کابل ایئرپورٹ معاملہ، جرمنی کے ترکی اور امریکا کے ساتھ مذاکرات

0 200

جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے بتایا ہے کہ جرمنی افغانستان کے کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر شہری ہوا بازی کی سرگرمیوں کے حوالے سے مذاکرات کر رہا ہے۔

اپنے ایک ٹوئٹ میں ماس نے کہا ہے کہ "ہم افغانستان سے فوجی انخلا کے بعد کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے معاملات چلانے کے حوالے سے ترکی اور امریکا کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ اس عمل میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بھی ضرورت پڑے گی کیونکہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد کابل ایئرپورٹ بہت اہم کردار ادا کرے گا۔”

20 سال سے جاری جنگ طالبان کی پیش قدمی کے سامنے افغان فوج کے ڈھیر ہو جانے اور اس کے بعد صدر اشرف غنی کے بیرونِ ملک فرار سے حکومت کے خاتمے کے ساتھ مکمل ہو رہی ہے۔

طالبان کی عسکری کامیابیوں کے نتیجے میں افغانستان سے غیر ملکیوں کے انخلا کا عمل سخت افراتفری سے دوچار ہوا ہے، جن میں امریکا، برطانیہ اور نیٹو رکن ممالک کے باشندے بھی شامل تھے کہ جنہیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سفارت خانوں سے ہوائی اڈے تک پہنچایا گیا۔

کابل ایئرپورٹ کا معاملہ، اونٹ ابھی تک کسی کروٹ نہیں بیٹھا

افغان باشندے بھی ہوائی اڈے پر ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں اور ملک سے باہر نکلنے کے لیے بے چین ہیں۔ کئی لوگ ہوائی جہازوں سے لٹک گئے اور گرنے کی وجہ سے مارے گئے جبکہ ٹرمینل میں بھگدڑ اور دم گھٹنے سے بھی کچھ لوگوں کی اموات ہوئی ہیں۔

ترکی گزشتہ چھ سال سے کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی حفاظت کر رہا ہے اور وہ انخلا کے عمل کومحفوظ اور پر امن بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انقرہ امریکا اور نیٹو کے انخلا کے بعد کابل ایئرپورٹ کے تحفظ اور اس کے معاملات چلانے کی پیشکش بھی کر چکا ہے۔

افغانستان میں سفارت خانوں کے کام کرنے کے لیے اس ہوائی اڈے کا تحفظ بہت ضروری ہے۔ یہ ایوانِ صدر اور سفارت خانوں کے قریب واقع ہے اور واحد جگہ ہے جہاں سے کسی ہنگامی صورت حال میں سفارت کاروں کا انخلا ہو سکتا ہے۔

ترکی گزشتہ 20 سال سے افغانستان میں غیر عسکری کردار ادا کر رہا ہے اور مشاورت، تعمیرِ نو اور دیکھ بھال کے کاموں میں شامل ہے۔

تبصرے
Loading...