ترکی میں جنگل کی آگ نئے مقامات پر بھی، مغربی اور جنوبی علاقے بدستور خطرے کی زد میں

0 635

ترکی نے 32 صوبوں کے 152 مقامات پر لگنے والی جنگل کی آگ پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے لیکن نئے مقامات پر آگ بھڑک اٹھنے سے مسائل میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

ایک ہفتہ قبل مناوگات میں بھڑکنے والی آگ اب بھی جاری و ساری ہے جبکہ جبکہ اسپارتا، دینزیلی، بالق اسیر اور مانیسا میں گزشتہ دو دنوں کے دوران جنگلات کی نئی آگ بھڑک اٹھی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق انطالیہ کے مناوگات اور غندوغمش اضلاع میں دو مقامات پر بڑی آگ اب بھی لگی ہوئی ہے۔ سیاحوں میں مقبول مغلہ سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے کہ جہاں 13 میں سے پانچ مقامات اب بھی خطرے کی زد میں ہیں اور مارماریس، کوئے چیغز، منتشہ اور میلاس کے دیہی علاقوں میں بھی آگ پھیل رہی ہے۔

بدھ کو وزارت جنگلات نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ آٹھ دنوں میں 39 صوبوں میں 174 مقامات پر جنگل کی آگ لگی تھی، جن میں سے اب تک 160 پر قابو پایا جا چکا ہے۔ وزارت نے کہا کہ 16 پانی پھینکنے والے طیارے، 9 ڈرونز، 45 ہیلی کاپٹرز اور تقریباً 5,250 فائر فائٹرز اس آگ کو بجھانے کے لیے متحرک ہیں۔

میلاس میں جنگل کی آگ تھرمل پلانٹ کو گھیر چکی ہے اور اس وقت تنصیب سے صرف ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شعلوں کو پلانٹ تک پہنچنے سے روکنے کے لیے خندقیں کھودی گئی ہیں۔ میلاس کے میئر محمد طوقات بتاتے ہیں کہ گزشتہ رات شعلے پلانٹ کی دیوار تک پہنچ گئے تھے، جنہیں اب بجھا دیا گیا ہے۔ اس عمل میں دو جہاز اور چار ہیلی کاپٹرز زمین پر موجود فائر فائٹرز کی مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاور پلانٹ نے اپنا کام دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ البتہ احتیاطاً پلانٹ پر آتش گیر مادہ رکھنے والے ٹینک خالی کر دیے گئے ہیں۔

گزشتہ بدھ کو ترکی کے مختلف مقامات پر لگنے والی جنگل کی آگ سے اب تک آٹھ افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ درجنوں ہسپتالوں میں داخل ہیں۔ مرنے والوں میں گھروں میں پھنس جانے والے بزرگ کے علاوہ مناوگات میں دو فائر فائٹرز اور مارماریس میں عملے کی مدد کرنے والا ایک نوجوان رضاکار بھی شامل ہیں۔

تبصرے
Loading...