اگلے ‏50‎ سالوں میں دنیا بدل جائے گی

0 986

کہا جاتا ہے کہ ہزاریہ تبدیل ہونے سے پہلے مستقبل پر نظریں رکھنے والوں کی جارحانہ پیشن گوئیاں حقیقت ثابت نہیں ہوئیں۔ اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں اسمارٹ روبوٹ نوکر یا اڑتی ہوئی کاریں نظر نہیں آئیں جیسا کہ 1970ء کی دہائی میں مشہور کارٹون "دی جیٹ سنز” میں دکھایا گیا تھا۔ البتہ حالیہ ٹیکنالوجی جدت نے ظاہر کیا کہ آئندہ سالوں میں ہم باآسانی پیشن گوئیاں کر سکیں گے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ پیشن گوئیاں بڑے پیمانے پر سچ ثابت ہوں گی۔

برطانیہ میں ماہرین اور مستقبل بین افراد کے ایک گروپ نے تصور کیا کہ 50 سال بعد 2069ء میں دنیا کیسی ہوگی۔ اس گروپ نے سام سنگ کے تعاون سے اپنی رپورٹ تیار کی اور اس کے نتائج پیش کیے۔ مستقبل کی دنیا کے لیے 10 پیشن گوئیاں کچھ یہ ہیں:

زیر زمین راستے: آواز کی رفتار سے سفر کے قابل زیرِ زمین نقل و حمل کے راستے بنائے جائیں گے۔ ٹیوب سسٹم پر بنائے جانے والے یہ راستے ایک دوسرے سے منسلک ہوں گے۔ مثال کے طور پر یہ ٹیوب سسٹم برطانیہ کو یورپ سے جوڑے گا اور لوگوں کو ایک گھنٹے میں اسکینڈے نیویا پہنچائے گا۔

زیر زمین کثیر منزلہ عمارتیں: یہ کثیر منزلہ عمارتیں جو زیرِ زمین بنائی جائیں گی زلزلے سے محفوظ ہوں گی اور گھر، دفتر، خریداری کے مراکز اور جم وغیرہ پیش کریں گی۔

خود کار صاف ہونے والے گھر: ایسی ٹیکنالوجی بنائی جائے گی کہ جو آپ کی گھر پر عدم موجودگی یا سونے کے دوران ایک بٹن میں گھر کی صفائی کا کام کر دے گی۔

خلائی ہوٹل: چاند اور دوسرے سیاروں کا سفر ممکن ہو جائے گا۔ یہ سفر ایسے سسٹم کے ذریعے کیے جائیں گے جو ہر سیارے کی کششِ ثقل کے مطابق ہوں گے۔

3ڈی اعضاء: مستقبل میں کوئی بھی عضو اپنا کام کرنا نہیں چھوڑے گا۔ اعضاء کی تبدیلی یا ان کے بہتر انداز میں کام کرنے کے لیے ایسے اعضاء بنائے جائیں گے جو 3ڈی ہوں گے۔

کیڑے کے برگرز: اگلے 50 سالوں میں عوام کے لیے پروٹین یعنی لحمیات کے حصول کا اہم ترین ذریعہ ہوں گے۔

اڑتی بسیں اور ٹیکسیاں: یہ تو سب جانتے ہی ہیں کہ اگلے چند سالوں میں اڑنے والی ٹیکسیاں شروع ہو جائیں گی۔ زبردست طاقت رکھنے والے ڈرون کاپٹرز جیسی اڑتی بسیں عوام کے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا اہم ذریعہ ہوں گے۔

جسم میں لگنے والے امپلانٹس: یہ امپلانٹس یہ جاننے کے لیے استعمال ہوں گے کہ ہمارے جسم کی صحت و حالت کیسی ہے۔ مزید یہ کہ یہ ترجمہ کار کے طور پر بھی کام کریں گے۔

4ڈی ایئر اسپورٹس: ایئر اسپورٹس یعنی ایسے کھیل جو جو ہوور بورڈز پر کھیلے جائیں گے۔ یہ کھیل 4ڈی بصری تماشے کے ساتھ ہوں گے کہ جن میں ہزاروں افراد اسٹیڈیمز میں موجود ہوں گے۔

انٹریکٹو ورچوئل ریالٹی فلمیں: آپ ورچوئل ریالٹی (VR) لباس پہن کر گھر پر ہی خود کو فلم کے اندر پائیں گے اور اس کے احساس کا تجربہ اٹھائیں گے۔ یہ ٹیکنالوجی، جس میں پانچوں احساس شامل ہوں گے، آپ کو فلم یا وڈیو گیم کا حقیقی احساس دے گی۔

تبصرے
Loading...