غزہ: ایردوان، بیت المقدس اور فلسطین نامی شیر کے بچے فروخت کے لئے پیش

0 5,280

مفلسی اور بے بسی کی تضویر غزہ کی ساحلی پٹی میں پرائیویٹ چڑیا گھر کے مالک نے شیر کے تین بچوں(جن میں سے ایک کا نام ترک صدر رجب طیب ایردوان کے نام پہ رکھا گیا ہے ) کو یہ کہتے ہوئے فروخت کے لئے پیش کر دیا کہ اب وہ انکے کھانے پینے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا۔

محمد احمد جمعہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر ان ننھے شیروں کی فروخت کا اشتہار دیتے ہوئے ہر جانور کی قیمت 3500 اردنی دینار یعنی 5000 امریکی ڈالر طلب کی ہے۔

انہوں نے لکھا کہ معاشی اور (جانوروں کے لئے ) کھانے پینے کے سامان کی دستیابی میں مشکلات کے باعث وہ تین شیروں کو بیچنے پر مجبور ہوئے جن کی پیدائش تقریبا ایک ماہ قبل ہوئی تھی۔

انہوں نے اپنے پیغام میں یہ بھی لکھا کہ انہیں باقی ماندہ شیروں (جن میں 2 شیر اور 3 شیر نیاں شامل ہیں ) کی افزائش کے لئے رقم درکار ہے۔

جمعہ جو پچھلے 23 سال سے غزہ کے مصری سرحد سے ملحقہ علاقے رفح میں پرائیویٹ چڑیا گھر چلا رہے ہیں کے مطابق ان کے جانوروں کے کھانے پینے کے ماہانہ اخراجات تقریبا 345 ڈالر ماہانہ ہیں۔

انہوں نے اپنے ننھے شیروں کے نام ایردوان، القدس (عربی میں یروشلم ) اور فلسطین رکھے ہوئے ہیں۔

فیس بک پر اشتہار کے بعد انہیں ٹیلیفون پر کالز موصول ہوئی ہیں مگر تاحال انہوں نے کوئی جانور فروخت نہیں کیا۔

اس سے قبل 2016ء میں بھی ایک چیتا، دو عقاب، دو کچھوے، دو سیہ، ایک پیلکن، ایک شتر مرغ اور ایک ہرن خستہ حال غزہ کے علاقے سے اپنے نئے گھروں اسرائیل، اردن اور جنوبی افریقہ کے ممالک میں جاکر آباد کئے گئے تھے۔

ایک لمبے عرصہ سے اسرائیلی پابندیوں اور 2008ء سے اب تک تین مرتبہ اسرائیلی بمباری کا سامنا کرنے والی غزہ کی ساحلی پٹی میں قائم اس چڑیا گھر کے کئی جانور مالک کی معاشی مشکلات کے باعث موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔

ترک صدر ایردوان اور ترکی نے امریکی صدر ٹرمپ کے بیت المقدس کو اسرائیلی درالخلافہ تسلیم کرنے کے فیصلہ کے خلاف زبردست مزاحمت کرتے ہوئے فلسطین کی پرزور حمایت کی ہے۔

ایردوان  نے امریکی فیصلے کو تمام مسلمانوں کے لئے سرخ لائن قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اگر امریکا نے اپنا فیصلہ نہ بدلا تو ترکی اسرائیل سے حالات خراب کر سکتا ہے۔

بیت المقدس اسرائیل فلسطین تنازعہ میں کلیدی حیثیت کا حامل رہا ہے کیونکہ فلسطینی اس شہر کے مشرقی حصہ کو (جہاں بیت المقدس واقع ہے ) کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارلحکومت بنانا چاہتے ہیں۔ (رپورٹ: خضر منظور)

تبصرے
Loading...