مہاجرین کی آمد روکنے کے لیے یونان کا ترک سرحد کے ساتھ باڑھ کو توسیع دینے کا منصوبہ

0 220

یونان نے ترکی کے ساتھ اپنی سرحد پر سیمنٹ کی اور خاردار تاروں کے ذریعے باڑھ لگانے کے منصوبے کے توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ملک میں مہاجرین تاخیر نہ ہو سکے۔

یونانی حکومت کے ترجمان استیلیوس پتساس نے بتایا ہے کہ یہ فیصلہ اِس سال لاکھوں مہاجرین اور سیاسی پناہ کے خواہش مند افراد کے یورپی یونین میں داخل ہونے کے بعد کیا گیا ہے۔

انقرہ نے فروری میں مہاجرین کو یورپ میں داخل ہونے سے نہ روکنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد بڑی تعداد میں مہاجرین یورپ میں داخل ہو گئے تھے، جن سے یونان میں بدترین سلوک کیا گیا، کم از کم تین مہاجرین مارے گئے۔

یونانی حکومت نے ملک میں داخل ہونے والے افراد کے لیے 30 دن تک سیاسی پناہ تک رسائی بھی معطل کر دی تھی۔ حالانکہ یہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

بہرحال، اس وقت چار یونانی تعمیراتی کمپنیاں اس منصوبے پر کام کر رہی ہیں جو آٹھ مہینوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔ پستاس نے بتایا کہ اس منصوبے پر 63 ملین یوروز لاگت آئے گی۔

12.5 کلومیٹرز طویل باڑھ آٹھ سال پہلے مہاجرین کو روکنے کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔ اب اسے ان علاقوں تک پھیلایا جائے گا جن کی نشاندہی یونانی پولیس اور فوج کرے گی۔ مارچ میں کہا گیا تھا کہ باڑھ میں 40 کلومیٹرز کی توسیع کی جائے گی۔

ترکی اور یونان یورپ میں نئی زندگی کا آغاز کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم ترین مقامات ہیں، خاص طور پر وہ جو جنگ زدہ علاقوں سے آتے ہیں۔

شام اور لیبیا میں خانہ جنگی کے بعد یونانی حکومت ان مہاجرین کو قابو کرنے میں ناکام ہوئی اور زیادہ تر مہاجرین کو ترک ساحلوں کے قریب اپنے جزیروں پر گنجان کیمپوں میں ٹھونس دیا ہے۔

یونان کو مہاجرین کے خلاف اپنی پالیسیوں اور ان کے کیمپوں کی بدترین حالت کی وجہ سے بارہا تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

تبصرے
Loading...