فرانس کی میزبانی میں بحیرۂ روم اجلاس، ترکی شامل نہیں

0 154

فرانسیسی صدر ایمانوئیل ماکروں نے مشرقی بحیرۂ روم میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر اس سمندر کے کنارے واقع ریاستوں کا ایک اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔ جس میں ترکی شامل نہیں ہے۔

‘EuroMed7’ نامی یہ غیر رسمی گروپ یورپی یونین کے 7 اراکین پر مشتمل ہے، جسے "Club Med” بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا پہلا اجلاس 2016ء میں ہوا تھا۔

فرانسیسی جزیرے کورسیکا پر ہونے والے اجلاس میں میزبان فرانس، اٹلی، مالٹا، پرتگال اور اسپین کے علاوہ مشرقی بحیرۂ روم میں واقع یورپی یونین کے اراکین یونان اور یونانی قبرص شامل ہوں گے۔

فرانس مشرقی بحیرۂ روم میں کشیدگی کے معاملے پر یونان اور یونانی قبرص کی پشت پناہی کر رہا ہے کہ جو خطے میں تیل و گیس کے وسائل کی تلاش پر پیدا ہوا۔

اجلاس کا مقصد "رواں ماہ یورپی یونین اجلاس سے قبل ترکی کے ساتھ یورپی یونین کے تعلقات پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں پیش رفت” ہے۔

فرانسیسی صدر کے ترجمان کے مطابق فرانس انقرہ کے ساتھ تعلقات میں ایک "وضاحت” چاہتے ہیں جو ایک "اہم” شراکت دار ہونا چاہیے۔

ترکی ان ممالک میں سے ایک ہے جو یونین کے ساتھ طویل ترین تاریخ رکھتا ہے اور اس میں مذاکرات کا سب سے طویل عمل بھی شامل ہے۔ ملک نے 1964ء میں یورپی یونین میں شرکت کا معاہدہ کیا تھا کہ جو عام طور پر رکن بننے کی جانب پہلا قدم سمجھا جاتا ہے۔ 1987ء میں باضابطہ طور پر درخواست دینے کے بعد ترکی کو 1999ء تک انتظار کرنا پڑا جب اسے رکنیت کا امیدوار قرار دیا گیا۔

اس وقت چند رکن ریاستیں یورپی یونین اجلاس میں ترکی کے خلاف پابندیاں لگانے پر زور دے رہی ہیں، جن میں خود فرانس کے وزیر خارجہ ژاں-ایو لی دریاں بھی کہتے پائے گئے کہ پابندیوں جیسے اقدامات پر بھی بات ہو رہی ہے۔

اجلاس سے قبل ماکروں نے یونانی وزیر اعظم کیریاکوس مسوتاکس سے ملاقات بھی کی۔

یونانی میڈیا کا کہنا ہے کہ فرانس کی جانب سے رافال طیاروں کی ممکنہ فروخت پر بھی گفتگو ہو سکتی ہے، جو پیرس اور ایتھنز کے مابین مضبوط ہوتے تعلقات کی علامت ہوگی۔

ترکی اور یونان کے تعلقات کئی دہائیوں سے تنازعات سے دوچار ہیں لیکن حالیہ کشیدگی مشرقی بحیرۂ روم میں گیس کی تلاش کے معاملات پر پیدا ہوئی ہے، جس کی وجہ سے حالات اب بہت خراب ہو گئے ہیں۔

یونان چاہتا ہے کہ وہ خطے میں ترکی کی جانب سے توانائی کی تلاش کی کوششوں کو روکے، جبکہ انقرہ کہتا ہے کہ ایسا کرنا اس کا حق ہے۔ ایتھنز نے ترکی کی بحری سرحدوں کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں اور اس کے لیے ترک ساحلوں کے قریب واقع اپنے چند جزائر کو جواز بنا رہا ہے۔

انقرہ طویل عرصے سے خطے میں اپنے حق کا تحفظ کرنے کے لیے یونان کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات پر زور دے رہا ہے۔ ترکی کا یہ بھی کہنا ہے کہ قبرص کے قریب واقع توانائی وسائل کو ترک جمہوریہ شمالی قبرص اور یونانی قبرص کے مابین مناسب انداز میں تقسیم ہونا چاہیے۔

یونان کے دفاعی ذرائع نے پچھلے مہینے اعلان کیا تھا کہ وہ مشرقی بحیرۂ روم میں فرانس کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقیں کرے گا۔ ان مشقوں میں فرانس کے رافال لڑاکا طیارے بھی شامل تھے، کریٹ کے جزیرے پر ہوئیں جس کے بعد فرانس نے اعلان کیا کہ وہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھائے گا۔

بہرحال، کورسیکا میں اجلاس سے پہلے یونانی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کو ترکی پر پابندیاں لگانی چاہئیں یہاں تک کہ انقرہ مشرقی بحیرۂ روم کے متنازع علاقے سے اپنے بحری جہاز ہٹا لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم مذاکرات چاہتے ہیں، لیکن یہ گن پوائنٹ پر نہیں ہونے چاہئیں۔ ہمارے ملک کی سلامتی اور استحکام کے ساتھ تمام یورپی یونین کے اراکین کو بھی خطرہ لاحق ہوگا۔”

ترک حکام مشرقی بحیرۂ روم میں فرانس کی مداخلت پر تنقید کر رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ اس خطے سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے اور وہ محض اپنے مفادات کے لیے یونان کو استعمال کر رہا ہے۔

تبصرے
Loading...