پہلی اسلام آباد، تہران، استنبول ٹرین ترکی پہنچ گئی

پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے لیے مال بردار ٹرین سروس کا آغاز ہوا تھا

0 4,505

پہلی ٹرین جو 21 دسمبر کو اسلام آباد سے سامان (بنیادی طور پر گلابی نمک) لے کر روانہ ہوئی تھی پیر کی شام ترکی کے دارالحکومت انقرہ پہنچی۔ اپنی منزل تک پہنچنے سے پہلے، ٹرین پر لدے ہوئے سامان کو دوسری بوگیوں (ٹرانس شپمنٹ) میں منتقل کر دیا گیا تھا جو ایرانی اور ترکی کے ریل/گیج سسٹم سے ہم آہنگ تھیں۔

پاک ریلوے کے آپریشنل ڈائریکٹر نے بتایا ہے کہ "”ٹرین آٹھ ویگنوں پر مشتمل تھی جس میں گلابی نمک 150 ٹن وزنی تھا۔”

انہوں نے کہا کہ دوسری ٹرین، جو 28 دسمبر کو ازاخیل ڈرائی پورٹ سے روانہ ہوئی تھی، اس میں 525 ٹن صابن کا پتھر تھا۔ یہ ایران میں داخل ہو چکی ہے اور بہت جلد زاہدان پہنچ جائے گی جہاں ٹرانس شپمنٹ سے متعلق کام مکمل کیا جائے گا۔

آپریشنل ڈائریکٹر جو کہ اسلام آباد، تہران، استنبول مال بردار ٹرین آپریشن کے فوکل پرسن بھی ہیں، تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے نے ان دو ٹرینوں کی مدد سے بالترتیب 8 لاکھ اور 2.2 ملین پاکستانی روپے کمائے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایران اس ٹرین سروس میں صرف راہداری مہیا کر رہا ہے۔ وہ تمام اشیاء جو ترکی پہنچ رہی ہیں وہ پاکستان کی پیدوار ہے اور پاکستان سے ہی لوڈ کی جا رہی ہے۔

پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے لیے مال بردار ٹرین سروس کا آغاز کیا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد پاکستانی پیداوار کو یورپ کے دروازے تک پہنچانا تھا۔ اس سروس سے پاکستان برآمدات کو مدد ملے گی۔

گذشتہ ماہ اس سروس کا آغاز اسلام آباد سے کیا گیا تھا۔ پاکستانی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی نے مارگلہ ریلوے اسٹیشن پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد کے ہمراہ اسلام آباد، تہران، استنبول (آئی ٹی آئی) مال بردار ٹرین کا افتتاح کیا تھا۔

اس افتتاحی موقع پر ترکی، ایران، قازقستان اور ازبکستان کے سفارت کار بھی موجود تھے۔

اس سے قبل ترکی اور چین نے مل کر اسی قسم کی ٹرین سروس شروع کی تھی۔  یہ ٹرین باکو-طفلس-قارص کے راستے سے ٹرانس کیسپیئن ایسٹ-ویسٹ مڈل کوریڈور استعمال کرے گی اور 8,693 کلومیٹرز کا فاصلہ، دو براعظم، دو سمندر اور پانچ ملک طے کرتے ہوئے 12 دنوں میں چین پہنچی تھی۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: