جنوبی افریقہ کے عثمانی نسل کے خاندان ترک شہریت کے منتظر

0 701

ہشام نعمت اللہ آفندی جیسے جنوبی افریقہ میں رہنے والی عثمانی نسل افراد ترک شہریت کی منتظر ہیں۔

76 سالہ ہشام آفندی عثمانی دانشور ابوبکر آفندی کے پڑ پوتے ہیں، جو 19 ویں صدی میں سلطان عبد العزیز خان کی جانب سے کیپ کی مسلمان برادری کو اسلام کی تعلیمات دینے کے لیے جنوبی افریقہ بھیجے گئے تھے۔

ہشام نے عثمانی طغرے کا حامل ایک پرانا پاسپورٹ دکھاتے ہوئے کہا کہ "یہ میرے پڑ دادا کا ترک پاسپورٹ ہے۔ مجھے امید ہے کہ مرنے سے پہلے مجھے بھی ایسا پاسپورٹ مل جائے گا۔”

اُن کے پڑدادا اور کیپ آنے والے دیگر عثمانی باشندوں کا ورثہ آج 150 سے زیادہ سال گزر جانے کے باوجود اُن کی کتب کے علاوہ اُن کی آئندہ نسلوں کی سرگرمیوں میں بھی محسوس کیا جا سکتا ہے کہ جو پانچ نسلوں سے جنوبی افریقہ میں مقیم ہے۔

محمود ہاشم پاشا کے پڑ پوتے فرید منان نے کہا کہ "ترک پاسپورٹ یا شہریت حاصل کرنے اور اپنے آبا و اجداد کی سرزمین دیکھنے کے لیے ترکی کا جانا یا مستقلاً وہاں منتقل ہو جانا بہت زبردست ہوگا۔”

چند عثمانی نسل کے افراد اب جنوبی افریقہ میں کافی مشہور ہیں جن میں جج، ڈاکٹر یہاں تک کہ سیاست دان بھی شامل ہیں۔ جنوبی افریقہ کے وزیر برائے اقتصادی ترقی ابراہیم پٹیل دراصل ابو بکر آفندی کے پڑ پوتے ہیں۔

آفندی نے کہا کہ عثمانی نسل کے افراد کو جنوبی افریقہ کے نسل پرست دور میں کئی دہائیوں تک بدترین حالات کا سامنا کرنا پڑا۔

مسلمان ہونے کی وجہ سے اُنہیں ملائی (غیر سفید فام) قرار دیا گیا اور جبراً اپنے اصل گھروں سے نکال کر غیر سفید فام آبادی کے لیے بنائے گئے علاقوں میں منتقل کیا گیا۔ "ہم ایک ظالمانہ نظام میں بقاء کی جدوجہد کر تے رہے۔” ہمارے چند رشتہ داروں نے مسیحی نام تک اختیار کر لیے اور مسیحی کے طور پر رہنے لگے تاکہ نسل پرست حکومت انہیں سفید فام سمجھے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے برطانیہ کے نو آبادیاتی دور اور نسل پرستانہ قوانین کے مظالم کو سہ۔ اب ترک شہریت جنوبی افریقہ میں رہنے والے اُن کے بچوں اور آئندہ نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ جنوبی افریقہ میں تبدیل ہوتے سیاسی منظرنامے اور جرائم کی بے قابو شرح، بڑھتی ہوئی بے روزگاری سے پیدا ہونے والی پیچیدہ صورت حال کے باعث اُن کے بچوں اور آئندہ نسلوں کا مستقبل غیر یقینی ہے۔”

فرید منان، جن کا خاندان ترک شہریت کے لیے درخواست دے چکا ہے، نے کہا کہ "یہ میری 93 سالہ ماں عائشہ پاشا کا خواب ہے۔ جب وہ نو عمر تھیں تب سے وہ ترکی جانا چاہتی تھیں لیکن اس کے لیے درخواست دینے کا کوئی عمل اُس وقت جنوبی افریقہ میں وجود نہیں رکھتا تھا۔”

منان نے کہا کہ ان کے بھائیوں، بہنوں اور ماں نے ترک شہریت کے لیے درخواست دی ہے اور اس وقت ہم ترک حکام کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔

اس سوال پر کہ ایک مرتبہ شہریت مل جانے کے بعد کیا وہ مستقل طور پر ترکی منتقل ہونے پر غور کریں گے؟، منان نے کہا کہ "میرے خاندان کے کچھ افراد یقیناً ترکی منتقل ہو جائیں گے، جن میں میں بھی شامل ہوں۔ البتہ 61 سال کی عمر میں یوں منتقل ہونا ہو سکتا ہے ممکن نہ ہو، خاص طور پر جب معاملہ نئی زبان سیکھنے کا اور کاروبار کو نئے سرے سے شروع کرنے کا ہو تو۔”

منان ایک رئیل اسٹیٹ ایجنٹ ہیں جو کبھی ترکی نہیں گئے لیکن وہ جانا ضرور چاہتے ہیں۔ "مجھے ترکی کی تاریخ بہت پسند ہے، نیلی مسجد، باسفورس اور زیر آب گزرگاہ سب۔”

ہشام آفندی جو متعدد بار ترکی جا چکے ہیں، نے کہا کہ جب بھی اپنے آبا و اجداد کے وطن میں گیا اسے اپنا گھر ہی پایا۔ "جب میں پہلی بار ترکی گیا تھا تو موجودہ صدر رجب طیب ایردوان وزیر اعظم تھے اور عبد اللہ گل ملک کے صدر تھے، میں نے ہمیشہ ترکی کو اپنا گھر ہی محسوس کیا۔ مجھے کھلے دل کے ساتھ قبول کیا گیا اور وہاں بہت احترام ملا۔”

ایک اور عثمانی نسل کے جنوبی افریقی گوون اتالا نے ایک وڈیو میں کہا کہ جنوبی افریقہ میں رہنے والے ترک نسل کے باشندوں کو تسلیم کیا جانا بہت اہم ہے۔ "ایک مرتبہ یہ تاثر قائم ہو جائے تو یہ احساس بھی پیدا ہوگا کہ ہم اِس ملک (جنوبی افریقہ) میں پلے بڑھے ضرور ہیں لیکن ہم اصل میں ترکی سے ہیں۔”

پریٹوریا میں واقع ترک سفارت خانے سے ان خاندانوں کی درخواستیں آگے بھیج دی ہیں اور اب وہ انقرہ میں ان درخواستوں پر عمل درآمد ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

تبصرے
Loading...