ترکی سے جنگ کی تو یونان کو شکست ہوگی اور وہ تنہا رہ جائے گا، اہم یونانی سیاسی تجزیہ کار

0 164

یونان کے اہم سیاسی تجزیہ کار مشرقی بحیرۂ روم میں کشیدگی کے معاملے پر ایتھنز کے رویّے پر شاکی ہیں، اور خبردار کر رہے ہیں کہ ہو سکتا ہے ترکی کے ساتھ ممکنہ جنگ میں یونان شکست کھا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپ ویسے ہی یونان سے تنگ ہے جبکہ خطے میں فرانس اور یونان کے مفادات بھی مختلف ہیں۔

یونان کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے اخبار ‘ Ta Nea ‘ کے جیورجوس پاپاکرسٹوس کا کہنا ہے کہ ہر مسئلے کے لیے یورپی یونین کا رُخ کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ وہ ہم سے تنگ ہیں۔ ہم صحیح ہیں اور ترکی غلط ہے، یہ بات ہمارے سوا کسی نے نہیں مانی۔ ہمیں حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ورنہ ہم خود کو کشتی کے اکھاڑے میں پائیں گے اور یورپ لڑائی کے خاتمے کی گنتی گننے کے لیے ریفری کا کردار ادا کر رہا ہوگا۔”

پاپاکرسٹوس نے مزید کہا کہ یونان کے پاس اب دو ا؛ راستے ہیں، پہلا یہ کہ ترکی کے ساتھ مختصر جنگ کرے، جس کا نتیجہ یہ نکلے گاکہ ترکی کاستیلوریزو کے جزیرے پر قبضہ کر لے گا، جو اس کے ساحل سے چند کلومیٹرز کے فاصلے پر ہی ہے۔ یونان جنگ ہار جائے گا اور جزیرے واپس لینے کے لیے مذاکرات میں پانچ، چھ دہائیاں لگ جائیں گی۔ دوسرا راستہ ہے مذاکرات کا، جس میں "بڑی سیاسی ناکامی” کا خطرہ بھی ہے۔ اس منظرنامے میں ترکی مطالبات کرے گا اور یونان کو رعایتیں دینی پڑیں گی۔”

انہوں نے کہا کہ ہر وقت یہ کہنا حقیقت پسندانہ رویہ نہیں ہے کہ صدر ایردوان اُکسا رہے ہیں یا حملہ کر رہے ہیں۔ "ایردوان کی ہر دھمکی” پر "یورپ کا رخ کرنا” زیب نہیں دیتا۔

ایک اور یونانی روزنامے ‘ Kathimerini ‘ کے سیاسی و سفارتی تبصرہ کار کوستاس ایوردانیدیس نے کہا ہے کہ گو کہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل ماکروں کا صدر ایردوان کے ساتھ ٹکراؤ ہو سکتا ہے یونان کو کچھ سکھ کا سانس فراہم کرے، لیکن ایتھنز کو فرانس کی اس مدد کو مالِ مفت نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ خطے میں پیرس کے اپنے مفادات ہیں۔ "اصل مسئلہ یہ ہے کہ امریکا خطہ چھوڑ جائے تو اس سے پیدا ہونے والے خلا کو کون پر کرے گا؟” انہوں نے خبردار کیا کہ فرانس کا تعاون عارضی ہو سکتا ہے۔

حال ہی میں یونان کی کمیونسٹ پارٹی کی پارلیمانی رکن لیانا کانیلی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ تمام تر انحصار پیرس پر کیوں کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیرس مشرقی بحیرۂ روم میں محض اپنے مفادات کے لیے یونان کی مدد کر رہا ہے۔ انہوں نے ترکی کو علاقائی سپر پاور قرار دیا۔

ایک براہِ راست نشر ہونے والے پروگرام میں لیانا کا کہنا تھا کہ یونان کی مدد کے لیے کوئی اس لیے نہیں آ رہا کہ اسے یونان سے بڑی محبت ہے۔ وہ اصل میں یونانی مفادات کے لیے مرے جا رہے ہیں۔

پیرس کے ساتھ تعاون کو ایک "خطرناک غلطی” قرار دیتے ہوئے کانیلی نے کہا کہ لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ فرانس نے ابتداء میں یورپی یونین میں یونان کے داخلے کی حمایت کی تھی لیکن بعد میں اُسی فرانسیسی صدر نے کہا تھا کہ ایتھنز کو اُس کی مالیاتی پالیسیوں کی وجہ سے یورپی یونین سے نکال دینا چاہیے۔

ترکی اور یونان میں ویسے تو حالات ہمیشہ ہی متنازع رہتے ، لیکن حال ہی میں مشرقی بحیرۂ روم میں گیس کی تلاش پر دونوں پڑوسیوں کے تعلقات میں ایک نئی کشیدگی آ گئی ہے۔ یونان خطے میں ترکی کو توانائی وسائل کی تلاش سے روکنا چاہتا ہے، جبکہ انقرہ کہتا ہے کہ یہ اس کا حق ہے۔ ایتھنز نے ترکی کی بحری سرحدوں کو محدود کرنے کی بھی کوشش کی، جس کے لیے وہ ترک ساحلوں کے ساتھ موجود یونانی جزائر کو بنیاد بنا رہا ہے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ فریقین کو اس معاملے پر مذاکرات کرنے چاہئیں تاکہ وسائل کی یکساں تقسیم کے ساتھ مناسب حل تلاش کیا جا سکے۔

تبصرے
Loading...