رجیم تبدیلی کی امریکی دھمکی: کیا ایردوان سے کچھ سیکھا جا سکتا ہے؟

0 2,166

اگست 2020ء میں امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایک پالیسی تھنک ٹینک میں کھلے عام کہا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد ترک اپوزیشن کی مدد کرتے ہوئے ایردوان کو اقتدار سے الگ کر دیں گے۔ یہ کوئی سفارتی مراسلے میں دی گئی دھمکی نہیں تھی، بلکہ ایک ویڈیو ریکارڈ کے ذریعے جوبائیڈن کو ترکی سمیت دنیا بھر نے سنا جس میں وہ کھلے عام کہہ رہے تھے کہ "میں ترک قیادت میں ان کی مدد کر سکتے ہیں جو وہاں پر موجود ہیں اور مزید آگے بڑھ سکتے ہیں اور ایردوان پر قابو پا کر شکست دے سکتے ہیں۔ بغاوت سے نہیں، بالکل بغاوت سے نہیں بلکہ انتخابی عمل سے”۔

ابتدائی حکومتی ردعمل:

ترک وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو اسی دن ٹرمپ انتظامیہ کے سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو سے ملے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا اور کہا کہ  امریکہ نہیں، صرف ترک قوم ہی اپنی حکومت اور صدر کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کرسکتی ہے۔ انہوں نے جوبائیڈن کا یہ تسلط آمرانہ بیان مسترد کرتے ہوئے مزید کہا کہ  ان کا یہ بیان کہ 2023ء میں ترک اپوزیشن رجب طیب ایردوان کا تختہ الٹ دے، محض جہالت ہے اور وہ ترک ملت کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اب پرانا ترکی نہیں ہے۔

ترک صدارت اطلاعات کے صدر فرحت الدین آلتون نے جوبائیڈن کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اسے "ترکی کے خلاف سازش اور مداخلت پسندانہ روش” قرار دیا اور کہا کہ یہ بیان موجودہ (ٹرمپ انتظامیہ کے تحت) سفارتی تعلقات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ آلتون  نے اس موقع پر 2016ء میں ترکی میں ناکام بغاوت کا ذکر کرتے ہوئے ٹویٹر پر کہا، "کوئی بھی طاقت ہماری قوم کی رائے اور جمہوریت پر حملہ نہیں کر سکتی اور نہ ہی ہمارے صدر کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھا سکتی ہے، جسے عوامی ووٹوں سے منتخب کیا گیا ہو۔”

ترک صدر رجب طیب ایردوان کے ترجمان ابراہیم قالن نے جوبائیڈن کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "ترکی بارے جوبائیڈن کی رائے، خالص جہالت، تکبر اور منافقت پر مبنی ہے۔ ترکی کو ڈکشیٹشن دینے والے دن گزر چکے۔ اگر اب بھی آپ سوچتے ہیں تو کوشش کر سکتے ہیں، ہمارے مہمان بنیں۔ آپ کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔”

اس کے علاوہ بھی درجنوں سنئیر حکومتی عہدیداران اور آق پارٹی کے ذمہ داران نے اس جوبائیڈن کے اس بیان شدید ردعمل ظاہر کیا۔

ترک اپوزیشن کا ردعمل:

صرف حکومت کی طرف سے ہی نہیں ترک اپوزیشن کی طرف سے جوبائیڈن کے اس ارادے پر زبردست ردعمل دیکھنے کو ملا کیونکہ ترک اپوزیشن صاف جانتی ہے کہ انتخابات بارے یورپ یا امریکہ سے ان کے حق میں یا ایردوان کی مخالفت میں اٹھنے والی آواز، ان کی سیاست کے لیے نقصان دہ ہے۔ ترک قوم ہر چیز برداشت کر سکتی ہے لیکن بیرونی دخل اندازی قبول نہیں کر سکتی۔

مرکزی اپوزیشن جماعت جمہوریت خلق پارٹی سے تعلق رکھنے والے 2018ء میں ترک صدر ایردوان کے مدمقابل صدارتی امیدوار، محرم اینجے نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "جیسا کہ اتاترک نے کہا تھا: آزادی ہماری پہچان ہے۔ ترک گورنمنٹ کو تبدیل کرنے کی ذمہ داری ترک عوام کی ہے، تمہاری نہیں ہے جوبائیڈن”۔

ترک صدر ایردوان کے سابق ساتھی اور نئی اپوزیشن پارٹی ‘دیوا پارٹی’ تخلیق کرنے والے علی باباجان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "ترکی کی جمہوریت اس کی قوم اور سیاسی جماعتوں سے چلتی ہے اور اسے انتخابی کامیابی کے لیے کسی بیرونی حمایت کی ضرورت نہیں ہے”.

صدر ایردوان کے ایک اور ساتھی اور سابق وزیراعظم، مستقبل پارٹی کے نام سے نئی اپوزیشن پارٹی بنانے والے احمت داؤد اولو نے کہا کہ "ترک قوم واحد کردار ہے جس نے فیصلہ کرنا ہے کہ اس ملک پر کون حکومت کرے گا اور میری جماعت ترک قوم کی مرضی کے علاوہ کسی دوسری طاقت کو تسلیم نہیں کرتی ہے”۔

ترکی کی جماعت اسلامی سمجھی جانے والی حزب اختلاف کی سعادت پارٹی کے سربراہ تیمل کارامولا اولو  نے ایک تحریری بیان میں بائیڈن کے ریمارکس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کی پارٹی کسی بھی غیر ملکی کردار کو ترکی کی اندرونی سیاست ڈیزائن کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

اور جوبائیڈن امریکی صدر منتخب ہو گئے

امریکی صدارتی مہم کے دوران اس بیان کے بعد ترک قوم کی خواہش تھی کہ صدر ٹرمپ ایک بار پھر منتخب ہو جائیں لیکن جوبائیڈن نئے امریکی صدر کے طور پر ابھرے۔ ان کے بیان کے پیش نظر امکان تھا کہ ترکی اور امریکہ کے تعلقات خطرناک حد تک کمزور ہو جائیں گے۔

یہی ہوا، جوبائیڈن نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی بار صدر ایردوان کو کال کی جو اگرچہ قدرے دیر سے کی گئی تاہم اس کال کا سرا روسی صدر سے پہلے آیا۔ لیکن اس کال کے فوراً بعد ترکی کے دائیں بازو کی سیاست کرنے والوں بالخصوص حکمران پارٹی کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا اور امریکہ کے پہلے صدر بن گئے جس نے 1915ء میں عثمانیوں اور آرمینین کی جنگ کو آرمینین نسل کشی قرار دیا۔ اگرچہ پہلے رابطے میں صدر ایردوان سے کہا گیا تھا کہ وہ ترکی کے ساتھ "وسیع تر شعبوں کے ساتھ تعمیری دو طرفہ تعلقات اور اختلاف کے موثر انتظام میں دلچسپی” رکھتے ہیں۔

 

صدر رجب طیب ایردوان کی طرف سے جوبائیڈن کے اس اقدام کی شدید مذمت کی گئی۔ صدر ایردوان نے کہا، "اگر تم اسے نسل کشی کہتے ہو، تو پہلے تمہیں آئینے میں خود کو دیکھنا چاہیے اور خود کے بارے رائے دینا چاہیے”۔ اس موقع پر انہوں نے تاریخی حوالے دیتے ہوئے عثمانی ریاست کا دفاع کیا اور کہا کہ تاریخ کے بارے سیاستدانوں کو نہیں بلکہ اہل علم اور تاریخ دانوں کو فیصلہ ساز ہونا چاہیے۔

ترکی کی سفارتکارنہ حکمت عملی

جوبائیڈن کی دھمکی اور واضع عزائم کے باوجود صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت میں ترک حکومت نے امریکہ کا مقابلہ سفارتکارانہ حکمت عملی کا فیصلہ کیا۔ کیونکہ ترکی کی معاشی صورتحال اس کی اجازت نہیں دیتی تھی کہ تناؤ میں اضافہ کر کے ترک اپوزیشن کو اس کھیل میں مواقع فراہم کئے جائیں۔ اس کے ساتھ ترکی عالمی سطح پر اپنا خارجہ پالیسی میں تبدیلی لاتے ہوئے "نارملائزیشن ڈاکٹرائن” لانچ کر چکا تھا جس کے تحت متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، مصر اور اسرائیل سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کو نارمل سطح پر لانا تھا تاکہ ملکی معیشت کو بہتر کرتے ہوئے 2023ء کے انتخابات میں سازگار سیاسی ماحول پیدا کیا جا سکے۔

ترکی نے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے اختلافات پر بات کرنے کے لیے ایک میکانزم تیار کیا اور واشگٹن بھیجا تاہم جوبائیڈن انتظامیہ اس پر سنجیدہ دکھائی نہ دی۔ اسی دوران مختلف مواقعوں پر ترک صدر ایردوان کی امریکی ہم منصب سے ملاقاتیں بھی ہوتی رہیں۔ امریکہ کو میز پر لانے کے لیے ترکی نے نیٹو کا خوب استعمال کیا اور بالکل صرف ایف 16 کی فراہمی پر امریکہ نے آمادگی ظاہر کر دی۔ ترک صدر ایردوان نے محض مارچ 17 کے خط پر ان کے اقتدار کے خاتمے کی بات کرنے والے امریکی صدر جوبائیڈن سے دس بار فون کال پر بات کی۔ سفارتی اور دفاعی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان روابط شروع ہونے کے باوجود اس کے ترکی اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں ایردوان حکومت کو مطلوب توانائی نہیں مل رہی تھی۔

روس یوکرائن جنگ میں ترکی کا بطور قوت ابھرنا

روس یواکرائن جنگ سے قبل ہی ترکی نے اس معاملے پر روس اور یوکرائن، دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کا خوب استعمال کیا اور اس مسئلے کو جنگ کئے بغیر حل کرنے کی کوششیں کی۔ ہر دو ممالک کے صدور استنبول میں ملنے پر راضی ہو گئے۔ یہ صورتحال ترکی کو یورپی یونین اور امریکہ کی موجودگی میں علاقائی مسئلے کا پُرامن نکالنے والی قوت بنا سکتی تھی۔ امریکہ مسلسل تناؤ میں اضافہ کر رہا تھا اور چاہتا تھا کہ روس جنگ کی طرف قدم بڑھائے۔ بالاخر روس نے یوکرائن پر حملہ کر دیا۔ لیکن ترکی نے اپنی خارجہ پالیسی میں توازن قائم رکھتے ہوئے دونوں فریقین سے رابطہ قائم رکھا اور امن کی کوششیں جاری رکھیں۔

امریکہ اور نیٹو کا عملی طور پر ساتھ نہ دینے نے یوکرائن کو بہت مایوس کیا اور پھر یورپی یونین کی طرف اس کی مکمل رکنیت کا فیصلہ نہ آنے کے بعد اس نے فیصلہ کیا کہ وہ نیٹو کا حصہ نہیں بنے گا۔ دوسری طرف اس کی بھرپور مزاحمت نے روس کو مجبور کر دیا کہ میز پر آ جائے۔ ترکی اور دیگر ممالک نے اس میں کوششیں شروع کر دیں۔ صدر ایردوان نے روس اور یوکرائن کے سربراہان کے نام اپنے خصوصی پیغام میں دونوں فریقین کو نئے زمینی حقائق پڑھنے اور ان کے مطابق تیزی سے طرز عمل اپنانے پر زور دیا۔ ترک وزیر خارجہ نے دونوں ممالک کا دورہ کیا اور یوں دونوں نے ترکی میں مذاکرات شروع کر دئیے۔ یہ ایک بار پھر وہی صورتحال پیدا ہوئی جس میں ترکی کی سفارتکارانہ طاقت کو تسلیم کیا جا رہا تھا۔ امریکہ اور یورپی یونین مجبور ہوئے کہ خطے میں اپنے مفادات کو بچانے کے لیے ترکی کے ساتھ روابط بڑھائیں۔

درجنوں وفود اور سربراہان مملکت نے ترکی کا رخ کیا کیونکہ ایک اہم ترین مسئلے ترکی ہی وہ واحد ملک تھا جو کردار ادا کر رہا تھا۔ امریکہ نے بھی ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کرنے میں دلچسپی ظاہر کی اور اختلافات کو بالائے طاق رکھ دیا۔

روس اور یوکرائن کے ترکی میں مذاکرات شروع ہونے کے بعد ایک امریکی وفد، امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے صدارتی ترجمان ابراہیم قالن کے سامنے ہاتھ باندھے ہوئے

ترکی نے اس صورتحال کا خوب فائدہ اٹھایا اور کئی ممالک کی طرف سے ترکی پر عائد پابندیاں ہٹنے لگیں۔ برطانیہ اور کینڈا نے دفاعی پابندیاں ختم کر دیں۔ امریکہ نے بھی ایف 16 کی فراہمی کو اپنے مفادات سے جوڑتے ہوئے ترکی کو فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ لیکن ترکی اب اس سے زیادہ کا خواہشمند تھا۔ لہذا اسی امریکی انڈر سیکرٹری وکٹوریا نولینڈ نے 4 اپریل 2022ء کو انقرہ کا دورہ کر کے ترکی کے ساتھ تعلقات کو امریکہ کی ترجیح قرار دیا جس نے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو سابق وزیراعظم عمران خان سے نتھی کر دیا تھا۔

امریکہ اب ترکی کے ساتھ "نئی توانائی” کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لیے تیار ہے۔ اگرچہ ترک انتظامیہ انتہائی محتاط طریقے سے قدم بڑھا رہی ہے کیونکہ امریکہ کسی بھی وقت 2023ء کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے اپنا رویہ بدل سکتا۔ ترکی، امریکہ کو اپنی سفارتی جدوجہد میں جکڑنا چاہتا ہے تاکہ وہ 2023ء کے انتخابات پر کم سے کم اثر انداز ہو۔

امریکہ کی طرف سے ترکی پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اس صورتحال کا پہلا امتحان ہو سکتا ہے۔ بیک وقت، امریکی اور یورپی تھنک ٹینک یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ مغربی حکومتوں کو ترکی کے ساتھ زیادہ قریب سے کام شروع کرنے کے لیے 2023ء کے انتخابات تک انتظار کرنا چاہیے۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: