٹھا ان میں قدیم آثار کو شہر میں بھیجنا اور چند مخطوطات کو استنبول روانہ کرنا شامل ہے تاکہ وہ دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔  ان میں سے اکثر مخطوطات عثمانی انتظامیہ نے ہی مدینہ کے کتب خانوں کے لیے بھجوائے تھے۔ آج بھی توپ کاپی محل کی مدینہ لائبریری میں تقریبا 500 مخطوطات محفوظ رکھے گئے ہیں۔

مدینہ میں قیام کے دوران فخرالدین پاشا نے خطے کے عربوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کئے اور ان کی خدمات حاصل کیں۔ تاہم سابق گورنر غالب پاشا کی نا اہلیت کی وجہ سے مکہ مکمل طور پر باغیوں کے ہاتھوں میں جا چکا تھا۔ باغیوں نے ،مدینہ سے باہر کے چھوٹے شہروں پر مختصر وقت میں قبضہ کر لیا۔ فخر الدین پاشا نے محدود ذرائع کے باوجود مدینہ کے دفاع کو جاری رکھا۔

تلے ہوئے ٹڈے

مکہ کے نزدیک حجاز ریلوے کے مدورہ اسٹیشن پر باغیوں کے قبضہ کے بعد مدینہ کا محاصرہ کر لیا گیا۔ فخر الدین پاشا نے قلعے کا دفاع کرنا شروع کر دیا جو صحرا کے درمیان موجود تھا اور اس کے باقی تمام رابطے توڑ دئیے گئے تھے۔ وہ بیرونی مدد حاصل نہیں کر سکتے تھے اس لیے وہاں بھوک، پیاس اور بیماریاں شروع گئیں۔ اس صورتحال میں فخر الدین پاشا نے 7 جون 1918ء کو ٹڈیوں کو کھانے حکم جاری کیا۔

ایک پرندے سے ٹڈی کا کیا فرق ہے؟ ٹڈی کے پر نہیں ہوتے۔ لیکن چڑیا کے پروں کے باوجود ٹڈی اڑ سکتی ہے اور پودے اور تازہ اور صاف چیزیں کھاتی ہے۔ یہ تمباکو اور لیموں دونوں کو کھاتی ہے۔ ٹڈی اعرابیوں کی خوراک کا اہم حصہ ہوتی ہے اور وہ اپنی صحت اور شگفتگی کو ٹڈیاں کھا کر حاصل کرتے ہیں۔

فخر الدین کے ساتھ موجود ڈاکٹروں اور طبی ماہرین نے ٹڈی کا مکمل مطالعہ کیا اور اس کے گوشت پر تجربات کئے فرید الدین پاشا نے مکمل تحقیقات کے بعد ٹڈی کی تعریف کی۔

اسی دوران خلافت عثمانیہ نے ہار تسلیم کر لی اور 30 اکتوبر 1918ء کو امن کا معاہدہ کر لیا۔ اس صورتحال میں فرید الدین پاشا کو مدینہ حوالے کرنے کا کہا گیا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے معاہدے کے 72 دن بعد تک مدینہ کا دفاع کیا اور ہتھیار نہ ڈالے۔ استنبول نے انہیں معذول کر کے ان کی جگہ کرنل علی نجیب کو بھیجا تاکہ ہتھیار ڈالنے پر مذاکرت کرنے بھیجا۔ تاہم برطانوی اور عرب لارنس نے فرید الدین پاشا کی طرف سے ہی ہتھیار ڈالنے کی شرط رکھ دی۔

کرنل علی نجیب، فخر الدین پاشا کو حوالے کرنے پر راضی ہو گیا اور اپنے وفد کے ہمراہ فخر الدین پاشا کے پاس پہنچا، جنہوں نے ابھی تک ہتھیار نہیں ڈالے تھے اور حضرت محمد ﷺ کی مبارک قبر کے قریب موجود تھے۔ فخر الدین پاشا کا خیال تھا کہ آنے والا وفد ان سے پوچھے کا ایسا کیوں اور کیسے کر رہے ہو لیکن وفد نے ان کی آنکھوں پر راکھ پھینکی، انہیں پکڑ کر باندھا اور 10 جون 1919ء کو برطانوی لارنس کے حوالے کردیا۔ فخر الدین پاشا نے کہا کہ یہ دن ان کی زندگی کا تکلیف دہ دن تھا۔

محاصرہ مدینہ تاریخ کے طویل ترین محاصروں میں ایک تھا جو جنگ کے بعد بھی جاری رہا۔ یہ محاصرہ دو سال اور سات ماہ تک جاری رہا۔ اس محاصرے کے دوران شریف مکہ اور اس کے حواریوں نے خلافت عثمانیہ سے غداری کر کے برطانیہ کا ساتھ دیا اور عثمانی فوج کے خلاف جنگ لڑی۔

شیرِ صحرا افغانستان میں

شیر صحرا اور محافظ مدینہ فخر الدین پاشا جن کا پورا نام عمر فخر الدین تھا، 1868ء میں بلغاریہ کے شہر روز میں پیدا ہوئے۔ 1891ء میں ملٹری اسکول میں تعلیم مکمل کر کے وہ عثمانی فوج میں اسٹاف کپتان مقرر ہوئے۔ انہوں نے بلقان کی جنگوں اور جنگ عظیم اول میں خدمات سر انجام دیں۔ انہوں نے جس بہادری سے مدینہ کا دفاع کیا اس وجہ سے سے انہیں "شیرِ صحرا” کا خطاب دیا گیا۔ 27 جون 1919ء کو انہیں بطور جنگی قیدی مصر لے جایا گیا۔ 5 اگست 1919ء کو انہیں مالٹا میں ملک بدر کر دیا گیا جہاں وہ دو سال 33 دن زنداں میں رہے۔

برطانوی احکامات کے باوجود انہوں نے خلافت عثمانیہ کی وردی اتارنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا: "میں نے جب سے ملڑی اسکول سے تعلیم مکمل کی ہے اس وردی کو نہیں اتارا”۔ جلاوطنی کے دوران انہیں نمرود مصطفیٰ کی عدالت سے سزائے موت سنائی گئی۔ شہر پر حملہ آور فوج کے حملے کے بعد جس پر عمل نہ ہو سکا۔ 8 اپریل 1921ء میں ترکی کی نئی حکومت کی کوششوں سے انہیں رہائی ملی۔ چند دن روس میں خدمات سرانجام دینے کے بعد وہ واپس اناطالیہ آ گئے۔

9 نومبر 1921ء کو انہیں افغانستان کے دارالحکومت کابل میں موجود ترک سفارت خانے میں بطور سفیر تعینات کیا گیا۔ وہ 12 مئی 1926ء کو وطن واپس آئے اور ملٹری عدالت میں تعینات کر دئیے گئے۔ 5 فروری 1936ء کو وہ میجر جنرل کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے اور 22 نومبر 1948ء کو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ انہیں آشیان قبرستان میں دفن کیا گیا۔

یا رسول الله ﷺ، میں آپ کو کبھی نہیں چھوڑوں گا

مدینے کے محاصرے سے قبل انہیں عثمانی حکومت نے قلعہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا لیکن فخر الدین پاشا نے کہا: "میں اپنے ہاتھ سے ترک جھنڈے کو قلعہ مدینہ سے نہیں گرا سکتا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ قلعے چھوڑا جائے تو پھر کسی اور کمانڈر کو بھیج دیں”۔

محاصرے کے دوران وہ بکثرت مسجد نبوی ﷺ میں نماز و نوافل کی ادائیگی کرتے اور کہتے:

اٹھیں، اٹھیں اے پیارے محمد ﷺ اٹھیں، اے اللہ کے رسول ﷺ  دیکھیں جو آپ پر ایمان لائے ہیں اور آپ کے نام پر جنگ کرتے ہیں۔ اللہ سے ہمارے لیے مدد لا دیں۔

اپریل 1918ء کو فرید الدین پاشا نے خطبہ جمعہ دیتے ہوئے حضرت محمد ﷺ کی قبر مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "یا رسول اللہ ﷺ! میں آپ کو کبھی نہیں چھوڑوں گا”

تبصرے
Loading...