ترکی-یورپی یونین معاہدے کے تحت جرمنی نے تقریباً 10 ہزار مہاجرین کو قبول کیا

0 249

جرمنی نے یورپی یونین اور ترکی کے مابین پناہ گزینوں کے حوالے سے معاہدے کے طور پر پچھلے چار سالوں میں یورپی یونین کے ملکوں میں سب سے زیادہ مہاجرین کو قبول کیا ہے۔

یورپی یونین کے دوسرے ملکوں سے تقابل کریں تو جرمنی نے اب تک معاہدے کے تحت ترک مہاجر کیمپوں سے سب سے زیادہ، تقریباً 10 ہزار، مہاجرین کو قبول کیا ہے۔ ایک جرمن اخبار کے مطابق یہ معلومات ایک پارلیمان کے سوال میں وزارتِ داخلہ سامنے لایا ہے۔

یورپی کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق یورپی یونین اور ترکی کے مابین معاہدے کے تحت 4 اپریل 2016ء سے 16 مارچ 2020ء کے درمیان کُل 26,835 مہاجرین یورپ لائے گئے۔ ان میں سے 9,967 جرمنی گئے۔ یہ دوسرے نمبر پر آنے والے فرانس سے دوگنے سے بھی زیادہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نیدرلینڈز نے 4,571 افراد کو جبکہ فن لینڈ نے 1,964، سوئیڈن نے 1,940 اور اسپین نے 766 افراد کو قبول کیا۔ آسٹریا، کروشیا، اٹلی، لتھووینیا، لکسمبورگ اور پرتگال نے 100 سے کم والے کوٹے کے ساتھ حصہ لیا۔ قبرص، چیک جمہوریہ، یونان، ہنگری، آئرلینڈ، رومانیہ اور سلوواکیا نے یورپی یونین-ترکی معاہدے کے تحت مہاجرین کو قبول نہیں کیا۔

ترکی اور یورپی یونین نے 18 مارچ 2016ء کو یورپ میں پناہ گزینوں کی آمد کو روکنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ ترکی شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد یورپ کا رخ کرنے والے مہاجرین کا اہم ترین راستہ ہے۔ معاہدے کے ذریعے غیر قانونی آمد میں 99 فیصد کمی آئی، کئی لوگوں کی جانیں بھی بچیں کہ جو سمندر کے ذریعے یہ خطرناک سفر کرنے کی کوشش کرتے۔

انقرہ نے بارہا شکایت کی ہے کہ یورپ اس معاہدے کے تحت اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ترکی نے مارچ میں اعلان کیا تھا کہ اب وہ یورپ جانے کی کوشش کرنے والے پناہ گزینوں کو نہیں روکے گا۔ اس کے بعد سے ہزاروں مہاجرین اور سیاسی پناہ کے خواہش مند یونان اور بلغاریہ سے ملحقہ ترک صوبہ ادرنہ سے یورپ جا چکے ہیں۔

تبصرے
Loading...