ترکش اسکالرشپ کے لیے "لیٹر آف انٹینٹ” کیسے لکھیں؟

0 2,260

ترکش اسکالر شپ میں لیٹر آف انٹینٹ محض موٹیویشنل لیٹر نہیں ہوتا بلکہ یہ چند ٹیکنیکل اور سائنسی سوالات پر مشتمل ہوتا ہے۔ تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے بہت سے لوگ ایک ہی سطح یا کیٹاگری میں آ جاتے ہیں۔ اس لیے کسی کی صلاحیتوں اور قابلیت کی چانچ اسی لیٹر آف انٹینٹ سے کی جاتی ہے۔

آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ آپ ان سوالات کے کیسے جواب دیں:

عنوان/ٹائٹل (Title):

عنوان کسی بھی تحقیقاتی منصوبے کا سب سے اہم حصہ ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان میں عموما سپروائزر اپنے طلباء کو ٹائٹل دے دیتے ہیں اور اس پر ریسرچ/اسٹڈی کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ بھی بہرحال ہوتی ہے کہ سپروائزر ریسورسز، فنڈز اور آلات کا بہتر ادراک رکھتا ہے جو کسی بھی ریسرچ/اسٹڈی پر کام کرنے میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ ٹائٹل خود بناتا ہے اور اپنے طالب علم کو دے دیتا ہے۔ اس کے باوجود ٹائٹل بنانے کا آرٹ بہت ہی اہم اور ہر پوسٹ گریجویٹ طالب علم کو ضرور آنا چاہیے۔

اس میں سب سے پہلے آپ کو اپنی برین اسٹرامنگ کرنا ہے، اپنے مضمون کے تازہ ٹرینڈز جاننے کی کوشش کریں، گوگل اسکالر کا سہارا لیں، ویب سائٹس کنگالیں۔ اور دیکھیں کہ کہیں کوئی چیز آپ کو کلک تو نہیں کر رہی، کوئی سوال تو آپ کے دماغ میں پیدا نہیں ہو، کہیں کوئی کمی پیشی کو محسوس نہیں کر رہے۔ ایسا ہو تو کوئی نہ کوئی موضوع آپ کو مل سکتا ہے۔ ابھی جب میں تحریر لکھنا شروع کر چکا تھا مجھے ایک پیغام ملا کہ میں "Performance management and Payroll” کے ٹائٹل پر لیٹر آف انٹینٹ لکھنا ہے، میری تھوڑی مدد کر دیں۔ اگرچہ یہ مضمون میرے متعلقہ نہیں۔ میں خود جینٹکس کا طالب علم اور یہ ہیومن ریسورس مینجمنٹ کا موضوع۔ خیر میں نے انکار کرنے کے بجائے، انہیں الفاظ کو گوگل کیا۔ تو مجھے ایک دو کتابوں کے بارے معلوم ہوا جس سے یہ تو کنفرم ہو گیا کہ یہ موضوع بہت وسیع ہے اور کسی اسٹڈی یا ریسرچ کا ٹائٹل نہیں بن سکتا۔ گوگل اسکالر پر مجھے ایک آرٹیکل ملا جس میں مینجمنٹ پریکسز اور فرم کی پرفارمنس کے درمیان تعلق کو اسٹڈی کیا گیا تھا۔ یہیں سے میرے دماغ میں ایک آئیڈیا کلک کیا۔ کہ کیوں نہ پے رول کا مینجمنٹ پریکٹسز اور فرم کی پرفارمنس کے ساتھ تعلق کو پڑھا جائے۔ تو ایک ٹائٹل تیار ہو گیا۔ "Effect of payroll on management practice and firm performance”۔ میں نے دوبارہ کو گوگل اسکالر کیا۔ تو یہ چیز کہیں نہیں اسٹڈی کی گئی تھی۔ لیکن اس پر ایک ایکسپرٹ آپینین کی ضرورت تھی سو میں نے اسے لکھا بھیجا کہ اپنے پروفیسر کو دکھا لے۔

ایک حتمی ریسرچ/ اسٹڈی ٹائٹل کی تین خصوصیات ہوتی ہیں۔ اول، اسے پوری ریسرچ/اسٹڈی کا نمائندہ ہونا چاہیے۔ یا تخلیص کہہ لیں۔ جسے پڑھ کر پتا چل جائے کہ ریسرچ کیا ہو گی۔ دوسرا پڑھنے والے کے دل و دماغ پر جا لگنا چاہیے تاکہ وہ آپ کے پورے ریسرچ پلان کو ضرور پڑھے۔ تیسری بات کہ وہ کسی دوسری اسٹڈی یا ریسرچ کی کاپی نہیں ہونا چاہیے۔ آپ نے ایسا کوئی ٹائٹل بنا لیا تو سمجھیں آپ کا پچاس فیصد کام ہو گیا۔

مسئلہ/سوال کا تجزیہ (Analysis of Issue):

جیسا کہ ہر ریسرچ/اسٹڈی کسی سوال کا جواب دیتی ہے یا پھر اس کا کوئی مقصد ہوتا ہے۔ آپ نے دوسرے سوال کے جواب میں اپنے ریسرچ کے بارے بتانا ہے کہ کس مسئلہ کے بارے میں ہے، وہ کس سوال کے گرد گھومتی ہے، یا پھر اس کا تحقیقاتی مقصد (Objective) کیا ہو گا۔ (اس مقصد کو اپنی ریسرچ یا اسٹڈی کی اہمیت کے برابر مت سمجھیں)۔ اگر ہم اپنی اوپر والی مثال کے بارے میں اس کا جائزہ لیں تو کہیں گے ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ پے رول کا تعلق مینجمنٹ پریکٹسز سے ہے اور اگر ہے تو اس کا فرم کی پرفارمنس پر کیا اثر پڑتا ہے۔ آیا وہ فرمز جو کم تنخواہیں دیتی ہیں ان کی مینجمنٹ اچھی ہوتی ہے یا ناقص اور پھر اس فرم کی پرفارمنس کیسی ہوتی ہے۔ اسی طرح جو فرمز اچھی تنخواہیں دیتی ہیں اس پر اس کے اثرات کیا پڑتے ہیں۔ کیا اچھی تخواہیں دے کر کسی فرم کو کامیاب کے راستے پر ڈالا جا سکتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

اسی طرح اگر ہمارا ٹائٹل بائیولوجی یا سائنسی مضامین سے تعلق رکھتا ہو تو ہم دیکھیں گے کہ ہماری ریسرچ کی ضرورت کیوں ہے، اس سے کون سا ایشو حل کی طرف بڑھے گا اور اس کے تحقیقاتی مقاصد (Objective) کیا ہوں گے۔ لیں اس کو بھی ایک مثال سے سمجھ لیتے ہیں اگر ہم دیسی مرغیوں میں گریلن جین کی Characterization کر رہے ہوں تو بتائیں گے، دیسی مرغیوں کی پیدوار بہت کم ہوتی ہے، انڈے بھی یہ کم دیتی ہیں، وزن بھی زیادہ جلدی سے زیادہ نہیں ہوتا۔ اس کی کئی وجوہات ہوں گی لیکن اگر ہم اچھی مرغیوں کو دیکھ کر ان کی نسل کو آگے بڑھائیں تو ہمیں اچھی پیدواری نسل میسر آ جائے گی۔ اسی سلسلے میں گریلن جین کو ہم جاننا چاہتے ہیں کہ دیسی مرغیوں میں یہ کسی طرح کا ہوتا ہے۔ گریلن جین کا تعلق مرغیوں کی نشو ونما سے ہوتا ہے، اگر ہم اسے دیسی مرغیوں میں بخوبی جان لیں تو ہم اچھی دیسی مرغیوں کی پہچان کر سکیں گے۔ یہ سب ہم ٹیکنکل اور سائنسی زبان میں بتائیں گے وہی سوال/مسئلہ کا جائزہ ہو گا۔

تحقیقاتی طریقہ کار (Research Method):

جب آپ گوگل اسکالر پر اپنا ٹائٹل سرچ کرتے ہیں تو آپ کو بہت سے تحقیقاتی مضامین ملتے ہیں۔ آپ تلاش کریں کہ کون سا ریسرچ آرٹیکل  آپ کی اسٹڈی/ریسرچ سے ملتا جلتا ہے۔ اس کے تحقیقاتی طریقہ کار کے مطابق آپ اپنا research method لکھ سکتے ہیں۔ اس میں ڈیٹا کولیکشن سے لے کر لیب ورک اور نتائج حاصل کرنے کے لیے شماریاتی تجزیہ بھی شامل ہو گا۔

اگر واقعی آپ نے گذشتہ دونوں سوالات کے جوابات سمجھ کر دیئے ہوں تو ملتے جلتے تحقیقاتی مضامین کی مدد سے ریسرچ میتھاڈالوجی کا خاکہ بنانا آپ کے لیے مشکل نہیں ہو گا۔

تحقیقاتی ساخت (Structure of Study/Research):

یہاں آپ نے اپنی پوری ریسرچ اسٹڈی کا عنوانات کے تحت ترتیب وار خلاصہ پیش کرنا ہے۔ اس میں اپنی ریسرچ کے متعلق آپ جو کورس لیں گے ان کے عنوان بھی لکھیں۔ پھر اپنی پوری میتھاڈالوجی کے تمام اہم عمل کے عنوانات ڈالیں اور آخر پر ایک عنوان یہ بھی لکھیں کہ آپ اس ریسرچ کی رائٹنگ اور پیپرز بھی نکالیں گے۔

لٹریچر ریویو (Literature Review):

اس میں آپ ریسرچ سے متعلق تمام اہم ریسرچ آرٹیکلز کا تعارف کروائیں جن کی مدد سے آپ نے میتھاڈالوجی لکھی یا جو آپ کی ریسرچ میں اہم ہیں۔ آپ نے مختصرا ہر ریسرچ آرٹیکل کے متعلق بتانا ہے کہ اس میں کیا ہوا، کیسے ہوا اور کیا نتیجہ نکلا۔ یہ سادہ طریقہ ہے۔ ایک زیادہ محنتی طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنی ریسرچ/اسٹڈی کا Introduction ریسرچ آرٹیکلز کی مدد سے لکھیں۔ چھ سے دس ریسرچ آرٹیکلز کا خلاصہ، اور ہر خلاصہ کی دو سے تین لائینیں، لٹریچر ریوو میں ضرور ہونی چاہیے۔

اکیڈمکس میں اہمیت(Academic Contribution of the Study):

آپ نے ریسرچ/اسٹڈی کا جو منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس کا اکیڈمکس میں کیا فائدہ ہو گا۔ اس میں ایک بات تو واضع ہے کہ آپ جس سوال کا جواب اس اسٹڈی میں تلاش کریں گے اور جو نتائج حاصل کریں گے وہ مضمون سے متعلق تمام لوگوں کے لیے اہم ہو گی۔ تمام لوگوں تک پہنچانے کے لیے آپ ریسرچ رائٹنگ کریں گے، ریسرچ آرٹیکل لکھیں گے اور سیمنیار دیں گے جس سے نہ صرف اساتذہ اور طلباء کو اس کے متعلق جانکاری ہو سکے گی بلکہ مزید سوالات اور ریسرچ کا راستہ بھی کھلے گا۔

کوئی اہم بات جو ریسرچ بالا کے متعلق آپ کہنا چاہتے ہوں

تو وہ آخری سوال میں واضع کر سکتے ہیں

 

تبصرے
Loading...