‏86 سال بعد آیا صوفیا مسجد عبادت کے لیے کھول دی گئی

0 244

ترکی کی مشہورِ زمانہ آیا صوفیا مسجد 86 سال بعد نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے ساتھ عبادت کے لیے کھول دی گئی ہے۔

مسجد آیا صوفیا میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے صبح سے ہی ہزاروں لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ استانبول کے تاریخی مرکزی علاقے کے گرد مختلف مقامات پر عوام کا جم غفیر تھا جبکہ ہزاروں پولیس اہلکار بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔ محفوظ علاقے میں داخل ہونے پر نمازی ماسک پہنے ان جائے نمازوں پر بیٹھ گئے کہ جو شہر کے سلطان احمد اسکوائر پر بچھائی گئیں۔

زوالِ آفتاب کے وقت مسجد کے گرد موجود تمام جگہ پُر ہو چکی تھی اور کرونا وائرس کی وجہ سے اٹھائی گئی احتیاطی تدابیر کی وجہ سے مزید افراد کو داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ ایک نمازی سعید چولاق کا کہنا تھا کہ "ہمارا 86 سال طویل انتظار آج ختم ہوا۔ شکریہ صدر کا اور عدالت کے فیصلے کا کہ آج ہم آیا صوفیا میں نمازِ جمعہ ادا کرنے جا رہے ہیں۔”

یہ معروف عمارت فتحِ استانبول سے پہلے 916 سال تک ایک گرجا رہی۔ جس کے بعد 1453ء سے 1934ء تک اسے مسجد کی حیثیت حاصل رہی، یعنی تقریباً 500 سال تک۔ اور حال ہی میں اسے 86 سال تک عجائب گھر کے طور پر استعمال کیا گیا۔

ترکی میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی تاریخی عمارات میں سے ایک آیا صوفیا مقامی اور غیر ملکی سیاحوں میں بہت مقبول ہے۔ 2019ء میں یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد 37 لاکھ سے زیادہ تھی۔ اسے 1985ء میں اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا تھا۔ اب سے اس مسجد میں مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے داخلہ مفت ہوگا۔

ایک ترک عدالت نے 10 جولائی کو 1934ء کی کابینہ کا وہ حکم نامہ معطل کر دیا تھا جس کے تحت آیا صوفیا کو مسجد سے عجائب گھر میں تبدیل کیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی اس کی مسجد کی حیثیت بحال کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔

اب آیا صوفیا ترک وزارت مذہبی امور (دیانت) کے زیرِ انتظام ہوگی جبکہ وزارت ثقافت و سیاحت اس کی بحالی اور تحفظ کی خدمات انجام دے گی۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے کئی دنوں سے مسجد میں تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں، جس کا معائنہ کرنے کے لیے صدر رجب طیب ایردوان نے دو مرتبہ آیا صوفیا کا دورہ کیا۔ مسجد کے اندرونی حصے میں سبز رنگ کا نیا قالین بھی بچھایا گیا ہے کہ جس کا انتخاب صدر ایردوان نے خود کیا۔

ترکی نے جمعرات کو آیا صوفیا کے لیے تین امام اور پانچ مؤذن مقرر کیے ہیں۔ دیانت کے سربراہ علی ارباش نے کہا کہ محمد بوئنوقالن، فرخ مستعر اور بن یامین توپجواوغلو مسجد کے امام مقرر کیے گئے ہیں۔ بوئنوقالن مارمرہ یونیورسٹی میں شعبہ مذہبی علوم کے سربراہ ہیں۔ جبکہ مستعر اور توپجواوغلو نے عالمی مقابلہ حسن قرات جیت رکھے ہیں۔

مسجد میں پہلی نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے صدر مملکت رجب طیب ایردوان، وزراء اور کابینہ کے اراکین کے ساتھ ساتھ ملی حرکت پارٹی کے رہنما دولت باخ چیلی بھی موجود تھے۔

تبصرے
Loading...