2 جولائی 2020ء کو کیا ہونے جا رہا ہے؟ کیا آیا صوفیا میوزیم کو واپس مسجد میں بدل دیا جائے گا؟

0 3,010

آیا صوفیا جسے 1453ء میں سلطان محمد فاتحؒ نے استنبول فتح کرنے کے بعد مسجد میں تبدیل کر دیا تھا۔ اس میں سورت الفتح پڑھی گئی اور اسے فتح کے اس دن کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ سلطان محمد فاتحؒ نے اس میں تاریخی فجر کی نماز ادا کی اور نبی اکرم ﷺ کی شہادت کو پورا کیا۔

مسجد میں تبدیل کرنے کے بعد اس میں مسجد کے مطابق کئی ادوار میں تبدیلیاں بھی کی گئیں۔ 1481ء میں اس کا پہلا مینار تعمیر کیا گیا۔ سلطان محمد فاتحؒ کے بعد سلطان محمد یایزید ثانی نے اس کا دوسرا مینار تعمیر کروایا۔ 1509ء میں استنبول میں آنے والے بڑے زلزلے میں اس کا پہلا مینار گر گیا جس کو دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ دیگر دو مینار سلطان سلیمان ثانی کے دور مسند میں بنائے گئے جس کی نگرانی اور انجنئرنگ معروف ترک معمار سنان نے کی۔ 19 ویں صدی میں مسجد میں منبر تعمیر اور وسط میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور چاروں خلفائے راشدین کے ناموں کی تختیاں نصب کی گئیں۔ اس طرح مختلف ادوار میں تبدیلیوں کے بعد اسے باقاعدہ مسجد بنا دیا گیا۔

سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد 1931ء میں امریکا بیزانس انسٹیٹیوٹ کے بانی معروف امریکی آرکیالوجسٹ تھامس وائٹ مور نے آیا صوفیا کے موزیک کو دوبارہ واپس قائم کرنے کے لیے ترکی سے باقاعدہ اجازت طلب کی۔ ترکی نے البتہ آیا صوفیا کے اسٹیٹس میں تبدیلی کے لیے کئی قسم کی تعمیرات کا آغاز کر دیا جس میں عبادت خانے، ظاہری وضع قطع اور جوار کو میوزیم کی شکل دینے کی کوشش کی گئی۔ 1935ء میں اس کو مجلس وزراء کی جانب سے مسجد سے میوزیم میں بدل دیا گیا۔ 86 سال اس میں مسلمانوں کے لیے عبادت کے لیے اسے بند رکھا گیا۔ کئی مواقعوں پر ترکی کی اعلیٰ انتظامی عدالت جسے دانش تائے کہتے ہیں وہاں یہ مقدمہ پیش کیا جاتا رہا ہے لیکن دانش تائے اس کو مسترد کرتی رہی ہے۔

اسی طرح ایک بار پھر آثار قدیمہ اور ماحولیاتی خدمات کی ایک تنظیم نے دانش تائے کے سامنے اپیل دائر کی گئی ہے کہ آیا صوفیا کو واپس مسجد بنانے کا اعلان کیا جائے اور اسے باقاعدہ عبادت خانے کے طور پر کھولا جائے۔ دانش تائے 2 جولائی کو اس پر اپنا فیصلہ سنائے گی۔ اپیل میں کہا گیا کہ 1935ء کی قرار داد پر بانی ترکی مصطفےٰ کمال اتاترک کے دستخط نقلی ہیں۔ اگر دانش تائے نے اس جواز کو قبول کر لیا تو آیا صوفیا کو واپس مسجد بنانے کا حکومت اعلان کر دے گی۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے گذشتہ روز ٹی آر ٹی خبر کو انٹرویو میں کہا تھا کہ اس ملک کے ڈائنامکس میں آگ لگا دینے والی ایک چیز موجود ہے۔ اس طرح کہ ہم بطور ایک قانونی حکومت کے طور پر دانش تائے کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔ فیصلہ کے بعد جو بھی ضروری اقدامات ہوئے ان کے مطابق قدم اٹھائیں گے۔

اس پس منظر میں دانش تائے کے گذشتہ سال کے کاریے میوزیم (Kariye Müzesi) بارے فیصلے کو بھی اہم سمجھا جا رہا ہے جسے 1945ء تک مسجد تھی لیکن بعد میں میوزیم بنایا دیا گیا تھا۔ دانش دائے نے 2019ء میں 74 سال بعد فیصلہ سنایا کہ مسجد کو اس کے بنائے گئے مقصد کے سوا کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ کاریے بھی فتح استنبول سے قبل ایک کلیساء ہوتا تھا اور اس کی تعمیر بھی بطور کلیساء ہوئی تھی لیکن فتح کے بعد اس کی تعمیر نو کی گئی اور اسے مسجد بنا دیا گیا۔

امسال فتح استنبول کے دن، آیا صوفیا میں باقاعدہ طور پر اذان کے ساتھ ساتھ سورت الفتح بھی تلاوت کی گئی۔ اس عمل کو یورپ اور بطور خاص یونان کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ترک صدر ایردوان نے یونان کو جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ترکی میں آپ حکومت نہیں کر رہے ہم حکومت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ترک صدر ایردوان آیا صوفیا کو مسجد کی حالت میں واپس لانے کے لیے بارہا کہتے رہے ہیں۔ اور عوامی سطح پر بھی اس معاملے پر خاصی گرم جوشی پائی جاتی ہے۔ لیکن دانش تائے کے فیصلے کے بعد ترکی کے لیے بیرونی ردعمل کے لحاظ سے یہ ایک بڑا فیصلہ ہو گا کہ حکومت آیا صوفیا کے اسٹیٹس کو مکمل طور پر بدلنے کا اعلان کرے کی یا تسلسل سے جاری آہستہ آہستہ اقدامات اٹھاتی جائے گی۔

تبصرے
Loading...