ترک فوج کا آپریشن، PKK کی اعلیٰ ترین خاتون عہدیدار کو ٹھکانے لگا دیا گیا

0 367

سوموار کو PKK کی اعلیٰ ترین خاتون عہدیدار نزیفہ بیلن کو قومی انٹیلی جنس آرگنائزیشن (MIT) اور ترک مسلح افواج کے مشترکہ آپریشن میں ٹھکانے لگا دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ہاجر گوئی یا ہاجر ہلال کے کوڈ نام سے معروف اس دہشت گرد کو شمالی عراق کے قندیل پہاڑوں میں ٹھکانے لگایا گیا۔

بیلن کردستان کمیونٹیز یونین (KCK) کی نام نہاد "ایگزیکٹو کونسل” کے چھ اراکین میں سے ایک تھیں، یہ کونسل PKK دہشت گرد تنظیموں اور اس کی شامی و ایرانی شاخوں، ڈیموکریٹک یونین پارٹی (PYD) اور کردستان فری لائف پارٹی (PJAK) کے ساتھ ساتھ مختلف مسلح گروپوں اور نوجوانوں و عورتوں کی تنظیموں کی سرپرست کی حیثیت سے کام کرتی ہے۔ KCK کے دیگر اراکین میں دوران کالکان، مصطفیٰ قاراسو، علی حیدر کیتان اور نوریہ کسبیر شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق وہ گروپ کے اندر خواتین تحریک کی اولین اراکین میں سے ایک تھیں۔ انہوں نے قید میں موجود رہنما عبد اللہ اوجلان سے شام اور لبنان میں سیاسی و عسکری تربیت حاصل کی تھی۔

ذرائع نے اس آپریشن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ PKK کو عراق میں اپنی خواتین کے حلقے میں اتنے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ترک انٹیلی جنس نے اس آپریشن کے دوران عام لوگوں کو نقصان سے بچانے کے لیے تفصیلی منصوبے پر کام کیا اور یقینی بنایا کہ بیلن کا خاتمہ ایک ہی نشانے میں کیا جائے۔

30 سال سے زیادہ عرصے سے جاری دہشت گردی کی وجہ سے PKK کو ترکی، امریکی اور یورپی یونین کی جانب سے دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہےاور یہ بچوں اور خواتین سمیت تقریباً 40,000 افراد کی ہلاکت کی ذمہ دار ہے۔

تبصرے
Loading...