بارودی سرنگیں گھر واپس آنے والے لیبیائی شہریوں کے لیے خطرہ بن گئیں

0 270

لیبیا کے دارالحکومت کے جنگ زدہ جنوبی علاقوں میں بارود کی بو اب بھی موجود تھی جب 50 کے پیٹے میں موجود استاد ہشام سلیمان اپنے گھر پہنچے۔ وہ اپنی کار گھر سے تقریباً 400 میٹر کے فاصلے پر چھوڑ کر پیدل آگے بڑھے، فرار ہونے والے باغیوں کے بچھائے گئے کسی بھی جال سے بچتے بچاتے کہ جس میں ان کا ایک پڑوسی کچھ دن پہلے مارا گیا تھا۔

طرابلس کے اس نواحی علاقے الخلا میں خاموشی کو صرف سلیمان کے قدموں کے چاپ ہی توڑ رہی تھی۔

جب ہشام اپنے گھر پہنچے تو انہیں اپنے باغیچے کادروازہ ٹوٹا ہوا نظر آیا اور ساتھ ہی آدھا گھر بھی، ایسا منظر جس نے ان کا دل توڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ "صرف اپنا گھر تباہ ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس جنگ سے اپنے پورے علاقے کو تباہ حال دیکھ کر دل ہی ٹوٹ گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کوئی بڑا شہاب ثاقب اس علاقے پر گرا ہے۔”

سلیمان ہشام نے بتایا کہ "میں نے اپنی پوری زندگی کی بچت اور 10 سال اس گھر کی تعمیر میں لگائے” لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ دوبارہ اس گھر کی تعمیر کریں گے کیونکہ وہ اپنے گھرانے کے لیے کرائے پر عارضی رہائش گاہ نہیں لے سکتے۔

لیکن ان تباہ حال گھروں پر ایک نیا خطرہ منڈلا رہا ہے، بارودی سرنگیں کہ جو باغی حفتر کے فوجی جاتے ہوئے گھروں اور باغیچوں میں اور سڑک کنارے بچھا گئے ہیں۔

سلیمان جیسے شہری باغی جرنیل خلیفہ حفترسے چھینے گئے علاقوں میں ان علاقوں میں واپس تو آ رہے ہیں لیکن اب انہیں بارودی سرنگوں کا خوف ہے۔ منگل کو انہی میں سے ایک بارودی سرنگ کے پھٹنے سے ایک شہری کی جان گئی۔

حکومت کے برکان الغضب آپریشن کے پریس آفس سے جاری کردہ بیان کے مطابق طرابلس ایئرپورٹ جانے والی سڑک پر دھماکے میں ایک شخص کی جان گئی اور ایک شخص زخمی ہوا۔

اعداد و شمار کے مطابق پچھلے 10 دنوں میں بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں کم از کم 31 شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ 40 زخمی ہوئے ہیں۔

تیل کی دولت سے مالامال لیبیا 2011ء میں معمر قذافی کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے سالوں سے خانہ جنگی کا شکار ہے۔

حالیہ کشیدگی اپریل 2019ء میں بڑھی جبکہ قذافی کے حامی خلیفہ حفتر نے اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ گورنمنٹ آف نیشنل ایکرڈ (GNA) کے دارالحکومت طرابلس پر حملہ کیا۔ ان کی کارروائیوں میں سینکڑوں شہری مارے گئے اور لگ بھگ 2 لاکھ شہری بے گھر ہوئے۔ حفتر کی فوجوں کو متدحہ عرب امارات، مصر اور روس کے کرائے کے سپاہیوں کا ساتھ حاصل ہے۔ لیکن GNA نے ترکی کی مدد حاصل کرکے ان کو دھکیل دیا ہے اور شمال مغربی کا پورا علاقہ ایک مرتبہ پھر حاصل کر لیا ہے۔

تبصرے
Loading...