افغانستان کی صورت حال، امریکی اور ترک وزرائے خارجہ کا فون پر رابطہ

0 99

وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو اور امریکا کے وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے افغانستان کی صورت حال پر بذریعہ فون کال تبادلہ خیال کیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چاؤش اوغلو اور بلنکن نے افغانستان میں "تعاون جاری رکھنے” اور "اپنے شہریوں، اتحادیوں اور ساتھیوں کے محفوظ اور منظم انخلا کو یقینی بنانے کے لیے” کوششوں پر تبادلہ خیال کیاہے۔

بلنکن نے کال کے بعد ٹوئٹ کیا کہ "میں نے افغانستان سے محفوظ اور منظم انخلا کو یقینی بنانے کے لیےمشترکہ کوششوں کے حوالے سے آج ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو سے بات کی ہے۔ ترکی ایک اہم نیٹو اتحادی ہے اور خطے میں ہمارا قیمتی شراکت دار ہے۔”

20 سال سے جاری افغان جنگ کا خاتمہ حیران کن طور پر افغان فوج اور حکومت کے اختتامکے ساتھ ہوا ہے، جو طالبان کے بڑھتے ہوئے قدموں کے سامنے نہ ٹھیر پائے، یہاں تک کہ صدر اشرف غنی بھی ملک سے فرار ہو گئے۔

کابل ایئرپورٹ معاملہ، جرمنی کے ترکی اور امریکا کے ساتھ مذاکرات

طالبان کی کامیابیوں کی وجہ سے افغانستان میں موجودگی غیر ملکی باشندوں کے فوری انخلا کا عمل افراتفری کا شکار ہو گیا ہے بلکہ ہزاروں افغان شہری بھی ہوائی اڈوں پر موجود ہیں جو ملک سے فرار چاہتے ہیں۔ اس کوشش کے دوران کئی شہریوں کی جانیں بھی گئی ہیں جو جہازوں سے لٹک گئے تھے اور پرواز کے کچھ دیر بعد گر کر مارے گئے۔ چند لوگ ٹرمینل پر بھگدڑ کے دوران جانوں سے گئے۔

ترک فوج کابل ایئرپورٹ کی حفاظت کا کام کر رہی ہے تاکہ انخلا کے عمل کو محفوظ اور پر امن بنایا جائے۔ اس کے علاوہ ترکی امریکی اور نیٹو فوج کے انخلا کے بعد کابل کے ہوائی اڈے کے تحفظ اور اسے چلانے کی پیشکش بھی کر چکا ہے۔

بہرحال، چاؤش اوغلو نے بتایا ہے کہ ترکی افغانستان سے اب 1,404 افراد کو نکال چکا ہے۔ ان میں سے 1,061 ترک شہری ہیں جبکہ دیگر کا تعلق مختلف ممالک سے ہے۔

ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے بتایا کہ 200 سے زیادہ ترک شہری اب بھی واپسی کے منتظر ہیں جبکہ افغانستان میں کُل 4,500 ترک شہری ہیں۔

تبصرے
Loading...