ترکی میں انتخابی مہمات کا میلہ ختم ہوا، قوم کل ووٹ ڈالے گی

0 1,366

ترک ملت 24 جون کو ملک کے مستقبل کے لیے صدر اور پارلیمانی اراکین کا چناؤ کرے گی۔ گذشتہ دو ماہ سے چلنے والی انتخابی مہمات کا اختتام ہو چکا ہے کیوں کہ کل ووٹنگ ہو گی۔

اپریل میں جب قبل از وقت انتخابات کا اعلان ہوا، پارٹیوں کے پاس انتہائی محدود وقت تھا جس میں انہوں نے اتحاد، جوڑ توڑ، نمائندوں کا اعلان اور عوام کے پاس جانا تھا۔ درمیان میں ماہ مقدس رمضان بھی آیا لیکن امیدواروں نے ممکن بنایا کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک جا سکیں اور اپنا پروگرام پہنچا سکیں۔

ریلیاں اس انتخابی مہم کا مرکزی حصہ رہی ہیں جس کے ساتھ انتخابی بسیں ہوتی تھیں جن پر رنگ برنگے بینر اور جھنڈے آویزاں ہوتے اور انتخابی نغمے چلاتی گلیوں اور سٹرکوں کے کناروں پر رینگتی اور عوام میں پروگرام کے بروشر بانٹی تھیں۔ ترکی میں اس 56322632 رجسٹرڈ ووٹر ہیں جن کے لیے ملک بھر میں 180065 بیلٹ باکس بنائے گئے ہیں۔ ووٹنگ ترکی کے وقت کے مطابق صبح 9 بجے شروع ہو گی اور شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی۔

ووٹر کو ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ عملے کو اپنا شناختی کارڈ یا کوئی بھی سرکاری ڈاکومنٹ دکھا ہو گا۔ پولنگ احاطے میں فوٹو یا وڈیو کیمروں اور موبائل فون کے ساتھ داخلہ ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ہر ووٹر کو ایک ہی لفافے میں دو مختلف بیلٹ پیپر ملیں گے جن میں سے ایک صدارتی چناؤ کے لیے ہو گا جبکہ دوسرا پارلیمانی چناؤ کے لیے ہو گا۔ یاد رہے کہ ترکی میں پارلیمنٹ کے لیے متناسب نمائندگی کے تحت ووٹ دیا جاتا ہے۔

ووٹنگ کے اختتام پر پہلے صدارتی ووٹ گنے جائیں گے۔ ترکی میں پہلی بار ایسا ہو رہا ہے جب انتخابی عملہ نقل و حرکت، عمر، صحت یا معذوری کے مسائل کی وجہ سے گھروں سے بھی بیلٹ پیپر اٹھانے کی سہولت دے گا۔ اس وقت 17000 ایسے ووٹر موجود ہیں جنہیں یہ سہولت فراہم کی گئی ہے۔

صدارتی امیدوار

ترک صدارتی انتخابات 2018ء کے لیے 6 امیدوار حصہ لے رہے ہیں جن میں عوامی اتحاد کے رجب طیب ایردوان، جمہوریت عوام پارٹی (CHP) کے محرم انجے، کرد دہشتگرد تنظیم کی حامی سیاسی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (HDP) کے صلاح الدین دمیرتش، فضیلت پارٹی (FP) کے تیمل کرمولا اولو اور وطن پارٹی (VP) کے دواُو پیرنچک شامل ہیں۔

پارلیمانی پارٹیاں

اتوار کے روز ہونے والے انتخابات میں 8 سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ تک پہنچنے کی کوشش کریں گی جن میں آق پارٹی (AK)، جمہوریت عوام پارٹی (CHP)، اچھی پارٹی (IP)، خداپار (Huda-par)، فضیلت پارٹی (FP)، پیپلزڈیموکریٹک پارٹی (HDP)، اور وطن پارٹی (VP) شامل ہیں۔تاہم ترکی کی تاریخ میں پہلی بار کئی سیاسی پارٹیاں اتحاد بنا کر پارلیمنٹ میں پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ آق پارٹی اور ملی حرکت پارٹی نے عوامی اتحاد قائم کیا ہے جسے عظیم اتحاد پارٹی (BBP) کی حمایت بھی حاصل ہے جبکہ جمہوریت عوام پارٹی، فضیلت پارٹی اور اچھی پارٹی نے قومی اتحاد بنایا ہے۔ متناسب نمائندگی کے اصول کے تحت پارلیمنٹ میں اسی پارٹی کو حصہ دیا جاتا ہے جو 10 فیصد ووٹ حاصل کر سکے۔ اب اتحاد کی صورت میں یہ اصول پارٹیوں کے بجائے صرف اتحاد پر لاگو ہو گا۔

بیرون ملک ووٹنگ سے پچھلے ریکارڈ توڑ دئیے

تقریبا 1.49 ملین بیرون ملک ووٹر نے 7 جون سے 19 جون، 13 دنوں میں 123 ترک غیر ملکی مشن میں ووٹ ڈالے۔ غیر ملکی ووٹ ترکی پہنچائے جا چکے ہیں اور 24 جون کے دن ملکی ووٹنگ کے اختتام پر ملکی ووٹوں کے ساتھ گنے جائیں گے۔ الیکشن کے دن کسی میڈیا چینل کو اجازت نہیں ہو گی کہ وہ ووٹنگ پر کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا کمرشل اشتہار چلائے۔ جبکہ میڈیا کو وہی انتخابی نتائج چلانے کی اجازت ہو گی جو سپریم الیکشن کونسل سے مصدقہ ہوں گے۔

تبصرے
Loading...