قبرص میں فرانسیسی لڑاکا طیاروں کی موجودگی 1960ء کے قبرص معاہدوں کی خلاف ورزی ہے، ترکی

0 214

یونان اور اٹلی کے ساتھ مشقوں کے نام پر یونانی قبرص میں فرانسیسی لڑاکا طیاروں کی عارضی یا مستقل تعیناتی قبرص پر 1960ء کے معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔

ترک وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "فرانس قبرص کی ضامن ریاست نہیں ہے، جس نے قبرص اور یونان کی پشت پناہی کی ہے کہ جو مشرقی بحیرۂ روم میں کشیدگی بڑھانے کے ذمہ دار ہیں کہ وہ معاملات کو مزید آگے خطرناک نہج تک لے جائیں۔”

اس میں مزید کہا گيا ہے کہ ترکی اور ترک قبرص کو تنہا کرنے کی تمام کوششیں رائیگاں جائیں گی۔

اس سے پہلے ترک جمہوریہ شمالی قبرص (TRNC) کے وزیر اعظم ارسین تاتار نے یونان، فرانس اور اٹلی کی مشترکہ جنگی مشقوں پر سخت تنقید کی تھی اور اسے "بین الاقوامی قوانین کے خلاف” قرار دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ "یہ مشقیں غلط ہیں اور بین الاقوامی قانون کے خلاف ہیں۔ اٹلی اور فرانس جغرافیائی طور پر کہاں واقع ہیں؟ وہ کیسے یہاں آ سکتے ہیں، مشقیں کر سکتے ہیں اور دعویٰ کر سکتے ہیں؟”

مشقوں کا آغاز بدھ سے ہو رہا ہے اور یہ جمعے تک جاری رہیں گی۔

یونان نے مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی کی تیل و گیس کی تلاش کی کوششوں پر تنقید کی ہے، اور ترکی کی بحری حدود کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے، وہ بھی ترک ساحل کے ساتھ واقع چند چھوٹے جزائر کی بنیاد پر۔

ترکی، کہ جو بحیرۂ روم کے ساتھ سب سے طویل سرحد رکھتا ہے، نے براعظمی کنارے (continental shelf) پر تیل و گیس و ذخائر کی تلاش کے لیے اپنے ڈرل شپس بھیجے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ ترکی اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص (TRNC) اس علاقے کے قدرتی وسائل پر حق رکھتے ہیں۔

تبصرے
Loading...