گزشتہ سال پانچ لاکھ تارکینِ وطن ترکی آئے، استنبول سب سے بڑا میزبان

0 409

2018ء میں 5,77,457 تارکینِ وطن ہجرت کرکے ترکی آئے، جو ترک ادارہ شمارایت (TurkStat) کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں 23.8 فیصد اضافہ ہے۔

TurkStat کا ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ تازہ ترین اعداد و شمار میں 4,66,890 غیر ملکی اور 1,10,567 ترک شہری ہیں جو بیرونِ ملک رہائش ترک کرکے اپنے ملک میں واپس آئے یا ان کا پتہ پچھلے سال کے مقابلے میں تبدیل ہوا۔

5,77,457 میں سے تقریباً 52.7 فیصد مرد اور 47.3 فیصد خواتین ہیں۔

غیر ملکی تارکین وطن میں عراقی ایک مرتبہ پھر سب سے آگے ہیں کہ جن کی تعداد 23.6 فیصد ہے جن کے بعد افغانی اور شامی باشندے ہیں جو بالترتیب 9.6 اور 8.4 فیصد رہے۔ "2018ء میں ترکی میں آنے والے 11.9 فیصد تارکینِ وطن 25 سے 29 سال کی عمر کے رہے۔ 11.5 فیصد کی عمریں 20 سے 24 سال تھیں اور 10.3 فیصد 30 سے 34 سال کے رہے۔” TurkStat نے مزید بتایا۔

بیشتر تارکینِ وطن کی منزل استنبول رہی کہ جہاں 2,02,000 افراد منتقل ہوئے۔ دارالحکومت انقرہ 71,337 افراد کا مسکن بنا جس کے بعد ترک شہر انطالیہ آتا ہے کہ جہاں 2018ء میں 36,674 افراد آئے۔

دریں اثناء، 3,23,918 افراد ترکی چھوڑ کر دیگر ممالک چلے گئے، جن کی تعداد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 27.7 فیصد اضافے دیکھنے کو ملا۔ ان میں سے تقریباً 53.3 فیصد مرد اور 46.7 فیصد عورتیں رہیں۔ عراقی 20.6 فیصد کے ساتھ اس فہرست میں بھی سب سے آگے رہے، جن کے بعد آذربائیجانی 7.4 فیصد رہے، ازبکستانی 7 فیصد، ترکمنستانی 5.4 فیصد اور ایرانی 4.9 فیصد رہے۔

ترکی مہاجرین کے لیے بھی دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے کہ جہاں تقریباً 40 لاکھ مہاجرین مقیم ہیں۔ ملک میں رہنے والے شامی مہاجرین کی تعداد ہی جولائی تک 36 لاکھ سے زیادہ تھی۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ترکی کی آبادی 8 کروڑ 20 لاکھ 3 ہزار 882 ہے کہ جس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 11 لاکھ 93 ہزار 357 افراد کا اضافہ ہوا ہے۔ استنبول ایک مرتبہ پھر ملک کا سب سے زیادہ آبادی والا شہر قرار پایا ہے کہ جس کی آبادی ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ ہے یعنی مل کی کل آبادی کا 18.4 فیصد۔ انقرہ اور ازمیر بھی پہلے ہی کی طرح دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں کہ جن کی آبادی بالترتیب 55 لاکھ اور 43 لاکھ ہے۔

تبصرے
Loading...