ترکی میں ملازمت کیسےڈھونڈیں؟

0 2,309

بیرونِ ملک نئی زندگی کا آغاز مشکل ہوتا ہے اور جس ملک کی ثقافت اور زبان سے آپ واقف نہ ہوں تو وہاں زندگی کی گاڑی چلانے کے لیے ملازمت کی تلاش مزید مشکل کام ہے۔ مشرق و مغرب کے درمیان پُل کی حیثیت رکھنے اور غیر معمولی قدرتی و تاریخی حسن کی بدولت ترکی ایسے تارکینِ وطن کا پسندیدہ مقام رہا ہے جو ایک نئے ملک میں رہائش کا تجربہ اٹھانے اور ساتھ ہی ایک نئی زندگی کی شروعات کے خواہشمند ہیں۔

نئے ملک میں نئی زندگی شروع کرنے کا مشکل ترین مرحلہ ملازمت تلاش کرنا ہے۔ ترکی میں تارکینِ وطن کی جانب سے ملازمت کی تلاش کے بارے میں جاننے کے لیے میں نے ترکی میں غیر ملکی باشندوں اور مختلف قومیتوں کے انگریزی زبان بولنے والوں کے لیے بنائے گئے انگریزی کمیونٹی پلیٹ فارم یبانجی کے طارق سے بات کی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ملازمت ڈھونڈنا اکثر تارکینِ وطن کے لیے سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ وہ عموماً ایسی ملازمتوں کے لیے ہی درخواست دیتے ہیں جن میں ایک غیر ملکی زبان کی معلومات درکار ہوتی ہے جیسا کہ تدریس، سیاحت اور سیلز کی ملازمتیں کہ جہاں صارفین غیر ملکی ہوں، یا ٹیک کمپنیاں کہ جو غیر ملکی مارکیٹوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی ہوں۔

لیکن درست ملازمت حاصل کرنے کے لیے تارکینِ وطن کو کیا کرنا چاہیے؟ گو کہ متعدد آن لائن HR ویب سائٹس موجود ہیں، لیکن تارکینِ وطن کو کچھ مختلف کرنا ہوگا۔ "مثال کے طور پر یبانجی پر ملازمتوں کا سیکشن ویب سائٹ کا مقبول ترین حصہ ہے حالانکہ سائٹ پر مہینے بھر میں چند ملازمتیں ہی ڈالی جاتی ہیں۔” طارق نے کہا "زبانی کلامی، فیس بک گروپس وغیرہ عموماً بہت کارآمد ہوتے ہیں۔”

ترک قوانین کے مطابق کسی غیر ملکی کو ترکی میں ملازمت حاصل کرنے اور کام کرنے کے لیے عارضی وَرک پرمٹ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ البتہ ورک پرمٹ کے لیے درخواست محض اُس کمپنی کی جانب سے دی جا سکتی ہے جس میں وہ غیر ملکی کام کر رہا ہے۔ یعنی تارکینِ وطن بذات خود ورک پرمٹ کے لیے درخواست نہیں دے سکتے۔ ورک پرمٹ کے لیے درخواستیں دینے کے دو طریقے ہیں: اُن کے لیے جو کم از کم چھ مہینے کی رہائش کا اجازت نامہ رکھتے ہیں، کمپنی وزارت محنت و سوشل سکیورٹی پر آن لائن بذریعہ "ای-دولت” براہِ راست درخواست دیتی ہے۔ اگر تارکِ وطن کے پاس رہائش کا اجازت نامہ نہیں ہے تو کمپنی کو اس ملک کے ترک سفارت خانے سے رابطہ کرنا ہوگا کہ جہاں کا ورک پرمٹ تارکِ وطن کے پاس ہے۔

گو کہ ورک پرمٹ کے لیے درخواست کا عمل آن لائن ہے، لیکن افسر شاہی کی وجہ سے اسے کافی وقت درکار ہوتی ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ آیا کمپنیاں کسی غیر ملکی کو ملازمت پر رکھتے ہوئے اس کے لیے ورک پرمٹ حاصل کرنے کی تمام ذمہ داری قبول کرتی ہیں یا نہیں؟ طارق نے کہا کہ "عموماً جب تک کوئی انتہائی مضبوط اسکول یا کمپنی نہ ہو – وہ (یعنی کمپنی) ورک پرمٹ کی پیشکش نہیں کرتی۔”

یبانجی ملازمت تلاش کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے بھی ایک سیکشن رکھتی ہے لیکن ان کی بنیادی توجہ ملازمتوں سے باہر کی دنیا پر ہے۔ اپنی پسند کے علاقے کا انتخاب، فلیٹ کی تلاش، جمنا، خریداری کی ٹپس، مخصوص مقامات کے لیے زبانی رہنمائی – جیسا کہ بال کٹواتے ہوئے، تقریبات کی فہرست اور ثقافتی مشورے وہ شعبے ہیں جن پر یبانجی کی توجہ زیادہ ہے۔ پھر بھی وہ تارکین وطن کو ملازمت کی تلاش اور اس کے بعد درکار مدد فراہم کرتے ہیں۔

"ہم اپنے صارفین کو اپنی فہرستوں کے ذریعے مدد دیتے ہیں۔ اگر معاملات بہت بری صورت اختیار کر جائیں تو بلاشبہ ہم انہیں مدد پیش کرتے ہیں۔ جیسا کہ اگر ان کے حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہو یا اپنے معاہدے کے حوالے سے ان کے کچھ سوالات ہوں یا کچھ اور، تو ہم انہیں کسی وکیل سے جوڑ دیتے ہیں۔”

کیا ترکی زبان کا علم اضافی صلاحیت ہے؟

"جی ہاں، بالکل۔ صرف کام ہی میں نہیں بلکہ اپنی روزمرہ زندگی میں بھی۔ کم از کم زبان تارکِ وطن کو کام کا بہتر ماحول تو فراہم کر ہی دیتی ہے کہ وہ میٹنگ میں شرکت کرنے کے قابل ہوتا ہے، سمجھ جاتا ہے کہ دوسرے اس کےبارے میں کیا باتیں کر رہے ہیں، جس چیز پر وہ دستخط کر رہا ہے اس پر درحقیقت لکھا کیا ہے وغیرہ۔ لیکن ترکی زبان آتی ہو یا نہ آتی ہو، ایک نئی ملازمت کا آغاز کرنا اور نئے ماحول سے ہم آہنگ ہونا ایک مشکل کام ہے۔ ”

تارکینِ وطن کو اپنے کام کی جگہ پر مسائل کا سامنا ہو اور ہم آہنگ ہونےمیں دشواری ہو تو اس حوالے سے طارق نے کہا کہ "اگر دیانت داری سے کہا جائے تو یہ تارکِ وطن پر منحصر ہے۔ کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو بہت پُر سکون ہوتے ہیں اور چاہے کیسی بھی صورت حال کا سامنا ہو اس سے نمٹنے کی خواہش رکھتے ہیں اور اس قسم کے لوگ کافی اچھا کام کرتے ہیں۔ پھر ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ادارے یا انتظامیہ سے ویسی توقعات رکھتے ہیں جیسی وہ اپنے ملک میں رکھتے تھے ۔ اگر وہ ترکی میں قیام اور کام جاری بھی رکھیں، تو نتائج لانے کے لیے انہیں اضافی دباؤ سے گزرنا پڑتا ہے۔ بلاشبہ یہ عمومی اطلاق ہے لیکن اپنے تجربے کے مطابق میں نے اس طرح کے دو افراد ہی دیکھے ہیں۔”

تبصرے
Loading...