صدر ایردوان کا دورۂ افریقہ، فرانسیسی میڈیا کی نظریں ترک ڈرونز پر

0 205

ترکی کے تیار کردہ ڈرون طیاروں کی خبریں ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔

اس بار فرانسیسی ذرائع ابلاغ صدر رجب طیب ایردوان کے دورۂ افریقہ پر کڑی نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ معروف اخبار ‘لی فگارو’ کا کہنا ہے کہ ترک صدر نے 2000ء کی دہائی کے اوائل ہی میں اندازہ لگا لیا تھا کہ "مغربی نو آبادیاتی قوتوں” کی افریقہ میں دلچسپی ختم ہو رہی ہے اور ترکی نے صومالیہ اور لیبیا جیسے "مسلم افریقی ممالک” میں اپنی موجودگی کو بڑھانے کا آغاز کیا۔

اس نے یہ بھی کہا کہ ترکش ایئر لائنز واحد بڑی کمپنی ہے جو صومالی دارالحکومت مقدیشو کے لیے براہ راست پروازیں چلاتی ہیں، جہاں مغربی ممالک 1992ء سے 1994ء کے دوران فوجی آپریشنز کر چکے ہیں۔

رپورٹ کہتی ہے کہ صدر ایردوان کے دورۂ افریقہ کے دوران انگولا کو ترک ڈرونز کی ممکنہ فروخت پر بات کی گئی جبکہ نائیجیریا کے دورے میں بھی ایسے ہی مذاکرات متوقع ہیں۔ بیراتکار ٹی بی 2 ڈرونز ان کا انتخاب ہوں گے، کیونکہ یہ خود کو میدانِ جنگ میں ثابت کر چکے ہیں۔

اس رپورٹ میں خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ اس ڈرون نے عراق میں PKK دہشت گرد اسماعیل اوزدین کو ٹھکانے لگایا۔ مشترکہ آپریشن میں قومی انٹیلی جنس آرگنائزیشن اور ترک فوج نے 15 اگست 2018ء کو سنجر کے علاقے میں اوزدین کو ہلاک کیا تھا۔

یہ ڈرون لیبیا میں باغی جنرل خلیفہ حفتر اور روسی کرائے کے سپاہیوں کے خلاف بھی استعمال کیا گیا، اس نے شام کے صوبہ ادلب میں بشار الاسد کی حکومت کو شکست دی اور نگورنو قراباخ کے حالیہ تنازع میں آرمینیا کی قابض افواج کے خلاف آذربائیجان کی فتح کو بھی یقینی بنایا۔

لی فگارو نے ترک ڈرون کو ایک "غیر معمولی ہتھیار” قرار دیا اور کہا کہ یہ جنگی طیاروں سے 20 گنا سستا ہے اور اس میں پائلٹوں کی جان کو خطرہ بھی نہیں۔

اخبار سوال اٹھتا ہے کہ فرانس کیوں ڈرونز کی پیداوار میں امریکا اور اسرائیل "بلکہ ترکی” سے بھی پیچھے ہے۔

رپورٹ کہتی ہے کہ ترکی افریقہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو معاشی پیمانے پر دیکھتا ہے، جس میں سلامتی کے معاملات بھی آ جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ فرانسیسی سرکاری ریڈیو RFI نے بھی کہا ہےکہ صدر ایردوان انگولا، نائیجیریا اور ٹوگو کا دورہ کر کے افریقہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور ترکی اور افریقہ کے مابین تزویراتی شراکت داری کو مضبوط کرنے کے لیے معیشت محض ایک پہلو ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ ترکی ایتھوپیا، تونس اور مراکش کو ڈرونز فروخت کرتا ہے جو "مغربی مصنوعات کے مطابق میں سستے اور چینی ڈرونز سے بہتر معیار کے ہیں۔”

واضخ رہے کہ انگولا سے قبل یوکرین اور پولینڈ بھی ترکی سے ڈرونز خریدنے کی بات کر چکے ہیں۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: