پہلی بوسنیائی-ترکی لغت کی دوبارہ اشاعت

0 477

بوسنیا کے شاعر اور مصنف محمد ہوائی اسکفی بوسنوی نے پہلی بوسنیائی-ترک لغت لکھی تھی کہ جسے ترکی میں ایک مرتبہ پھر شائع کیا گیا ہے۔

"مقبولِ عارف” نامی یہ لغت استنبول کی تزلا بلدیہ میں چھاپی گئی تھی اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے تیسرے بڑے شہر تزلا کو تحفتاً دی گئی تھی۔

دو ملکوں کے درمیان ایک منصوبے کے تحت اس لغت کی 3,000 نقول دوبارہ شائع کی گئی تھیں، جن میں سے 2,000 بوسنیائی شہر کو بھیجی گئیں۔

اس موقع پر منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سرائیوو کے لیے ترکی کے سفیر خلدون کوچ نے کہا کہ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے گہرے تاریخی و ثقافتی تعلقات کا عکاس ہے۔

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی بوسنیا میں معیشت کو مضبوط کرنے اور سیاسی استحکام لانے کے لیے بنیادی ڈھانچوں میں مدد کرتا رہے گا، کوچ نے اس منصوبے میں حصہ لینے والے افراد کا شکریہ ادا کیا، بالخصوص بلدیہ تزلا اور یونس ایمرے انسٹیٹیوٹ کا جو ترک زبان اور ثقافت کی عالمی ترویج کا سرکاری ادارہ ہے۔

تزلا شہر کی میئر یاسمین امامووِچ نے کہا کہ اس لغت کے لکھنے والے بوسنیائی دانشور تھے کہ جنہوں نے 17 ویں صدی کے دوران استنبول میں تعلیم حاصل کی تھی۔ انہوں نے اس تاریخی نوعیت کی لغت کی دوبارہ اشاعت پر خوشی کا اظہار کیا۔

اسکفی نے یہ لغت 1631ء میں لکھی تھی جو جنوبی سلافی زبانوں کی پہلی تحریری لغت بھی تھی۔ 1798ء سے موجود اس لغت کے مسودے کی ایک نقل سرائیوو میں نمائش کے لیے اب بھی موجود ہے۔

تبصرے
Loading...