وفاقی کابینہ نے پاک-ترکی اسٹریٹجک اکنامک فریم ورک کی منظوری دے دی

0 1,116

وفاقی کابینہ نے پاکستان اور ترکی کے مابین اشتراک کو مضبوط کرنے کے لیے پاک-ترکی اسٹریٹجک اکنامک فریم ورک کی منظوری دے دی ہے۔

اسلام آباد میں ہونے والے کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کی خصوصی مشیر برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان پاکستان کی جانب سے اعلیٰ سطحی کوآپریشن کمیٹی کی سربراہی کریں گے جبکہ ترکی کی سربراہی صدر رجب طیب ایردوان کے پاس ہوگی۔

اس فریم ورک میں 9 جوائنٹ ورکنگ گروپس ہیں جن کی قیادت پاکستان کی جانب سے وزیرِ اقتصادی امور کریں گے۔ جوائنٹ ورکنگ گروپس کی جانب سے معیشت کے تمام شعبوں کا احاطہ کیا جائے گا اور اس میں 71 قابل عمل پہلو شامل ہوں گے۔ ان پہلوؤں میں آزاد تجارت کے معاہدے، ٹیکنالوجی کی منتقلی، صلاحیت میں اضافے اور دفاعی تعاون شامل ہیں۔ یہ فریم ورک پاکستان کو وسط ایشیا، روس اور مغرب کے ساتھ ملانے میں مدد دے گا۔

وزیر اعظم نے اقتدار میں آنے کے بعد حکومت کی درپیش چیلنجز سے کابینہ کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ معیشت دیوالیہ ہونے کے قریب تھی کہ جسے بحال کردیا گیا ہے اور اب یہ مستحکم ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 30 فیصد کمی آئی ہے اور ایک سال کے عرصے میں یہ 19.8 ارب ڈالرز سے گھٹتا ہوا 13.5 ارب ڈالرز ہو چکا ہے۔ اجلاس میں غیر ملکی سرمایہ کاروں بالخصوص بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے سرمایہ کار دوست پالیسی پر بھی غور کیا گیا ۔

کاروباری افراد کو اعتماد دینے اور کاروبار دوست ماحول کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا جائزہ بھی لیا گیا۔ اس میں نیب کے حوالے سے ضابطہ کار کے چیلنجز پر بھی بات کی گئی کہ جو کاروباری افراد کے فیصلوں میں رکاوٹ کا سبب بن سکتے ہیں۔

کابینہ نے اپنے حالیہ اجلاس میں نجکاری کمیٹی کے فیصلوں کی بھی توثیق کی۔

کابینہ نے غریب اور بے گھر افراد کو سود سے پاک قرضوں کی ادائیگی کے لیے پانچ ارب روپے کی منظوری بھی دی۔ وزیر اعظم نے قرضوں کی تقسیم میں میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں یہ اسکیم شروع کرنے کے لیے ایک طریق کار بنایا جائے اور تفصیلی حکمت عملی طے کی جائے۔

کابینہ نے مسیحی برادری کی مذہبی اقدار کے مطابق مسیحی شادی اور طلاق بل کی بھی منظوری دی۔ اس کے علاوہ گھریلو تشدد کے خلاف اور خواتین کے تحفظ کے لیے بل کی بھی منظوری دی گئی۔

کابینہ نے پہلے ایک سال میں حکومت کو پیش آنے والے اہم چیلنجز اور کامیابیوں پر بھی بات کی۔ متعدد وزراء نے اپنی وزارتوں کی جانب سے عوامی بہبود کے لیے پیش کی گئی آراء اور تجاویز پیش کیں۔

وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ شکایت سیل اور پاکستان سٹیزن پورٹل کو مل کر کام کرنا چاہیے اور معلومات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنی چاہئیں۔

کابینہ نے ملک میں شجر کاری میں اضافے کے معاملے پر بھی گفتگو کی۔ اس موقع پر پھلوں کے درخت لگانے میں نوجوانوں کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی۔

کابینہ نے متعلقہ وزارت کو ان پہاڑی علاقوں میں شمسی چولہوں کی فراہمی کی تجویز دی کہ جہاں گیس کی سہولت دستیاب نہیں۔

وزیر اعظم نے کابینہ کو صدر ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کو کہا کہ بھارت کشمیریوں کی نسل کشی کا منصوبہ بنا رہا ہے تاکہ مقبوضہ خطے کی آبادیاتی صورت حال کو تبدیل کر سکے۔ وزیر اعظم نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کو اپنا کردار لازماً ادا کرنا چاہیے، جو ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن تشکیل دے اور بھارت کو کشمیر میں ہونے والے مظالم سے روکے۔ کابینہ نے کشمیر کے معاملےکو عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کی بھی متفقہ طور پر منظوری دی۔ فردوس عاشق اعوان نے پاکستانی میڈیا پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ مل کر مسئلہ کشمیر کو نمایاں کرے۔

وزیر اعظم نے زور دیا کہ کشمیر پاکستان کی پہلی دفاعی لائن ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا سمیت تمام عناصر کو کشمیر ہڑپ کرنے کے نریندر مودی کے منصوبوں کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے اپنی مہم کو تیز کرنا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان امن عمل میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کی توسیع وزیر اعظم عمران خان کا ایک درست قدم ہے کیونکہ وہ علاقائی حالات کے تناظر میں پالیسیوں کا تسلسل چاہتے ہیں۔

تبصرے
Loading...