غیر ملکی محض خریداری کے لیے استنبول ایئرپورٹ آنے لگے

0 935

ہوائی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ ترکی کا نیا استنبول ایئرپورٹ اب ایک بہت بڑا شاپنگ مال بھی بنتا جا رہا ہے کیونکہ اب ایک نیا رحجان جنم لے رہا ہے کہ غیر ملکی ایک دن کے لیے استنبول آتے ہیں، ایئرپورٹ پر خریداری کے جدید مراکز کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور اسی روز واپس وطن روانہ ہو جاتے ہیں۔

اس عظیم ہوائی اڈے پر دنیا کے سب سے بڑے ڈیوٹی فری آپریٹر Heinemann کے تحت چلائے جانے والے ڈیوٹی فری ادارے یونی فری ڈیوٹی فری کے CEO علی شین ہر نے کہا کہ "بیرونِ ملک سے آنے والے ایسے مہمان بھی ہیں جو محض استنبول ایئرپورٹ کے ڈیوٹی فری حصے میں خریداری کے لیے یہاں کا رُخ کر رہے ہیں۔”

ایسے زیادہ تر مسافروں کا تعلق مشرق وسطیٰ سے ہے، شین ہر نے صحافیوں کو بتایا۔ "ہمارے پاس ایسے خریدار بھی آتے ہیں جو صبح کی پروازوں سے مشرق وسطیٰ سے نکلتے ہیں، پھر ترکش ایئرلائنز اور IGA کا لاؤنج استعمال کرتے ہیں، ہماری دکانوں سے خریداری کرتے ہیں اور پھر شام کی پرواز سے وطن واپس چلے جاتے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ مارچ کے بعد اس رحجان میں اضافے متوقع ہے۔

استنبول ایئرپورٹ پر عالمی سطح پر معروف برانڈز مسافروں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ 56،000 مربع میٹرز رقبے پر پھیلا یعنی تقریباً 9 فٹ بال میدانوں جتنا یہ خریداری مرکز 133 اسٹورز، 1،500 برانڈز اور 50،000 مختلف مصنوعات رکھتا ہے۔

چینی سب سے بڑے خریدار

"اس سال کے اختتام تک تقریباً 70 لاکھ صارفین کو خدمات فراہم کر لیں گے۔ ہمارا ہدف 2020ء میں ایک کروڑ مسافروں کو خدمات پہنچانا ہے،” انہوں نے کہا۔ استنبول ایئرپورٹ پر آنے والے 23 سے 24 فیصد مسافر خریداری بھی کرتے ہیں۔ کمپنی کے 70 لاکھ صارفین میں سے تقریباً 75 فیصد غیر ملکی جبکہ باقی ترک تھے۔

شین ہر نے بتایا کہ ترکوں کے بعد سب سے زیادہ صارفین چین سے ہیں۔ ان کے بعد روسی، جرمن، یوکرینی، ایرانی اور عراقی آتے ہیں۔ دیگر میں امریکی، فرانسیسی، برطانوی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے باشندے ہیں۔

ڈیوٹی فری میں ہونے والی تقریباً 75 فیصد فروخت غیر ملکی خریداروں کو ہوتی ہے۔ شین ہر نے زور دیا کہ 82 فیصد آمدنی روانگی کے ٹرمینل سے ہوتی ہے یعنی ترک مصنوعات کی بیرونِ ملک زبردست فروخت ہے اور یوں ملک کو اہم غیر ملکی زرِ مبادلہ بھی ملتا ہے۔ باقی 18 فیصد آمدنی آمد کے ٹرمینل پر ہوتی ہے کہ جہاں 60 فیصد فروخت ترکوں کو ہوتی ہے۔

ترکوں سے پیچھے ہونے کے باوجود چینی فی کس ترکوں سے دو گُنا خرچ کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فی مسافر اوسط 45 یوروز کی خریداری ہوتی ہے، اور چینی صارفین اس اوسط سے تین گنا زیادہ خرچ کرتے ہیں۔

خوشبویات اور جلد کی دیکھ بھال کی مصنوعات سب سے آگے

خریداری رحجان پر بات کرتے ہوئے یونی فری کے CEO نے کہا کہ چینی سب سے زیادہ جلد کی دیکھ بھال کی مصنوعات اور خوشبویات کو ترجیح دیتے ہیں۔ دوسری جانب جرمن باشندوں میں تمباکو سب سے زیادہ مقبول ہے جبکہ یوکرینی، روسی، عراقی اور ایرانی بھی زیادہ تر خوشبویات کو ہی پسند کرتے ہیں۔

مصنوعات کے زمرے میں خوشبویات، آرائش و زیبائش اور جلد کی دیکھ بھال کی مصنوعات سب سے زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔ شین ہر نے بتایا کہ کُل آمدنی کا تقریباً 50 فیصد انہی مصنوعات سے ملتی ہے۔ ان کے بعد لوازمات، کپڑے، مقامی مصنوعات، کھانے پینے کی اشیاء اور چاکلیٹ سب سے زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔

90,000 یورو کا زیور

ایئرپورٹ پر سب سے بڑی خریداری کے حوالے سے شین ہر نے بتایا کہ ایک چینی صارف نے ایسا زیور خریدا تھا کہ جس کی قیمت تقریباً 90،000 یورو تھی۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ایک صارف نے 50،000 یورو مالیت کی ایک گھڑی خریدی تھی۔ مشرقِ بعید سے تعلق رکھنے والے ایک صارف نے جلد کے لیے ایک کریم خریدی جو 3،500 یورو کی تھی۔ چین، مشرق وسطیٰ اور مشرقِ بعید سے تعلق رکھنے والے مسافر ذرا عمدہ چیزیں خریدتے ہیں۔ امریکا اور برطانیہ کے لوگ اُن سے پیچھے ہیں۔

کھانے پینے کی چیزوں کے بارے میں شین ہر نے بتایا کہ روزانہ تقریباً 30،000 ٹن کھانے پینے کی اشیاء فروخت ہوتی ہیں۔ جن میں ترک پشمینہ، ترکش ڈیلائٹ، بقلاوہ اور دیگر ترک مصنوعات کی طلب سب سے زیادہ ہے۔

یونی فری نے ڈیوٹی فری شاپس چلانے کے لیے استنبول ایئرپورٹ کے ساتھ 25 سال کا معاہدہ کر رکھا ہے اور اب تک اس خریداری مرکز پر 1.2 ارب ترک لیرا کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔

900 ملین یورو آمدنی کا ہدف

2019ء کو ایک کامیاب سال قرار دیتے ہوئے شین ہر نے کہا کہ کمپنی اِس سال کا اختتام تقریباً 35 فیصد اضافے کے ساتھ کر رہی ہے جبکہ استنبول ایئرپورٹ نے 2020ء کے لیے 900 ملین یورو آمدنی کا ہدف طے کیا ہے۔

یونی فری اس وقت آٹھ ممالک کے 22 مختلف ہوائی اڈوں پر تقریباً 1,40,000 مربع میٹرز کا علاقہ رکھتا ہے ، جاں اس کے 3،700 ملازمین ہیں۔

استنبول کے عظیم ایئرپورٹ کے پہلے مرحلے کا افتتاح 29 اکتوبر 2018ء کو ترک جمہوریہ کے قیام کے 95 سال مکمل ہونے پر کیا گیا تھا اور حال ہی میں اس نے اپنی پہلی سالگرہ منائی ہے۔ ایئرپورٹ نے اپنے پہلے سال میں تقریباً 40.47 ملین مسافروں کو خدمات فراہم کی ہیں۔

شہر سے 30 کلومیٹرز دور بحیرۂ اسود کے ساحل پر واقع اس ہوائی اڈے سے 31 اکتوبر کو کمرشل پروازوں کا آغاز ہوا یہاں تک کہ 8 اپریل کو پہلا مرحلہ مکمل طور پر آپریشنل ہو گیا اور اتاترک ایئرپورٹ سے ٹریفک یہاں منتقل ہونا شروع ہو گیا۔ اس دوران ہزاروں ٹن سامان شہر سے نئے ایئرپورٹ پر منتقل کیا گیا کہ جسے بلاشبہ ہوا بازی تاریخ کا سب سے بڑا لاجسٹک آپریشن کہا جا سکتا ہے۔

موجودہ مرحلے میں یہ ایئرپورٹ سالانہ 90 ملین مسافروں کو خدمات دے سکتا ہے، جو کہ بہت بڑی تعداد ہے لیکن تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد یہ تعداد ناقابلِ یقین 200 ملین تک پہنچ جائے گی۔

ایک مرتبہ مکمل آپریشنل ہو جانے کے بعد یہ مسافروں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ ہوگا۔ ایئرپورٹ کی تعمیر و توسیع کے تمام چار مراحل 2028ء تک مکمل ہونا متوقع ہیں کہ جہاں چھ رن وے ہوں گے۔ اس عالمی ہوا بازی مرکز سے 100 ایئرلائنز دنیا بھر کے 300 مقامات کے لیے پروازیں بھریں گی۔

تبصرے
Loading...