سابق وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو نے آق پارٹی سے استعفیٰ دے دیا

0 770

سابق وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو نے جمعے کو ترکی کی حکمران انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) سے استعفیٰ دے دیا۔ پارٹی کی انضباطی کمیٹی نے ان کے اخراج کا مطالبہ کیا تھا۔

انقرہ میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں احمد داؤد اوغلو نے کہا کہ انہوں نے "پارٹی چیئرمین کے اخراج سے حامیوں کو پہنچنے والے صدمے کو مدنظر رکھتے ہوئے استعفیٰ دیا ہے۔”

آق پارٹی کی سینٹرل کمیٹی نے داؤد اوغلو، سابق آق پارٹی اراکین ایہان صفر اوستن، سلجوک اوزداغ اور عبد اللہ باشچی کو 2 ستمبر کو انضباطی کمیٹی طلب کیا تھا تاکہ انہیں پارٹی سے خارج کیا جائے۔ جمعے کو استعفیٰ دینے والوں میں سابق آق پارٹی استنبول صوبائی چیئرمین سلیم تیمورجی بھی شامل ہیں۔

داؤد اوغلو، جنہوں نے مئی 2016ء میں تنظیم کے ساتھ بڑھتے اختلاف کی وجہ سے پارٹی قیادت سے استعفیٰ دے دیا تھا، نے 31 مارچ کے مقامی انتخابات کے بعد کھلی تنقید کی تھی۔

سابق وزیر اعظم مبینہ طور پر ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے والے ہیں۔ وہ حالیہ انٹرویوز میں حکومت کے خلاف کافی کھل کر بولے ہیں اور انہیں امید ہے کہ آق پارٹی کی چند شخصیات کو توڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

اس سے پہلے سابق نائب وزیر اعظم علی بابا بھی 8 جولائی کو استعفیٰ دے چکے ہیں، جو نئی سیاسی جماعت کی ایک اور اہم شخصیت ہوں گے۔

ایک حالیہ انٹرویو میں باباجان نے کہا کہ ان کی تحریک کا مقصد 2020ء سے پہلے نئی سیاسی جماعت قائم کرنا ہے۔

تبصرے
Loading...