ترکی کی ہِٹ ٹیلی وژن سیریز پاکستان میں بھی مقبول

0 348

مشرقِ وسطیٰ، جنوبی افریقہ اور حیران کُن طور پر جنوبی امریکا میں مقبولیت حاصل کرنے کے بعد ترک ٹیلی وژن سیریز "دِرلش: ارطغرل” نے پاکستان کو بھی اپنے سحر میں جکڑ لیا ہے۔

اِس ڈرامے کی مقبولیت اتنی بڑھ گئی ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان تک نے اس کے پانچوں سیزنز اُردو زبان میں ڈب کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ عوام کے لیے دیکھنا اور سمجھنا آسان ہو جائے۔ ترک "گیم آف تھرونز” کہلانے والی والی یہ سیریز 13 ویں صدی کے اناطولیہ کی داستان بتاتی ہے کہ وہاں سلطنتِ عثمانیہ کے قیام سے پہلے کیا کچھ ہوا۔ اس میں سلطنت کے بانی عثمان اول کے والد ارطغرل غازی کی جدوجہد بھری داستانِ حیات دکھائی گئی ہے۔

ثقافتی فرق کو ایک طرف بھی رکھ دیں تو اس سیریز کو اپنی کہانی، اعلیٰ معیار کی پروڈکشن، باصلاحیت اداکاروں اور زبردست ہدایت کاری کی وجہ سے سراہا گیا۔ اس سیریز کے بنانے والے ہر قسط میں ناظرین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

پاکستان کے معروف سابق کرکٹر شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ یہ سیریز تاریخ کو اُن کی دہلیز تک لے آئی ہے۔ "ترک سیریز "دِرلش: ارطغرل” دیکھ رہا ہوں اور اُن کامیابیوں اور فتوحات پر حیرت زدہ ہوں کہ جو اُنہیں ایمان و یقین کی بدولت اور انصاف کی ریاست کے قیام کی صورت میں ملِیں۔” انہوں نے انادولو ایجنسی کو بتایا۔

اسلام آباد میں رہنے والے ایک نوجوان انجینئر محمد امین نے بتایا کہ "میں نے تمام پانچوں سیزنز، 390 قسطیں، آن لائن دیکھی ہیں۔ صرف ایک سیزن اردو زبان میں موجود ہے، جبکہ باقی سیزنز اردو سب ٹائٹلز کے ساتھ دیکھے۔”

یہ سیریز خواتین میں بھی بہت مقبول ہے کہ جو یہ سیریز اپنے گھروں پر دیکھتی ہیں۔ "میں نے اب تک اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ دو سیزنز دیکھے ہیں اور میں یہ کہہ سکتی ہیں کہ ترکی نے اپنی تاریخ ہم تک پہنچانے کی زبردست کوشش کی ہے،” نائلہ خان نے کہا کہ جو خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں ایک اسکول ٹیچر ہیں۔

"میں نے اس سیریز سے سیکھا کہ سلطنت عثمانیہ کے حکمران دین دار، صاحبانِ فکر اور بہادر تھے، اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے نصف یورپ پر حکمرانی کی،” انہوں نے کہا۔

ستمبر میں ترکی، پاکستان اور ملائیشیا نے اسلاموفوبیا کے عالمی رحجان کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کیا تھا۔ تینوں ممالک نے ایک ٹیلی وژن چینل بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ مسلمان مخالف نفرت کے چیلنجز سے نمٹا جا سکے اور اسلامی ہیروز پر فلمیں بنائی جا سکیں۔

"دِرلش: ارطغرل” ہی واحد ترک ٹی وی سیریز نہیں کہ جس نے پاکستان میں بڑی مقبولیت حاصل کی ہے۔ دیگر ترک ٹی وی سیریلز کو بھی بہت سراہا جا چکا ہے جیسا کہ "محتشم یُزیِل، "عشق ممنوع”، "فاطمہ گل ان سچو نے؟” اور "کوسم سلطان”۔

فلم ساز اور پروڈیوسر جمشید احمد خان نے کہا کہ ترک انڈسٹری بہت محنت کرتی ہے اور ٹیکنالوجی پر کوئی سودے بازی نہیں کرتی، اور مزید کہا کہ پاکستان کا بالائی طبقہ جدید ملبوسات اور آزاد خیال کہانیوں کا دلدادہ ہے، "ترک ٹیلی وژن ڈراموں کی مقبولیت کی بہت ساری وجوہات ہیں۔ اداکاری سے لے کر سیٹ ڈیزائن اور کہانی تک اور سب سے بڑھ کر کرداروں کا آزاد خیال رویہ ہماری نوجوان نسل کے لیے خاص طور پر پُرکشش ہیں۔” انہوں نے کہا۔

انہوں نے کہا کہ ترک ڈراموں نے پاکستان کی اپنی ٹی وی انڈسٹری کو متاثر کیا ہے اور ساتھ ہی بھارت کے سوپ ڈراموں کے ناظرین بھی چھین لیے ہیں۔ "کیبل نیٹ ورکس کی آمد سے، ہمارے ٹیلی وژن چینلز، پرائیوٹ پروڈیوسرز اور ہماری ڈرامہ انڈسٹری کو بھارت سے سخت مشکل کا سامنا تھا۔ اب جبکہ بھارتی سوپ ڈرامے انہی چہروں اور کبھی نہ ختم ہونے والی کہانی کے ذریعے اکتاہٹ کا شکار کر چکے ہیں، تو ترکی ڈرامے تازہ ہوا کا جھونکا بن کر آئے ہیں۔”

تبصرے
Loading...