وہ اتحاد بنایا جا چکا ہے جو جنگ کو اسلام کے قلب تک لے جائے گا

0 1,160

ہفتہ کے روز سعودی عرب کی رائل عدالت نے شاہ سلیمان کا فیصلہ جاری کیا جس کے بعد عدلیہ اور فوجی کمانڈ میں تبدیلیاں لائی گئیں۔

سعودی عرب میں کرپشن کے خلاف ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں بننے والی ایک خصوصی کمیٹی نے 11 شہزادے، 4 موجودہ وزرائے مملکت اور 10 سے زائد سابقہ وزراء کو گرفتار کرنے کا حکم نامہ جاری ہے اور تمام افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

وزیر توانائی عبدل فقیح کی جگہ محمد التوایجری جبکہ نِشنل گاڈز کے سربراہ میتاب بن عبد اللہ کی جگہ خالد بن عائف کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

اینٹی کرپشن کمیشن کو خصوصی اختیارت دئیے گئے ہیں جن میں گرفتاری، جائیداد اور سرمایے کا ضبط کرنے سمیت دیگر کارروائی کرنا شامل ہے۔

تصویر:بشکریہ شفق نو

ترک اخبار شفق نو اور ٹی وی نیٹ کے ایڈیٹر انچیف ابراہیم کراگل نے اپنے تازہ کالم میں لکھا ہے کہ "یہ ایک خطرناک کھیل ہے، سعودی عرب میں ‘ماڈیٹ اسلام’ کے اعلان کی پشت پر کون ہے؟ سعودی حاکموں کی طرف سے ‘ماڈیٹ اسلام’ کا نعرہ لگایا جانا ایک خطرناک کھیل کا حصہ تھا اور ایک امریکی اسرائیل فرنٹ ترتیب پا چکا ہے”۔ انہوں نے مسلمان ممالک کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان جغرافیہ پر سب سے بڑا کھیل شروع ہو چکا ہے۔

کراگل نے لکھا ہے "ہم سعودی عرب میں ایک عجیب صورتحال دیکھ رہے ہیں۔ جس کے ساتھ متحدہ عرب امارات، مصر، اسرائیل اور امریکا کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ خطے میں ایک نئی صورت گری ہے جو خطہ ایران مخالف جذبات رکھتا ہے جبکہ حال میں ترکی مخالف ملک کی حیثیت پیدا کر چکا ہے اور خطے پر ترکی کے اثرات کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش میں مصروف رہا ہے”۔

مزید کہتے ہیں "ایک عجیب اتحاد، معذور قسم کا فرنٹ بنایا گیا ہے جس کا واضع مقصد ہے کہ سنی عرب دنیا کو ایک ہی محور میں لایا جائے جو امریکی اسرائیل محور ہے۔ مسلم عرب خطے کو متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے ذریعے محصور کیا جا رہا ہے اور اس کے تمام مارکیٹنگ پہلوؤں کو فقط سعودی عرب کے ذریعے پورا کیا جا رہا ہے”۔

ترکی الرٹ رہے

کراگل نے اپنی کئی ٹویٹس میں بھی توجہ پائی کہ حریری کا استعفی سعودی عرب میں کسی زلزلے سے کم نہیں ہے۔ کئی کلیدی عہدیدار اپنے عہدوں سے معزول کیے جا چکے ہیں۔ اور سب سے بڑی بات کہ امریکا اس صورتحال سے مکمل طور پر مطمئن ہے۔ اس صورتحال سے باقی دنیا کو دور رکھنے کے لیے عراق اور شام میں مزید کوئی کیفیت پیدا کی جا سکتی ہے لہذا ترکی کو الرٹ رہنا ہو گا”۔ انہوں نے کہا ” امریکا اور اسرائیل ایک تیز ترین اور خطرناک فرنٹ قائم کر چکے ہیں جو جنگ کو اسلام کے قلب تک دھکیلے گا۔ ترکی کو ہر صورت میں تیار رہنا ہو گا۔ متحدہ عرب امارات، مصر اور سعودی عرب کی اکائی امریکا اور اسرائیل کی اکائی کی طرف سے بنائی گئی ہے جو اسلام کی بڑی داخلی جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔ بیت المقدس کے بعد مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو اس اکائی کے زیر دست لانے کی صورت پیدا کی جا رہی ہے۔”۔

اس سے پہلے کہ کوئی ٹینک مکہ کی طرف بڑھے

کراگل نے مزید وارننگ دی کہ شام اور عراق میں ایک اہم فوجی مہم جوئی شروع ہو چکی ہے۔ وہ اب اس مہم کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر نہیں چلا سکتے۔ اب وہ عرب اور غیر عرب کی لڑائی بنانے لگے ہیں، ‘ماڈریٹ اسلام’ دراصل نئے عرب نیشنل ازم پروجیکٹ کا دوسرا نام ہے”۔

ایک اور نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں ہونے والی تبدیلیاں غیر متوقع ہیں اور ترک مخالف امریکی/اسرائیلی اکائی کی قیادت میں کی جا رہی ہیں۔ اس سے پہلے کہ کوئی ٹینک مکہ کا رخ کرے”۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ شام اور عراق میں ترکی کو مصروف رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔

 

تبصرے
Loading...