اسرائیلی فوج کی گولیوں کا نشانہ بننے والی 12 سالہ فلسطینی بچی، ترکی میں روبہ صحت

مریم گزشتہ سال 30 مارچ کو ایک مظاہرے میں شریک تھی کہ ایک اسرائیلی فوجی نے اس پر گولیاں چلائیں اور وہ شدید زخمی ہوگئی۔

0 1,653

ترک میڈیا کے مطابق فلسطین سے تعلق رکھنے والی 12 سالہ بچی مریم ابو معطر ترکی کے ایک اسپتال میں تیزی کیساتھ روبہ صحت ہے۔ وہ گزشتہ سال 30 مارچ کو غزہ میں ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران اسرائیلی افواج کی فائرنگ کا براہ راست نشانہ بن کر شدد زخمی ہوگئی تھی۔

مریم کی ساٹھ سے زائد سرجریاں ہوچکی ہے اور اب اس نے سہارے کیساتھ چلنا شروع کردیا ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس نے کہا ” ڈاکٹروں کے مطابق میرا بچنا ایک معجزہ ہے۔ مین دن بدن روبہ صحت ہوں۔ البتہ میں ابھی یہ نہیں بتاسکتی میں کب پہلے کی طرح چل سکوں گی”۔ اس نے مزید کہا کہ فلسطینوں کی حمایت کیلئے وہ ترک صدر رجب طیب ایردوان کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتی ہے۔ وہ ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا سبب ہننے والے عناصر کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔

مریم ان درجنوں فلسطینیوں میں شامل ہے، جو ترکی کے مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔ اسے استبول سے تعلق رکھنے والی معروف رفاہی تنظیم "ہیومینٹرئین ریلیف فاونڈہشن” (آئی ایچ ایچ) نے طبی امداد کیلئے غزہ سے ترکی منتقل کیا تھا۔ اسرائیلی رکاوٹوں اور بندشوں کے سبب نہ عزہ میں تسلی بخش طبی سہولیات میسر ہے اور نہ وہاں سے مریضوں کو کہیں اور منتقل کرنا آسان ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں مریم کے والد اور خاندان کے کئی دوسرے افراد بھی اسرائیلی افواج کی فائرنگ کا شکار ہوئے ہیں۔

غزہ بیس لاکھ فلسطینیوں کا گھر ہے جو 2007 سے اسرائیل کی سخت ناکہ بندی کا شکار ہیں۔ اس طویل محاصرے نے ناصرف فلسطینیوں کی معیشت کو تباہ کردیا ہے بلکہ انکی روزمرہ کی زندگی بھی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ وہ آئے روز مختلف مظاہروں اور احتجاج کے زریعے اس اگیارہ سالہ طویل محاصرے کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، جنہیں منتشر کرنے کیلئے اسرائیلی افواج اکثر تشدد کا استعمال کرتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اب تک تقربیا 270 فلسطینی شہری اسرائیل کے ساتھ بفرزون کے قریب احتجاج کے دوران اسرائیلی افواج کی گولیاں کا نشانہ بن کر شہید ہوچکے ہیں۔

تبصرے
Loading...