میدانِ جنگ میں ترک فوج کتنی خطرناک ہے؟

0 848

دو براعظموں پر پھیلا ہوا ترکی یورپ یا ایشیا کی طاقتور ترین مسلح افواج میں سے ایک کا حامل ہے۔ 4 لاکھ سے زیادہ افواج رکھنے والا ترکی اپنی فوج کو برّی، فضائی اور بحری افواج میں تقسیم کرتا ہے۔ اسپیشل فورسز کی ایک کور بھی موجود ہے جو براہِ راست ترکی کے جنرل اسٹاف کے ماتحت آتی ہے۔ ترک فوج نے سرد جنگ کے دوران وارسا پیکٹ کے خلاف ایک فصیل کا کردار ادا کیا اور بلغاریہ، رومانیہ اور سوویت افواج کا سامنا کیا جو جنگ کی صورت میں تھریس کو کچلتی ہوئی آبنائے باسفورس پر قبضہ کر لیتیں۔

سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد ترکی افواج میں کمی کی گئی جو 3 لاکھ 70 ہزار سے گھٹا کر 2 لاکھ60 ہزار کردی گئیں۔ ترک فضائیہ خطے کی مضبوط ترین فضائی قوتوں میں سے ایک ہے، جو تقریباً 300 ایف-16 طیاروں پر مشتمل ہے۔ ترک بحریہ مشرقی بحیرۂ روم کی بڑی بحری طاقتوں میں سے ایک ہے، جس کی درجن سے زیادہ آبدوزیں اور ایک مرین انفنٹری بریگیڈ بھی ہے۔

ترک کا بیشتر فوجی ساز و سامان غیر ملکی ہے لیکن وہ اس وقت اپنی ملٹری انڈسٹریل بیس تیار کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ ترکی مقامی طور پر بنائے جانے والے ٹینکوں، راکٹوں اور میزائلوں پر کام کررہا ہے اور غیر ملکی دفاعی اداروں کے ساتھ تعاون بڑھا رہا ہے۔ ترک کمپنیاں ایف-35 جوائنٹ اسٹرائیک فائٹر کی سب-کانٹریکٹر بھی رہی ہیں اور ترکی اب اپنا لڑاکا طیارہ بھی بنا رہا ہے۔ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم آپ کو بتا رہے ہیں کہ ترکی فوج کے پانچ طاقتور ترین ہتھیار کون سے ہیں۔

SOM-J کروز میزائل:

ایف-35 پروگرام کا حصہ ہوتے ہوئے ترک دفاعی ادارے روکتسان نے SOM (اسٹینڈ آف میزائل) کروز میزائل بنانے کے لیے لاک ہِیڈ مارٹن کے ساتھ شراکت داری کی۔ SOM ترکی کا پہلا کروز میزائل ہے جو زمین اور سمندر میں اہداف پر حملہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کے مختلف ورژن زیر تعمیر ہیں لیکن سب سے جدید SOM-J ہے۔ SOM-J ایف-35 لڑاکا طیارے کے ذریعے لے جانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جو جیٹ کی دشمن کے ریڈار سے چھپنے کی اسٹیلتھ صلاحیت کے عین مطابق ہے۔ یہ میزائل مختلف طیاروں کے ذریعے بھی لے جایا جا سکتا ہے جیسا کہ ایف-16 کے ذریعے۔

لاک ہِیڈ مارٹن SOM-J کو "انتہائی محفوظ، بہت اہمیت کے حامل جنگی اور زمینی اہداف کے خلاف استعمال کے لیے بنایا گیا میزائل” قرار دیتا ہے۔ ان میں زمین سے فضاء میں مار کرنے والے میزائل (SAM) کی سائٹس، نظر آنے والے ہوائی جہاز، اسٹریٹجک اثاثے، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور بحری جہاز شامل ہیں۔” بیشتر کروز میزائلوں کی طرح SOM-J ایک ٹربو جیٹ طاقت رکھنے والا میزائل ہے اور یہ آواز کی رفتار سے کم پر پرواز کرتا ہے۔ یہ 155 میل کی رینج رکھتا ہے اور انتہائی دھماکا خیز وارہیڈ کا حامل ہے جو مضبوط اہداف کے خلاف انتہائی مؤثر ہوتا ہے۔

لیپرڈ 2 ٹینک:

ترکی کا اہم ترین ٹینک جرمن ساختہ لیپرڈ 2 ہے۔ 1970ء کی دہائی میں بنایا گیا لیپرڈ 2 امریکی ایبریمز کا ہم عصر ٹینک ہے۔ لیپرڈ 2 ایک جدید کمپوزٹ میٹرکس بکتر، 120 ملی میٹر کی اسموتھ بور گن اور ایک 1500 ہارس پاور کا ڈیزل انجن رکھتا ہے۔ لیپرڈ 2 مغربی جرمنی کی افواج کے لیے تیار کیا گیا تھا جس نے اسے سوویت یونین اور وارسا پیکٹ کے ممالک کے خلاف ایک زبردست ٹینک طاقت بنایا اور اپنے عروج پر جرمن افواج نے 2,100 لیپرڈ 2 ٹینکس استعمال کیے۔

سرد جنگ کے خاتمے اور جرمنی کے اتحاد کے ساتھ ٹینک طاقت کو گھٹا دیا گیا اور ترکی ان کئی ممالک میں سے ایک تھا کہ جس نے یہ استعمال شدہ لیپرڈ 2 ٹینک خریدے۔ ترکی کئی سو لیپرڈ 2A4 رکھتا ہے لیکن یہ ٹینک کئی اضافی خوبیاں نہیں رکھتے ، بالخصوص اضافی بکتر، جیسا کہ جرمنی، سنگاپور اور سویڈن کے زیر استعمال لیپرڈ 2 میں ہیں۔ 2016ء میں کم از کم دس ترک لیپرڈ 2 ٹینک داعش کے خلاف آپریشن کے دورن ان کے اینٹی-ٹینک گائیڈڈ میزائلوں کے ہاتھوں تباہ ہوئے۔

ایف-16 فائٹنگ فیلکن:

ترک ہوا قوّت لری یعنی ترک فضائیہ امریکا سے باہر ایف-16 استعمال کرنے والی بڑی فضائی قوتوں میں سے ایک ہے۔ ترک فضائیہ تقریباً 270 ایف-16 رکھتی ہے اور انہیں 158 لڑاکا اور 87 تربیت کار طیاروں میں تقسیم کرتی ہے۔ ترکی ایف-16 بلاک 30، 40 اور 50 جیٹ طیارے رکھتا ہے، جن میں سے تازہ ترین2012ء میں فوج میں داخل ہوئے۔ ترکی کے لڑاکا طیارے AIM-9X سائیڈ وِنڈر اور AIM-120 AMRAAMفضاء سے فضاء میں مار کرنے والے میزائلوں، مَیورِک فضاء سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں اور GBU-12 پیو وَے II لیزر گائیڈڈ بموں سے لیس ہیں۔

ترکی نہ صرف ایف-16 طیارے چلاتا ہے، بلکہ ان چند ملکوں میں سے ایک ہے جو یہ طیارے بناتا بھی ہے۔ اس سے حاصل کردہ تجربے نے ملک کی اپنا پہلا مقامی طیارہ ، T-FX، بنانے کی سمت رہنمائی بھی کی۔ اس لڑاکا طیارے کی ایک نقل کی رونمائی 2019ء کے پیرس ایئر شو میں کی گئی۔ ترکی دراصل اپنے پرانے بلاک 30 ایف-16 طیاروں کو ایف-35 سے بدلنا چاہتا تھا لیکن جوائنٹ اسٹرائیک فائٹر پروگرام سے ترکی کے اخراج کا مطلب ہے کہ یہ پرانے جیٹ طیارے بدستور اڑتے رہیں گے، یہاں تک کہ T-FX تیار ہو جائے۔

ٹائپ 209/214 آبدوزیں:

ترکی 14 ٹائپ 209 آبدوزیں چلاتا ہے، جو بحیرۂ روم میں سب سے بڑے زیرِ آب بیڑوں میں سے ایک ہے۔ یہ آبدوزیں 1972ء سے 2002ء کے درمیان ترک فوج کا حصہ بنیں کہ جن کی فراہمی کا سلسلہ 2008ء تک جاری رہا۔ چھ ٹائپ 209/1200 آبدوزوں کا پہلا حصہ امریکی مارک 37 تارپیڈو سے لیس ہے اور زیر آب 22 ناٹ کی رفتار حاصل کر سکتا ہے۔ ان میں سے آخری 1990ء میں ترکی کے حوالے کی گئی جو کافی پرانی بات ہے لیکن ان میں سے نصف کو 2010ء کی دہائی تک اپگریڈ کیا جاتا رہا ہے۔ آٹھ ٹائپ 209/1400 آبدوزیں 1994ء سے 2008ء کے دوران ترک بحریہ کا حصہ بنیں۔ یہ ذرا بڑی ہیں اور 1586 ٹن کا وزن رکھتی ہیں اور جرمن اور برطانوی ساختہ تارپیڈوز سے لیس ہیں۔

ان میں سے سب سے پرانی آبدوزیں چھ نئی ریس-کلاس ٹائپ 214آبدوزوں سے تبدیل ہونے کو تیار ہیں۔ ازمیر کا گولجک نیول شپ یارڈجرمنی سے لائسنس کے تحت یہ آبدوزیں بنائے گا۔ان 214 آبدوزوں کا وزن 1860 ٹن ہوگا اور یہ 533 ملی میٹر تارپیڈو ٹیوبس سے لیس ہیں تاکہ امریکی Mk.48 تارپیڈوز اور ہارپون اینٹی شپ میزائل مار سکیں۔ ترکی نے ان میں سے پہلی آبدوز کی تیاری 2015ء میں شروع کی۔

B61 نیوکلیئر بم:

نہیں، ترکی ہرگز ایک نیوکلیئر ہتھیار رکھنے والا ملک نہیں ہے۔ البتہ سرد جنگ میں صفِ اول کے ملک کا درجہ حاصل ہونے کی وجہ سے انقرہ امریکی جوہری ہتھیاروں کی بڑی تعداد کا نگران ضرور بنا۔ امریکا ترکی کی انجرلک ایئربیس پر تقریباً 90 عدد B61 نیوکلیئر بم رکھتا ہے، جن میں سے 50 امریکی فضائیہ کے پائلٹوں کے لیے ہیں جبکہ 40 ترک فضائیہ کے پائلٹوں کے لیے متعین کیے گئے ہیں۔

B61 نیوکلیئر بم سخت امریکی فوجی نگرانی میں ہیں اور ان کے لیے اٹھائے گئے حفاظتی اقدامات ایسے ہیں کہ امریکی افواج کے علاوہ کسی بھی دوسرے فریق کے لیے تقریباً ناممکن ہے کہ وہ انہیں استعمال کرے۔ ترک افواج جنگ کے دنوں کے علاوہ ان ہتھیاروں تک رسائی نہیں رکھتی اور تب بھی صرف امریکی اہلکاروں کی رہنمائی اور نگرانی میں ہی ایسا کر سکتی ہے۔

بنیادی B61 نیوکلیئر گریوِٹی بم تقریباً 700 پاؤنڈز وزن رکھتا ہے۔ بم کے تین ٹیکٹیکل نیوکلیئر ورژنز ہیں، B61-3، B61-4 اور B-61-10، گو کہ معلوم نہیں ہے کہ ترکی میں کون سے ماڈل یا ماڈلز محفوظ ہیں۔ بم مختلف دھماکا خیز نتائج رکھتے ہیں جو بالترتیب .3 کلو ٹن سے 170، 50 اور80 کلو ٹن ہیں۔ (تقابل کریں تو ہیروشیما، جاپان پر پھینکا گیا ایٹم بم 16 کلوٹن کا تھا۔)

تبصرے
Loading...