فائر اینڈ فیوری: کتاب میں ‘ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس’ کے انکشافات

0 1,872

نئی شائع ہونے والی سنسی خیز کتاب "فائر اینڈ فیوری” نے نئے مباحث چھیڑ دیئے ہیں۔ "فائر اینڈ فیوری: ان سائیڈ دی ٹرمپ وائٹ ہاؤس” امریکی صحافی اور کالم نگار مائیکل وولف نے لکھی ہے۔کتاب میں موجودہ امریکی انتظامیہ کے متعلق کئی سنسی خیز انکشافات کئے گئے ہیں۔

اس حساس کتاب پر سخت تبصرے سامنے آئے تھے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وقت "جھوٹ کا پلندہ” قرار دیا تھا جب اپنے سابق اسٹریٹجک چیف اسٹیو بینن کے کتاب پر تبصرے پر ٹویٹ کی۔

ایمزون اور بارنز اینڈ نوبل کے مطابق کتاب نے دن کی سب سے مقبول کتاب رہی اور ایمزون میں آف اسٹاک چلی گئی۔

ذیل میں کتاب کے انکشافات پر طائرانہ نظر ڈالی گئی ہے:

ٹرمپ نہیں چاہتے تھے یا امید نہیں رکھتے تھے کہ انتخابات جیت جائیں گے

ٹرمپ، اس کا خاندان اور اس کی ٹیم حیران ہو گئی تھی جب انہوں نے دیکھا کہ وہ صدارتی انتخابات جیت رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے اپنے ایک دوست کو بتایا کہ فتح کی تقریر کے بعد اس نے اپنے والد کو دیکھا تھا، ایسا لگ رہا تھا جیسے بھوت کو دیکھ رہے ہوں۔ ملینا کی آنکھوں میں اس وقت آنسو تھے۔۔۔ تاہم کتاب کے مصنف نے لکھا ہے کہ وہ خوشی کے آنسو نہیں تھے۔

وائٹ ہاؤس تیار نہیں تھا

جیسا کہ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں کسی کو یقین نہیں تھا کہ وہ انتخابات جیت جائیں گے انتظامیہ ان کی صدارت کے لیے تیار نہیں تھی۔ انہیں کوئی خیال نہیں تھا کہ ٹرمپ کی آمد کے بعد وہ کیا کریں گے۔ وولف نے کہا، اس بغیر تیاری نے وائٹ ہاؤس میں انتشار پیدا کر دیا تھا۔

سٹیو بینن سمجھتے تھے کہ ٹرمپ کے روسیوں سے روابط غداری ہیں

وولف کے مطابق، بینن نے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کے ترجمان اور ایک روسی وکیل کے درمیان جون 2016ء میں ہونے والی ملاقات بارے بتایا تھا کہ وہ "بغاوت” اور "حب الوطنی سے عاری” ملاقات تھی۔

بینن نے اس ملاقات بارے کہا تھا

They’re going to crack Down Junior like an egg on national TV

ایوانیکا نے اپنے والد کی وراثت بارے اہم راز کا انکشاف کیا

کتاب میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ایوانیکا ٹرمپ اکثر اپنے باپ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بالوں کے کی حرکیات کے بارے میں دوستوں سے گفتگو کرتے پائی جاتی ہیں۔ ایوانیکا اپنے باپ کے سر کو ایک قطعی صاف سر بتاتی ہے جو کھوپڑی کے اوپری حصہ کے بعد ایک بند شدہ جزیرے کی مانند ہے۔ایک تخفیفی جراحت جو کہ سامنے اور سائیڈوں سے ایک میلے بالوں کے دائرے میں گھری ہوئی ہے جہاں تمام کنارے آکر مرکز میں ملتے ہیں اور پھر گاڑی کے موٹر گارڈوں کی طرح واپس چلے جاتے ہیں جن کی حفاظت ایک کم لچکدار سپرے سے کی جاتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مکین ٹرمپ کی ذہانت پر شک کرتے رہتے ہیں

وزیر خزانہ سٹیو نوچن اور سابق چیف آف سٹاف رینس پیری بس نے ٹرمپ کو احمق قرار دیا جبکہ اعلی سطحی معاشی مشیر گیری کوہن نے انہیں پاخانہ کی مانند گونگا کہا۔ نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر ایچ آر میک ماسٹر نے ٹرمپ کو ایک نشہ آور گولی قرار دیا۔کتاب میں بالخصوص لکھا گیا ہے کہ ٹرمپ کے بارے میں ایسے خیالات کا اظہار کرنے والوں کی فہرست ایسے ہی جاری ہے۔

ٹرمپ خوفزدہ رہتے ہیں کہ انہیں زہر دے دیا جائے گا

وولف نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ ہمیشہ میکڈونلڈ سے کھاتے ہیں کیونکہ وہ یقین کرتے ہیں کہ وہ زہر سے پاک ہو گا۔

کتاب ٹرمپ کے خوف کی وجہ بیان کرتی ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ خوراک پوری حفاظت سے بنائی جا رہی ہے یا نہیں۔

ایوانیکا کے صدارتی عزائم

وولف کے مطابق، ایوانیکا اور اس کے خاوند جراد کُشنر نے ایک معاہدہ کیا تھا کہ اگر انہیں موقع ملا تو ایوانیکا صدارت چلائے گی۔ کتاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایوانیکا نے کہا تھا کہ ہیلری کلنٹن کے بجائے وہ امریکہ کی پہلی خاتون صدر بنیں گی۔

ٹرمپ کا وائٹ ہاؤس میں سب سے بڑا "راز عیاں کرنے والا”

امریکی صدر وائٹ ہاؤس میں موجود ان کے راز افشاں کرنے والے کو ڈھونڈنے کے لیے پاگل ہوئے جاتے ہیں۔ تاہم ان رازوں کے افشاں ہونے کی وہ واحد وجہ خود ہیں۔ کتاب کہتی ہے: "وہ اپنے بستر سے دن اور رات ایسی لوگوں کو کالیں کرتے ہیں جو کسی وجہ سے بھی ان کے اعتماد کو قائم نہیں رکھتے”۔

ٹرمپ کا مطالعہ بہت کمزور ہے

وولف نے کتاب میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ معلومات کو کسی بھی عمومی طریقہ سے جانچتا نہیں ہے۔ وہ مطالعہ نہیں کرتا”۔

تبصرے
Loading...