بویا ترکی میں کاٹا جرمنی میں، ترک ریفرنڈم کے مخالف جرمن حکومت سازی میں پریشان

0 22,006

ترک ریفرنڈم پر ترک وزراء کو جرمنی میں موجود لاکھوں ترک ووٹروں سے دور رکھنے والے اور ترک صدر رجب طیب ایردوان کو ترکوں سے وڈیو خطاب کی اجازت نہ دینے والے جرمن سیاستدان آج کل مشکلات میں پھنسے ہیں۔ چانسلر انجیلا مرکل دوسری دو جماعتوں کے مل کر اتحادی حکومت بنانے میں ناکام ہو چکی ہیں۔ فری ڈیموکریٹک پارٹی (ایف ڈی پی) کے سربراہ کرسٹیان لنڈنر نے حکومت سازی کے لیے جاری مذاکرات سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کے بقول کسی غلط حکومتی اتحاد سے بہتر ہے کہ حکومت کا حصہ ہی نہ بنا جائے۔ سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے آدھے جرمن دوبارہ انتخابات کے خواہاں ہیں۔

جرمن خبر رساں ادارہ ڈی ڈبلیو لکھتا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ مسلم اور مہاجر مخالف دائیں بازو کی قدامت پسند جماعت اے ایف ڈی پارلیمان تک رسائی حاصل کر پائی ہے اور اس وجہ سے ممکنہ اتحاد کے روایتی امکانات بھی کم ہو گئے تھے۔ ڈوئچے ویلے کی مدیر اعلیٰ اینس پوہل کہتے ہیں کہ سات جماعتوں کی نمائندگی والی پارلیمان میں کوئی حل تلاش کرنا آسان نہیں۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) کی جانب سے مخلوط حکومت میں شامل نہ ہونے کے اعلان کے بعد گزشتہ بارہ برسوں کے دوران چانسلر انگیلا میرکل کو ایک ایسے مذاکراتی عمل میں شامل ہونا پڑا، جس میں سب سے زیادہ پارلمیانی نشستیں حاصل کرنے کے باوجود ان کے پاس کوئی حقیقی اختیار نہیں تھا۔

24 ستمبر 2017ء کو ہونے والے جرمن فیڈرل الیکشن میں سات پارٹیاں ابھر کر سامنے آئی تھیں۔ جس میں انجیلا مرکل کی سب سے بڑا پارٹی کرسچیئن ڈیموکریٹک یونین 200 سیٹیں جیت پائی تھی جو سابقہ انتخابی کارگردگی سے 55 فیصد کم تھیں۔ دوسرے نمبر پر آنے والی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے 153 سیٹیں حاصل کیں۔ اس پارٹی نے بھی اپنی سابقہ انتخابی کارگردگی سے 40 فیصد کم نشتیں حاصل کیں۔ الٹرنیٹو فار جرمنی نے پہلی بار میدان سیاست میں آئی اور 94 نشتیں لے اڑی جبکہ چوتھے نمبر پر فری ڈیموکریٹک پارٹی نے 80 نشتیں جیتیں۔ پانچویں نمبر پر دی لیفٹ گروپ نے 69 نشتیں حاصل کیں جبکہ چھٹی اور ساتویں پوزیشن پر الائنس 90دی گرین اور کرسچئن سوشل یونین نے بالترتیب 67 اور 47 سیٹیں حاصل کیں۔

الٹرنیٹو فار جرمنی اور دی لیفٹ گروپ نے انتخابات سے قبل ہی انجیلا مرکل کے ساتھ کسی قسم کے اتحاد کی نفی کی تھی جبکہ دوسری بڑی پارٹی سوشل ڈیموکریٹک یونین بھی اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا اعلان کر چکی ہے۔ سات میں سے تین پارٹیوں کے حکومت سازی کے عمل سے  باہر ہونے کے بعد انجیلا مرکل کے پاس پہلے ہی آپشن محدود ہو چکے تھے۔ فری ڈیموکریٹک پارٹی کے اعلان کے بعد چوتھی پارٹی حکومت سازی کے عمل سے باہر ہو گئی ہے جس کے بعد جرمنی میں کسی اتحادی حکومت بننے کے امکانات محدود ہو گئے ہیں۔

بدھ کے روز انسا (INSA) کی جانب سے کیے گئے تازہ سروے کے نتائج سامنے آئے ہیں جس میں 49 اعشاریہ 9 فیصد جرمن دوبارہ الیکشن کے حامی ہیں۔

تبصرے
Loading...