گولن کا ججوں کو گرفتار فیتو ممبران کی رہائی کا خط اب تک کا سب سے بڑا ثبوت ہے: استغاثہ

0 183

استنبول کے چیف پراسیکیوٹر عرفان فیدان نے جمعہ کے روز فتح اللہ گولن کے دستخط شدہ ججوں کے نام تمام فیتو ممبران کی رہائی کے لئے لکھی گئی درخواست کو ابتک کا سب سے ٹھوس ثبوت قرار دے دیا۔

جمعہ کے روز سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آنیوالے خط میں مبینہ طور پر فتح اللہ گولن نے اپنی جماعت سے منسلک ججوں کو 16 جولائی کی سازش کے الزام میں گرفتار ھدایت کراچامالک سمانیولو ٹی وی اور مفرورسابق نائب پولیس چیف حسین کورکماز جو اس وقت نیویارک میں ہیں اور رضا ضراب کیس میں گواہ ہیں سمیت تمام پولیس افسران اور دیگر اعلی عہدیداروں کو رہا کرنے کی درخواست کی ہے۔

مذکورہ خط مبینہ طور پر پنسلوانیا سے 19اپریل 2015کو گولن کے دستخطوں سے جاری ہوا۔

گولن نے ججوں کو مخاطب کرتے ہوئے خط میں لکھا ہیکہ فوجداری عدالتوں کے محترم جج صاحبان میں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمارے جوبھائی اس وقت قید میں ہیں انکو آزاد کیا جائے۔ انشائاللہ آپ انکی رہائی سے متعلق درخواست پر غور کرینگے۔ آپ کے فیصلہ کے نتیجہ میں ایک کروڑ گھرانوں کی خوشیاں لوٹ آئیں گی۔ گولن نے اپنے خط میں ججوں کو لکھا ہے کہ ہماری سوچوں میں مماثلت کے باعث میں آپ سے انکی رہائی کی یہ درخواست کر رہا ہوں۔

فیدان نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ خط 18اپریل 2015 کا ہے جوزمان اخبار کے سابق آرٹ ڈائریکٹر فیوزی کے گھر سے چھاپے کے دوران برآمد ہوا تھا۔ اور یہ ڈیجیٹل دستاویزات کے اس پلندے میں سے برآمد ہوا جو فیوزی نیویارک سے ساتھ لائے تھے۔

پراسیکیوٹر نے ان ججوں کے نام بھی بتائے جنہوں نے گولن کے یہ احکامات مانتے ہوئے 63مشتبہ افراد کو رہا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فیوزی 18 اپریل 2015 کو اپنے ساتھ یہ خط اور تقریبا 100یوایس بی جسمیں اس دہشت گرد گروپ کے متعلق انتہائی حساس معلومات تھیں لیکر امریکا سے ترکی پہنچا۔

مفرورسابق نائب پولیس چیف حسین کورکماز نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ہالک بنک کے نائب سربراہ مہمت ہاکان عطلیہ کے خلاف مقدمے میں گواہی کے لئے امریکی پراسیکیوٹر سے 40 سے زائد مرتبہ ملا جبکہ اس کیس میں شامل رضاضراب بھی گواہی تبدیل کر چکے ہیں۔ دہشت گرد گروپ کے کارندے کے مطابق یہ ملاقاتیں کبھی دو کبھی چارگھنٹے اورکبھی اس سے زیادہ لمبی ہو جاتیں ۔

مقدمے کے دوران عطلیہ کے وکیل نے اس اعلی سطحی سیاسی مقدمے امریکا بمقابلہ عطلیہ میں ناقص سماعت کی شکائیت کی جو ایران پر لگی ان پابندیوں سے متعلق ہے جو اب اٹھا لی گئی ہیں۔

ایک تحریک میں وکیل صفائی نے اس مقدمے میں متعصبانہ، انتشاری اور ناقابل سماعت شواہدکے لگاتار ظاہر ہونے پر امریکی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انکے مؤکل عطلیہ پر ترکی میں کوئی مقدمہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اسکا کوئی ثبوت نہیں کہ انہوں نے کبھی رشوت لی یا دی۔ وہ عدالت کو بتائی گئی کئی یا تفتیش کی گئی کارروائیوں میں سے کئی ایک میں ملوث نہیں تھے ۔

کورکماز کی شہادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انکی شہادت رائے ، افواہوں ، نتائج سے بھر پور اور تلقین و وعظ اور سنی سنائی باتوں اور بدعتی کاغذوں سے بلاواسطہ مزین ہے ۔

عطلیہ کی ٹیم نے عدالت کو بتایا کہ امریکی آئین اور اسمیں موجود قانون شہادت اور اسکے اصولوں کے بر خلاف ہے۔ مدعا علیہ کو اس قدرتعصب کا نشانہ بنایا گیا کہ کیس کے فیئر ٹرائل کو ناقابل تلافی حد تک نظر انداز کیا گیا کہ اس مقدمے کو ناقابل سماعت قرار دینا ہی اسکی واحد تلافی ہے۔

کور کماز مین ہٹن کی امریکی عدالت میں عطلیہ کے خلاف شہادت دے رہے ہیں عطلیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے ضراب کیساتھ ملکر امریکا کی ایران پر لگی پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزی کی تھی۔ وہ اس مقدمہ کے ایک اہمیت کے حامل ہیں ترکی میں ہوتے ہوئے انہوں نے دسمبر 17 اور25 کی مبینہ عدالتی بغاوت جسمیں گولن دہشت گرد گروپ نے ترک حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی کے بارے میں متضاد بیانات دیئے تھے جبکہ امریکا آنے کے بعد انہوں نے مؤقف اپنایا کہ وہ اس مقدمہ میںآٹھ جونیئرافسران کیساتھ صرف تفتیش کر رہے تھے۔

رپورٹ: خضر منظور
تبصرے
Loading...