مشرقی غوطہ، ترکی اور عفرین آپریشن

0 1,661

مشرقی غوطہ میں شامی بربریت کی تاریخ میں جو دوسرا بڑا ظلم ہوا، ایک ہی دن میں 400 معصوم شامیوں کو شہید کر دیا گیا جن میں اکثریت بچوں کی تھی-

ترکی اس کے محرکات اور منصوبہ سازوں سے بخوبی واقف ہے- وہ شام میں روس اور ایران کے ساتھ سفارتی اور سیاسی سطح پر ظلم کی اس طویل داستان کو انجام تک پہچانے کے لیے کوشاں ہے لیکن ایسا نہیں اس نے بشار الاسد بارے اپنے موقف میں تبدیلی کر لی ہو، وہ آج بھی اسے ڈیڑھ ملین سے زائد شامیوں کا قاتل سمجھتا اور کہتا ہے (دفاعی کانفرنس، جرمنی میں ترک وزیر خارجہ کی تقریر)- پھر روس اور ایران کے ساتھ قائم تعلقات اسے ان کے مظالم سے صرف نظر کرنے پر مجبور نہیں کرتے بلکہ جب بھی روس یا بشار الاسد رجیم کی طرف شام میں کاروائی ہوتی ہے تو ترکی بروقت اپنا ردعمل دیتا ہے- مشرقی غوطہ کی بربریت پر بھی ترکی نے اپنے جذبات کا اظہار کیا- لیکن کیا ترکی سے غوطہ پر کوئی بڑا قدم اٹھانے کی توقع رکھنا چاہیے؟

ترکی شام کے علاقے عفرین میں آپریشن شاخ زیتون جاری رکھے ہوئے ہے- 2295 سے زائد دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 42 ترک فوجی شہید ہوئے ہیں- ترکی کو عفرین میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے-

دراصل یہ آپریشن محض کرد دہشتگرد تنظیم وائے پی جی اور داعش کے خلاف ہی نہیں امریکہ کے خلاف ہے- امریکہ نے وائے پی جی کے ساتھ مل کر اسی خطے میں شامی جمہوری فوج بنانے کا اعلان کیا تھا- ترکی نے اس سے پہلے آپریشن کا آغاز کر دیا- امریکہ اپنے کرداروں کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے- ان دہشتگردوں کو بھاری اسلحہ سے تو وہ پہلے ہی لیس کر چکا تھا- اب اپنے تمام شامی اڈوں سے تربیت یافتہ کمک پہنچا رہا ہے- پہلےرقہ سے امریکی تربیت یافتہ دہشتگردوں کا قافلہ عفرین میں داخل ہوا جسے بشار الاسد رجیم نے راستہ دیا- اب نیو یارک ٹائم میں خبر شائع ہوئی کہ "امریکی تربیت یافتہ ہزاروں جنگجو عفرین میں داخل ہونے والے ہیں”- ہو سکتا ہے کہ کئی امریکی کمانڈر بھیس بدل کر ان جنگجو قافلوں کا حصہ ہوں- کیونکہ عفرین کے میدان جس طرح کراس مائین، ٹنل اور جنگی اسٹیٹجی کا استعمال کیا جا رہا ہے وہ خود امریکی کمانڈر بنا رہے ہوں- ترکی نے اس کے وجود 106 سے زائد مقامات کو ان دہشتگردوں سے رہا کروا لیا ہے اور پیش قدمی جاری ہے-

ترکی اس خطے کی اہم ترین جنگ لڑ رہا ہے- اگر وہ یہ آپریشن کامیابی کے ساتھ مکمل کرتا ہے تو نہ صرف خطے میں امریکی کردار مزید کمزور ہو جائے گا بلکہ وہ خطے کی بڑی طاقت بن کر ابھرے گا اور شام کا مسئلہ اس کے بغیر حل نہیں کیا جا سکے گا-

پھر ترکی بشار الاسد کو شام کے محلات میں نہیں بلکہ عدالت کے کٹہرے میں دیکھنا چاہتا ہے- یہ بات خود بشار الاسد رجیم بھی بخوبی جانتی ہے اس لیے وہ عفرین آپریشن میں پی وائے جی کے ساتھ ہر ممکن تعاون کر رہی ہے- بشار الاسد کے حامی ایرانی ملیشیا کے ایک جنگجو قافلے نے عفرین میں گھسنے کی کوشش بھی کی لیکن ترک جیٹ طیاروں نے یہ کوشش ناکام بنا دی- اس صورت حال میں ترکی کے لیے خطے کے تمام کرداروں کے ساتھ توازن کے ساتھ آگے بڑھنا اہم ہو چکا ہے-

تبصرے
Loading...