ترک عوام کی نظر میں آیا صوفیا کا کوئی نعم البدل نہیں، صدر ایردوان

0 1,107

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکوں کی اجتماعی یادداشت میں آیا صوفیا کے مقام کا کوئی "نعم البدل” نہیں۔

ترکی کے کریتر میگزین کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے صدر نے لیبیا اور مشرقی بحیرۂ روم میں انقرہ کے مشن، دہشت گردی کے خلاف، کرونا وائرس کے خلاف اقدامات اور دیگر موضوعات پر گفتگو کی۔

صدر مملکت نے آیا صوفیا کے حوالے سے کہا کہ "یہ وہ جگہ ہے کہ جہاں محمد فاتح نے استنبول کی فتح کے بعد پہلی نماز جمعہ کی امامت کی اور پھر اسے فتح کی علامت کے طور پر مسجد میں تبدیل کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ترک معاشرہ اسے اہمیت دیتا ہے۔

یہ کہتے ہوئے کہ عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیے گئے اس مقام کی 1934ء میں عجائب گھر میں تبدیلی نے ترک عوام کے دل زخمی کیے، صدر نے کہا کہ کونسل آف اسٹیٹ کا اسے دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کی اجازت دینے فیصلہ "عوامی احساسات کا ترجمان ہے۔”

رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "اندرون و بیرونِ ملک سے آنے والے ردعمل کی ہماری نظر میں کوئی اہمیت نہیں۔ ترک عوام کے سوا کسی کو آیا صوفیاکی حیثیت پر بات کرنے کا حق نہیں۔” انہوں نے زور دیا کہ یہ ترکی کا داخلی معاملہ ہے اور دوسرے ملکوں کو ترکی کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔

ترکی کی اعلیٰ ترین انتظامی عدالت نے جمعے کو 1934ء کے اس سرکاری فرمان کو کالعدم قرار دیا کہ جس کے تحت آیا صوفیا کو مسجد سے گرجے میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ اس فیصلے نے استنبول کی اس تاریخی عمارت کو ایک مرتبہ پھر مسجد کی حیثیت سے استعمال کرنے کی راہیں کھول دی ہیں۔

آیا صوفیا دنیا کی اہم تاریخی و ثقافتی ورثے کی حیثیت رکھنے والے مقامات میں سے ایک ہے جسے چھٹی صدی میں بزنطینی سلطنت کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور یہ یونانی آرتھوڈوکس گرجے کا مسکن تھی۔ اسے 1453ء میں فتح قسطنطنیہ کے بعد شاہی مسجد میں تبدیل کیا گیا۔ 1935ء میں سخت گیر سیکولر عہد میں حکومت نے اسے عجائب گھر میں تبدیل کر دیا لیکن تب سے ہی اسے دوبارہ مسجد بنانے کے مطالبات سامنے آنے شروع ہو گئے تھے۔ اب بالآخر 85 سال کے بعد آیاصوفیا کو ایک مرتبہ پھر مسجد بنا دیا گیا۔

تبصرے
Loading...