نفرت انگیزی کو آزادی اظہار نہ سمجھا جائے، صدر ایردوان

0 385

صدر رجب طیب ایردوان نے نفرت انگیزی کے خلاف اقوام متحدہ کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نفرت انگیزی کو آزادی اظہار سے خلط ملط نہ کیا جائے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے اقوام متحدہ کی جانب سے ایک پلیٹ فارم تشکیل دینے کی تجویز دی۔ "ترکی اقوام متحدہ میں نفرت انگیزی کے حوالے سے ایک ڈیٹابیس کی تیاری کی حمایت کرتا ہے،” انہوں نے کہا۔

صدر نے کہا کہ نفرت انگیزی اسلاموفوبیا، نسل پرستی اور غیر ملکیوں کے خوف کو پھیلانے کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ہتھیار بن چکا ہے۔ انہوں نے سیاست دانوں کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ جنہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ کے ذریعے نفرت انگیزی کو "معمول” بنا لیا ہے۔

صدر ایردوان نے اشارہ کیا کہ نفرت انگیزی کی بنیاد پر مسلمانوں پر حملوں کا خدشہ زیادہ ہے۔ "مسلمان خواتین سڑکوں پر، بازاروں میں اور کام کی جگہ پر ہراساں کی گئیں محض اس لیے کیونکہ وہ حجاب کرتی ہیں۔”

صدر ایردوان نے اسلاموفوبیا، نسل پرستی اور نفرت انگیزی کے خلاف جدوجہد میں حصہ ڈالنے کے ترکی کے عزم کا اعادہ کیا۔

کشمیر کے معاملے پر صدر ایردوان نے کہا کہ خطے میں بھارت کی پابندیوں کی وجہ سے کشمیر ایک کھلی جیل بن چکا ہے۔ انہوں نے مختلف ممالک اور اداروں پر زور دیا کہ وہ اس معاملے پر ٹھوس اقدام اٹھائیں۔

تبصرے
Loading...