آیا صوفیہ کا فیصلہ ترکی کرے گا، یونان کا اس سے کوئی واسطہ نہیں، صدر ایردوان

0 419

آیاصوفیہ پر یونان کے حالیہ تبصرے پر صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ایتھنز ترکی کی اندرونی سیاست میں مداخلت کر رہا ہے۔

یونان نے ترکی کی جانب سے آیاصوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کی ایک تجویز پر ردعمل ظاہر کیا تھا۔

قومی نشریاتی ادارے ترکش ریڈیو اینڈ ٹیلی وژن (TRT) پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ایردوان نے یونان کے تبصرے پر تنقید کی اور اسے ترکی کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا فیصلہ ترکی کے ادارے کریں گے، یونان کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔

صدر ایردوان نے کہا کہ "یونان اس سرزمین کا منتظم نہیں ہے، اس لیے اسے ایسے تبصروں سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر یونان کو اپنی حیثیت کا اندازہ نہیں ہے تو ترکی جانتا ہے کہ اس کا جواب کیسے دینا ہے۔”

دنیا کے اہم ترین تاریخی و ثقافتی مقامات میں سے ایک آیاصوفیہ چھٹی صدی میں عیسائی بزنطینی سلطنت کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور یہ یونانی آرتھوڈوکس چرچ کے مرکز کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ اسے 1453ء میں عثمانیوں کے ہاتھوں فتحِ قسطنطنیہ کے بعد شاہی مسجد میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں 1935ء میں سخت گیر سیکولر ازم کے دور میں اسے عجائب گھر میں بدل دیا گیا، لیکن اسے ایک مرتبہ پھر مسجد میں بدلنے کی باتیں ہو رہی ہیں، اور عوام سوشل میڈیا پر اسے ایک مرتبہ پھر عبادت گاہ کا درجہ دینے کے مطالبے کر رہے ہیں۔

2015ء میں اس عمارت کے اندر 85 سال بعد پہلی بار قرآن مجید کی تلاوت کی گئی۔ آئندہ سال ترکی نے رمضان کے مقدس مہینے کے دوران یہاں مذہبی مطالعے کی سرگرمیاں شروع کیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن مجید کی پہلی وحی نازل ہونے کی یاد میں یہاں اذان بھی دی گئی۔

آیاصوفیہ کا معاملہ حالیہ کچھ عرصے سے دونوں پڑوسی ملکوں میں تنازع کا باعث ہے۔ ایک اور حالیہ تبصرے میں یونان کا کہنا تھا کہ وہ "ترکی کے ساتھ فوجی تنازع” کے لیے تیار ہے۔ یونانی وزیر دفاع کے جواب میں ترکی کی حکمران جماعت انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کے ترجمان عمر چیلک نے کہا تھا کہ "اتنا بھونڈا مذاق نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ ایسا کرنے کا نتیجہ الٹا نقصان کی صورت میں نکلتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ "ترکی قانون کی بالادستی رکھنے والی ریاست ہے، کوئی قبائلی حکومت نہیں ہے اور نہ ہی اس کے وزراء اس طرح قبائلی انداز میں بات کرتے ہیں۔ ترکی کی ترجیح اپنے دائرۂ قانون کے اندر اپنے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرنا ہے اور ان مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے ترکی کی مسلح افواج کی طاقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور یہ بات سب جانتے ہیں۔”

تبصرے
Loading...