یونان، امریکہ اور کچھ یورپی ممالک دہشت گردوں کے محافظ ہیں: ایردوان

0 667

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ یونان، امریکہ اور کچھ یورپی ممالک دہشت گردوں کے محافظ ہیں جن دہشتگردوں میں فیتو دہشتگرد ممبران بھی شامل ہیں۔

انہوں نے واضع طور پر کہا کہ "اب ان دہشتگردوں کی حفاظت کون کرتا ہے؟ بنیادی طور پر وہ یونان چلے جاتے ہیں، وہ یورپ بھاگتے ہیں۔ وہ ہمیشہ وہاں سے بھاگ جاتے ہیں۔ وہ جرمنی، فرانس، ہالینڈ، ڈنمارک، انگلینڈ اور امریکہ میں رہتے ہیں۔”

انہوں نے ازبکستان واپسی پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ "اور امریکہ نے اس آدمی (فیتو کے رہنما فتح اللہ گولن) کو چھپا رکھا ہے۔ کس نے چھپا رکھا ہے؟ (امریکی صدر) جوبائیڈن نے چھپایا ہوا ہے۔ انہوں نے اسے پنسلوانیا میں ایک بہت بڑی کوٹھی دی، جہاں یہ آدمی رہتا ہے۔ اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ ان دہشتگردوں کا مرکز کہاں ہے؟ میں ابھی آپ کو وہی بتا رہا تھا،”۔

فیتو اور اس کے امریکہ میں مقیم رہنما گولن نے 15 جولائی 2016ء کو ترکی میں شکست خوردہ بغاوت کا منصوبہ بنایا جس میں 251 افراد جاں بحق اور 2734 زخمی ہوئے تھے۔ فیتو ترکی کے اداروں بالخصوص فوج، پولیس اور عدلیہ میں دراندازی کے ذریعے ریاست کا تختہ الٹنے کی ایک طویل مہم جاری رکھے ہوئے تھی۔

ترکی درجنوں بار بھاری دستاویز اور ثبوتوں کے ساتھ امریکہ کو درخواست کر چکا ہے کہ وہ فیتو کے رہنماء فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے کرے۔ تاہم امریکی انتظامیہ اسے ترکی کے حوالے نہیں کرنا چاہتی۔

ترکی اور امریکہ کے درمیان حالیہ دفاعی مذاکرات کے بعد یونان کی صورتحال کے بارے میں پوچھے جانے پر صدر ایردوان نے کہا: "یقیناً، اس وقت یونان ان تازہ ترین اقدامات سے شدید پریشان ہے۔”

اس ہفتے کے شروع میں، ترکی اور امریکہ کے مابین دارالحکومت انقرہ میں اعلیٰ سطحی دفاعی گروپ کا اجلاس ہوا جس میں علاقائی اور عالمی دفاعی اور سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

صدر ایردوان نے اپنی گفتگو میں مزید کہا کہ "یقیناً، ہم یونان میں مغرب اور خاص طور پر امریکہ کے رویوں سے پریشان ہیں۔ الیگزینڈروپولس ان میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ، کچھ ایسی پریشانیاں ہیں جو یونان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم پر ڈالی ہے۔ خاص طور پر، یہ لاویرون کیمپ کا مسئلہ ایسی چیز نہیں ہے جسے ہم آسانی سے ہضم کر جائیں،”۔

 

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: