جرمنی عراق سے اپنے کچھ دستے واپس طلب کرلے گا

0 221

وزارت دفاع نے کہا ہے کہ جرمنی عراق میں داعش کے خلاف اتحاد کا حصہ بننے والے اپنے کچھ دستے واپس طلب کرے گا۔ یہ فیصلہ ایک امریکی حملے میں ایران کے اہم عسکری کمانڈر کے قتل کے بعد کیا گیا ہے۔

وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق بغداد اور تاجی کے علاقے میں تعینات تقریباً 30 جرمن فوجی اردن اور کویت منتقل کیے جائیں گے اور یہ عمل جلد ہی شروع کر دیا جائے گا۔

جرمنی نے داعش کے خلاف اتحاد کے لیے تقریباً 415 فوجی تعینات کر رکھے ہیں جن میں سے 120 عراق میں ہیں۔

جرمنی کا یہ قدم عراقی پارلیمنٹ کی جانب سے ایک قرارداد کی منظوری کے بعد اٹھایا گیا ہے کہ جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ امریکا کی زیر قیادت اتحاد کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کرے۔

جرمن حکومت نے کہا ہے کہ اگر تربیتی مشن بحال ہوتا ہے تو دستے دوبارہ عراق میں تعینات کیے جا سکتے ہیں۔ وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے کہا کہ وہ عراق سے غیر ملکی افواج کے فوری انخلاء کے بعد داعش کی کارروائیوں میں اضافے کے ممکنہ خطرے کی وجہ سے تشویش میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ” کوئی بھی نہیں چاہتا کہ ایسا ہو۔”

ماس نے کہا کہ عراق میں جرمن افواج کی موجودگی کی بنیاد یہ ہے کہ ہمیں عراقی حکومت اور پارلیمان نے مدعو کیا ہے۔ اگر اب یہ دعوت نامہ ختم کر دیا گیا ہے تو ہماری وہاں موجودگی کا کوئی قانونی جواز نہیں۔ ہمیں بغداد میں ذمہ داران کے ساتھ یہ معاملہ جلد از جلد واضح کرنا ہوگا۔”

چانسلر انگیلا مرکیل، فرانسیسی صدر ایمانوئیل ماکرون اور برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اتوار کو ایک مشترکہ بیان میں عراق پر زور دیا کہ وہ داعش کے دہشت گردوں کے خلاف جنگ کو خطرے میں نہ ڈالے۔

انہوں نے کہا کہ "داعش کے خلاف اتحاد کو تحفظ دینا اس ضمن میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ہم عراقی حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس اتحاد کو ضروری سپورٹ فراہم کرے۔”

تبصرے
Loading...