جرمنی نے ترکی کو آبدوز کی فروخت روکنے کی یونانی درخواست مسترد کر دی

0 151

یونان نے جرمنی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ چھ جرمن ساختہ آبدوزوں کی ترکی کو فروخت معطل کر دے، لیکن جرمن دفاعی ادارے نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

یونانی وزیر دفاع نکول پیناگیوتوپولوس نے جرمن ہم منصب اینیگریت کریمپ-کیرنبویر سے ایک ٹیلی کانفرنس کے دوران یہ درخواست کی تھی۔

ایک یونانی اخبار کے مطابق کریمپ-کیرنبویر نے جواب دیا کہ چھ ٹائپ-214 آبدوزیں بنانے اور انہیں ترکی کو فروخت کرنے کا پروگرام نہیں روکا جا سکتا بلکہ اسے مؤخر بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ انہیں بنانے والا ادارہ 2002ء میں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت پابند ہے۔”

یونانی وزیر نے زور دیا کہ ان آبدوزوں کی فروخت سے مشرقی بحیرۂ روم میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا۔

اس فون کال کے حوالے سے یونان کے سرکاری بیان میں کہا گيا کہ وزیر دفاع نے جرمن ہم منصب کو خطے میں امن و سلامتی اور استحکام کے حوالے سے یونانی نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔

جرمنی نے مشرقی بحیرۂ روم تنازع میں ثالث کا کردار ادا کیا ہے اور اس سے پہلے یونانی کی جانب سے ترکی کو "سزا دینے” کے مطالبات کو مسترد کر چکا ہے۔

جرمن وزیر خارجہ ہیکو ماس نے گزشتہ ماہ یونانی کی جانب سے ترکی کو اسلحے کی فراہمی پر پابندی عائد کرنے کے مطالبے کو مسترد کیا تھا۔

ترکی اور یونان نے تقریباً پانچ سال بعد پیر کو پہلی بار براہ راست مذاکرات کیے تاکہ مشرقی بحیرۂ میں تنازع کے حوالے سے بات کی جا سکے۔

دونوں ممالک کے درمیان اس نوعیت کے مذاکرات پہلی بار 2002ء میں ہوئے تھے اور 2016ء تک ان کا سلسلہ چلتا رہا اور پھر معطل ہو گیا کیونکہ یونان مذاکرات کی میز پر آنے کو تیار نہیں تھا۔

تبصرے
Loading...