ترکی میں بیرونِ ملک سے سیاحوں کی آمد میں 3.8 فیصد اضافہ ہوا، پھر کروناوائرس آ گیا

0 598

ترکی میں فروری کے مہینے میں بیرونِ ملک سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں تقریباً 3.8فیصد اضافہ ہوا حالانکہ تب کروناوائرس عالمی سطح پر پھیل رہا تھا اور دنیا بھر میں سفر پر پابندیاں لگناشروع ہو چکی تھی۔

وزارت ثقافت و سیاحت کے اعداد و شمار کے مطابق پچھلے مہینے میں 1.73 ملین غیر ملکی ترکی آئے، جبکہ ایک سال پہلے یہ تعداد 1.67 ملین تھی۔چین سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں بڑی کمی آئی کہ جہاں دسمبر میں ووہان کے شہر سے کروناوائرس نکلا وار پھر دنیا بھر میں پھیل گیا کہ جس سے بین الاقوامی سفر محدود ہوا۔

جنوری اور فروری کے مہینے میں ملک میں 3.52 ملین سیاح آئے، جو سال بہ سال میں 9.68 فیصد ہے۔

یہ عالمگیر وباء عالمی سیاحتی صنعت کو باقاعدہ طور پر بند کر چکی ہے۔ فروری میں کئی ممالک میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد کم ہوئی حالانکہ ابھی بڑی سفری پابندیاں نہیں لگی تھیں۔

یہ وباء عین اس وقت آئی جب ترکی کی سیاحتی صنعت بحالی کے ایک مستحکم دور میں داخل ہی ہوئی تھی اور ملک میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا۔ لیکن اب وہ اگلے سیاحتی سیزن میں بھاری نقصان کا سامنا کر رہی ہے کیونکہ کروناوائرس نے سفری پابندی عائد کی ہیں اور عوام نے سیاحت کے ارادے ترک کر دیے ہیں۔ سیاحت کی صنعت پر اس عالمگیر وباء کے اثرات مارچ کے اعداد و شمار میں واضح ہوں گے۔ واضح رہے کہ سیاحت کی صنعت ترکی کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے اور قومی معیشت میں 12 فیصد حصے کی حامل ہے۔

حکومت سیاحتی صنعت کی مدد کے لیے اقدامات پہلے ہی اٹھا چکی ہے۔ پچھلے ہفتے وزراء اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقات کے بعد صدر رجب طیب ایردوان نے معیشت کو سہارا دینے اور مشکلات میں مدد کے لیے ایک امدادی پیکیج کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاحتی اکوموڈیشن ٹیکس نومبر تک معطل کر دیا گیا ہے جبکہ اس وباء سے متاثر اداروں کی قرض ادائیگی بھی کم از کم تین ماہ کے لیے معطل کر دی گئی ہے۔

ملک کے سرکاری و نجی اداروں نے سوموار کو آسان قرضوں کا بھی اعلان کیا، خاص طور پر سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کے لیے۔

ترکی ان چند ملکوں میں سے ایک ہے کہ جس نے فروری کے اوائل میں ہی چین سے پروازیں روک دی تھیں، جس کی وجہ سے چینی سیاحوں کی آمدمیں بہت کمی آئی۔ گزشتہ سال فروری میں چین سے 31,074 سیاح آئے تھے جبکہ اس سال یہ تعداد صرف 5,644 رہی، یعنی 82 فیصد کی کمی۔ جنوری اور فروری کے مہینوں کو ملائیں تو یہ 48 فیصد کی کمی بنتی ہے۔

بیرونِ ملک سے آنے والے تمام غیر ملکی سیاحوں میں سے 9.18 فیصد جرمن ہیں جن کی کُل تعداد پچھلے مہینے 1,59,000 رہی۔ فروری میں ترکی نے بلغاریہ سے آنے والے 1,52,000 یعنی کُل بین الاقوامی سیاحوں کا 8.79 فیصد اور جارجیاسے 1,32,000 یعنی 7.65 فیصد کا خیر مقدم کیا۔

97,547 سیاح ایران سے آئے جو کروناوائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ 17,305 سیاح اٹلی سے آئے کہ جو اس وقت چین سے باہر سب سے زیادہ متاثرہ ممالک مین سے ایک ہے۔ تقریباً 45,000 سیاح ایک اور متاثرہ ملک فرانس سے آئے۔

ملک کے سب سے بڑے شہر استنبول نے 9,62,000 سیاحوں کی میزبانی کی، یعنی ملک میں آنے والے کل سیاحوں کا 55.5 فیصد۔

2019ء میں ملک نے تاریخ میں سب سے زیادہ 45 ملین غیر ملکی سیاحوں کی میزبانی کی۔ سمجھا جا رہا تھا کہ 2020ء میں 58 ملین سیاح آئیں گے اور سیاحت کا شعبہ 40 ارب ڈالرز کی آمدنی حاصل کرے گا لیکن سال کا آغاز ہی کروناوائرس کی عالمگیر وباء سے ہوا اور جنور ی میں 1.8 ملین سیاحوں کی آمد سے اچھا آغاز ملنے کے باوجود مستقبل اندیشوں سے بھرپور ہے۔

ترکی میں کروناوائرس سے اب تک 37 اموات ہو چکی ہیں، جبکہ تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 1529 تک پہنچ چکی ہے۔ اسکول، چائے خانے اور مے خانے بند ہو چکے ہیں، نمازِ باجماعت پر پابندی ہے اور اسپورٹس لیگ کے مقابلے مؤخر کر دیے گئے ہیں، ساتھ ساتھ 70 ممالک کے لیے پروازیں روک دی گئی ہیں۔

تبصرے
Loading...