یونان، اعلان اسلحے کی دوڑ سے گریز کا لیکن فیصلہ فرانس سے جدید ہتھیار خریدنے کا

0 60

اس اعلان کے باوجود کہ پڑوسی ملک اور ترکی کے ساتھ اسلحے کی دوڑ نہیں چاہتے، یونان نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ وہ فرانس سے تین نئی جنگی بحری جہاز (فریگیٹس) خریدے گا۔

فرانسیسی صدر ایمانوئیل ماکرون نے کہا کہ یونان "تزویراتی شراکت داری” کے طور پر فرانس سے تین جنگی بحری جہاز خرید رہا ہے، جس کے تحت دونوں بحیرۂ روم میں اپنے مشترکہ مفادات کا تحفظ کریں گے۔

یونانی وزیر اعظم کیریاکوس متسوتاکس کے ساتھ معاہدے پر دستخط کی تقریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ماکرون نے کہا کہ یہ معاہدہ "یورپ کی تزویراتی خود مختاری کی جانب پہلا بے باکانہ قدم ہے۔”۔

انہوں نے ان بحری جہازوں کی خریداری کے یونانی فیصلے کو فرانس کی دفاعی صنعت پر "اعتماد کی علامت” قرار دیا۔

قبرص میں فرانسیسی لڑاکا طیاروں کی موجودگی 1960ء کے قبرص معاہدوں کی خلاف ورزی ہے، ترکی

ایک ایسے وقت میں جب آسٹریلیا کی جانب سے فرانس کے ساتھ اربوں ڈالرز کا معاہدہ منسوخ ہوا ہے، یہ معاہدہ آسٹریلیا، امریکا اور دیگر ممالک کو بھی ایک پیغام بھیجتا ہے۔

ماکرون عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ یورپ کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کے لیے خود کام کرنے کی ضرورت ہے اور امریکا پر انحصار کو گھٹانا چاہیے۔

بہرحال، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے متسوتاکس نے کہا کہ "آج یونان اور فرانس کے لیے ایک تاریخی دن ہے۔ ہم نے دو طرفہ دفاعی تعاون کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔” البتہ معاہدے کی کوئی مالی تفصیل نہیں دی۔

یونانی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ فرانس کے ساتھ معاہدے سے یونان اور امریکا کے مجوزہ دفاعی تعاون پر اثرات نہیں پڑیں گے۔

ماکرون نے بھی کہا کہ امریکا-آسٹریلیا معاہدہ فرانس کی بحر ہند و بحر الکاہل کے علاقوں کے لیے حکمت عملی پر اثر انداز نہیں ہوگا، جہاں چین کے قدم تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

یونان نے رواں ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ مزید چھ رافال لڑاکا طیارے خریدنے کا منصوبہ بنا رہا ہے کیونکہ مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی کے ساتھ کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

توقع رکھتے ہیں کہ یونان ترکی کے مفادات کا احترام کرے گا، صدر ایردوان

یونان اور ترکی دہائیوں بلکہ صدیوں سے علاقائی حریف ہیں لیکن حالیہ کچھ عرصے میں دونوں کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ جس کی وجہ بحیرۂ ایجیئن میں تیل و گیس کے ذخائر پر دعووں سے لے کر اس سمندر میں موجود جزائر کو غیر مسلح رکھنے کے معاملات تک شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یونان کا اپنے بد ترین معاشی حالات کے باوجود اچانک بڑے پیمانے پر فوجی ساز و سامان خریدنا ظاہر کر رہا ہے کہ وہ مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی کے ہاتھوں درپیش چیلنجز سے نمٹنا چاہ رہا ہے۔

فرانس کے ساتھ فوجی تعاون بڑھانے کا یہ اعلان ترک وزیر دفاع خلوصی آقار کے اِس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "یونان اسلحے کی دوڑ شروع کر رہا ہے، طیارے، اسلحہ اور دیگر ساز و سامان خرید رہا ہے لیکن چند استعمال شدہ لڑاکا طیاروں سے خطے میں طاقت کا توازن بدلنے والا نہیں ہے۔”

ترکی بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ یونان مختلف تصفیہ طلب مسائل کے پُر امن سیاسی حل کی توقع رکھتا ہے۔

ترکی مشرقی بحیرۂ روم میں سب سے طویل ساحلی پٹی رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ خطے میں اپنے اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے حقوق کا تحفظ چاہتا ہے۔ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ترکی خطے کے قدرتی وسائل کی یکساں تقسیم کو یقینی بنانے کا مطالبہ کر چکا ہے۔

تبصرے
Loading...