تاریخی آیاصوفیا نے 12 سال میں 3 کروڑ سے زیادہ سیاحوں کا خیر مقدم کیا

0 237

پچھلے 12 سالوں میں تقریباً 31 ملین افراد نے دنیا کے اہم ترین تاریخی و ثقافتی مقامات میں سے ایک آیاصوفیا کا دورہ کیا، جو کئی ملکوں کی کُل سیاحت سے بھی زیادہ ہے۔

یہ عمارت، جو 1935ء سے ایک عجائب گھر کے طور پر استعمال ہو رہی ہے عالمی تعمیراتی عجائبات میں سے ایک سمجھی جاتی ہے اور ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول میں بڑھتی دلچسپی کا فائدہ اٹھا رہی ہے اور رواں سال کی پہلی ششماہی میں 1.8 ملین یعنی 18 لاکھ افراد کا خیر مقدم کر چکی ہے۔ یہ تعداد رواں سال کے اختتام تک 30 لاکھ کو بھی عبور کر جائے گی۔

اپنی عظیم تاریخ، ثقافت اور کھانے پینے کی اشیا کی وجہ سے معروف استنبول نے ایک زبردست سیاحتی سیزن کا لطف اٹھایا ہے، اور صرف اگست کے مہینے میں 200 ممالک کے تقریباً 10 ملین یعنی ایک کروڑ غیر ملکی سیاحوں کی میزبانی کی ہے۔

تاریخ میں پہلی بار سیاحوں کی تعداد شہر کی اپنی آباد ی سے بھی بڑھ جانا متوقع ہے۔ شہر 2019ء کے اختتام تک اندازاً ساڑھے 15 ملین سیاحوں کی میزبانی کرے گا۔

شہر کا تاریخی سلطان احمد علاقہ، جو تاریخی جزیرہ نما میں واقع ہے، سب سے زیادہ سیاحوں کی توجہ حاصل کرتا ہے۔ یہاں کسی بھی ٹکٹ بوتھ پر سیاحوں کی طویل قطاریں دیکھنا ایک عام منظر ہے، جو آیاصوفیا دیکھنے کے لیے انتظار کر رہے ہوتے ہیں اور اس تاریخی عمارت کے سامنے تصاویر لے رہے ہوتے ہیں۔

2007ء سے 2018ء تک کل 30.95 ملین مہمانوں کا خیر مقدم کرنے والی اس تاریخی عمارت نے 2014ء میں 35 لاکھ سیاحوں کی توجہ کرکے ریکارڈ توڑ دیے تھے۔ اس نے 2009ء سے 2015ء کے درمیان یکساں مقبولیت حاصل کی جس کے بعد 2016ء اور 2017ء میں دو مشکل سال گزارے کہ جن کی وجہ بغاوت کی کوشش اور استنبول میں متعدد دہشت گرد حملے تھے۔ اس نے گزشتہ سال تقریباً 2.92 ملین مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔

آیاصوفیا چھٹی صدی عیسویں میں مسیحی بزنطینی سلطنت کے عہد میں تعمیر ہوئی تھی جو اس وقت یونانی آرتھوڈوکس گرجے کا صدر مقام قرار پائی۔ اسے 1453ء میں فتحِ قسطنطنیہ کے بعد شاہی مسجد میں تبدیل کردیا گیا۔ یہ تعمیر 1935ء میں سخت گیر سیکولر عہد میں عجائب گھر میں تبدیل کردی گئی تھی لیکن اسے دوبارہ مسجد بنانے کی باتیں چل رہی ہیں، جس میں عوام کی جانب سے اسے عبادت گاہ کی حیثیت سے بحال کرنے کے مطالبے سوشل میڈیا پر زور پکڑ رہے ہیں۔ 2015ء میں 85 سال بعد پہلی بار اس مسجد کے اندر تلاوتِ قرآن مجید کی گئی۔ اگلے سال ترکی کی مذہبی انتظامیہ نے رمضان کے مقدس مہینے میں تلاوت اور اس کی نشریات کا اہتمام کیا اور شبِ قدر پر مسجد میں اذان بھی دی گئی۔

تبصرے
Loading...