یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ کے باوجود ہمیں اقتصادی پہلوؤں کو مضبوط رکھنا ہوگا، صدر ایردوان

0 490

استنبول میں ترک ایکسپورٹرز سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے زور دیا کہ ترکی عالمی معیشت میں بخوبی گندھا اور ملا ہوا ہے، خاص طور پر یورپ کے ساتھ اور کہا کہ "ہمارے اقدامات آزاد مارکیٹ معیشت کے قوانین کے مطابق ہونے چاہئیں۔ یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں تمام اتار چڑھاؤ کے باوجود، وہ ہمارے کل برآمدات کے نصف سے زیادہ کا حامل ہے اور ہمارے ملک میں ہونے والی بین الاقوامی سرمایہ کاری کا بھی بڑا حصہ رکھتا ہے، اس لیے ہمیں اقتصادی پہلو کو بدستور مضبوط رکھنا ہوگا۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے استنبول میں چیمپیئنز آف ایکسپورٹ کی تقریبِ تقسیم اعزازات اور ترکش ایکسپورٹرز اسمبلی کے 26 ویں عمومی اجلاس سے خطاب کیا۔

صدر ایردوان نے ایکسپورٹرز کو ترک برآمدات میں اہم کردار ادا کرنے پر ملنے والے اعزازات پر مبارکباد دیتے ہوئے اپنے خطاب کا آغاز کیا اور 83 ہزار ایکسپورٹرز کو ایک چھتری تلے لانے والی ترک ایکسپورٹرز اسمبلی کو ترکی کی کمرشل ڈپلومیسی کا پرچم بردار قرار دیا۔

"ہمیں 200 ارب ڈالرز کی برآمدات جلد از جلد حاصل کرنا ہوں گی”

2018ء کے اختتام پر ترکی کی برآمدات 168 ڈالرز ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "اس سال مئی تک ہماری برآمدات 171.4 ارب ڈالرز تک پہنچی ہیں۔ برآمدات میں اضافہ خوش آئند ضرور ہے لیکن کافی نہیں۔ ہمیں جتنا جلد ممکن ہو 200 ارب ڈالرز کی حد پار کرنا ہوگی۔”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی عالمی معیشت میں بخوبی گندھا اور ملا ہوا ہے، خاص طور پر یورپ کے ساتھ، صدر ایردوان نے کہا کہ "ہمارے اقدامات آزاد مارکیٹ معیشت کے قوانین کے مطابق ہونے چاہئیں۔ یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں تمام اتار چڑھاؤ کے باوجود، وہ ہمارے کل برآمدات کے نصف سے زیادہ کا حامل ہے اور ہمارے ملک میں ہونے والی بین الاقوامی سرمایہ کاری کا بھی بڑا حصہ رکھتا ہے، اس لیے ہمیں اقتصادی پہلو کو بدستور مضبوط رکھنا ہوگا۔”

"ہم نئی مارکیٹیں تلاش کرکے اپنی برآمدات کو بہتر بنائیں گے جبکہ موجودہ مارکیٹوں کو بھی بڑھائیں گے”

صدر ایردوان نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "ہم اپنے ملک پر زرِ مبادلہ کے فرضی حملے پر یورپ کی خاموشی کے باوجود اپنے مستقل اور مربوط مؤقف پر کوئی سودے بازی نہیں کریں گے۔ ایک جانب ہم ترقی یافتہ ممالک، بالخصوص یورپ کے ساتھ، اپنے تجارت کے قواعد کے پابند ہیں۔ دوسری جانب ہم موجودہ مارکیٹوں کو پھیلانے کے ساتھ ساتھ نئی مارکیٹوں کو اپنی برآمدات میں بھی اضافہ کریں گے۔”

سیاسی و اقتصادی دونوں لحاظ سے عالمی پیمانے پر ایک نیو ورلڈ آرڈر تیار کرنے کے عمل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے صدر ایردوان نے زور دیا کہ یہ عمل ترکی سے بھی متعلق ہے جو ایسے گروپ کا حصہ ہے جس میں وہ امریکا، یورپی یونین، چین، روس، جاپان اور بھارت کے بعد عالمی معیشت میں آتا ہے۔

"جب تک ترکی اپنے اہداف سے وابستہ رہے گا اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں رہ سکتی”

2023ء میں جمہوریہ کے 100 سال مکمل ہونے پر ترکی کو دنیا کی 10 سب سے بڑی معیشتوں میں لانے کے ہدف کا اعادہ کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ متعلقہ وزارتوں اور مرکزی بینک کے عہدیدار جاپان میں رواں مہینے کے اختتام پر ہونے والے جی20 اجلاس کے لیے تیاری جاری رکھتے ہوئے ہیں۔

صدر رجب طیب ایردوان جاپان میں جی20 اجلاس کے موقع پر امریکا، چین، روس اور جرمنی کے سربراہانِ مملکت کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے اور دو طرفہ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے مستقبل کے اقدامات کی خاطر 2 جولائی کو چین کا دورہ بھی کریں گے۔

ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس سے قبل ترکی کے مصروف ایجنڈے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ جب تک ترکی اپنے اہداف سے وابستہ رہے گا، اس کی راہ میں حائل کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں رہ سکتی۔”

مشرقی بحیرۂ روم میں تازہ ترین پیشرفت

مشرقی بحیرۂ روم میں تازہ ترین پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی ان علاقوں میں اپنی ڈرلنگ اور تلاش کی سرگرمیوں کو جاری رکھے گا کہ جو اسے تفویض کیے گئے۔ ترک مسلح افواج کے متعلقہ دستوں نے کسی بھی ممکنہ خطرے سے حفاظت کے لیے ترکی کے ڈرلنگ جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں، جبکہ ترکی کی ڈرلنگ سرگرمیوں کے حوالے سے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکروں کے بیان پر صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی بحیرۂ روم میں ایک ساحلی ریاست ہے اور قبرص میں ایک ضامن طاقت بھی۔ "فرانس کے صدر چاہتے ہیں کہ ہم قدرتی وسائل کی اس تلاش سے دستبردار ہو جائیں۔ آپ کہہ کیا رہے ہیں؟ آپ کا اس سے کیا لینا دینا؟ ہم یہاں ایک ساحلی ریاست ہیں۔ ہم قبرص میں ضامن ہیں۔ یونان ضامن ہے۔ برطانیہ ضامن ہے۔ آپ کون ہیں؟ آپ کو کوئی استحقاق حاصل نہیں۔”صدر مملکت نے کہا۔

تبصرے
Loading...