ترک ڈرونز نے لیبیا میں جنگ کی بازی کیسے پلٹ دی؟

0 5,511

لیبیا کے جنگجو باغی خلیفہ حفتر کا سمجھنا تھا کہ انقرہ کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ لیبیائی حکومت کی حمایت اُن کا راستہ نہیں روک پائے گا۔ ان کا یہ اندازہ بالکل غلط ثابت ہوا۔ جب اُن جنگجوؤں نے پچھلے سال اپریل کے اوائل میں گورنمنٹ آف نیشنل ایکرڈ (GNA) کے خلاف حملوں کا آغاز کیا تھا تو ان کے بلند و بانگ دعوے تھے کہ کوئی طاقت اُن کو دارالحکومت طرابلس پر قبضے سے نہیں روک سکتی، جو اس خانہ جنگی میں باغیوں کا اصل ہدف ہے۔

روس، فرانس، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور مصر کی پشت پناہی کے ساتھ اور افریقہ بھر سے بھرتی کیے گئے کرائے کے ہزاروں سپاہیوں کی مدد سے حفتر کی نام ناد لیبیائی نیشنل آرمی (LNA) نے دارالحکومت کے نواحی علاقوں کو اپنی فضائیہ اور توپ خانے سے نشانہ بنانا شروع کیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ صرف ترکی، اٹلی اور قطر کا ساتھ رکھنے والی GNA طویل محاصرہ برداشت نہیں کر پائے گی۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ انقرہ کے عزم و حوصلے کا غلط اندازہ لگایا گیا۔ ترکی کے ڈرونز نے، جو لیبیا کی آرمی چلاتی ہے، حال ہی میں جنگ کو طرابلس کے حق میں پلٹا، یوں GNA نے ملک بھر کے مختلف محاذوں پر باغی خلیفہ حفتر کو بھرپور شکست دی خاص طور پر اہم ترین مغربی اور وسطی علاقوں میں۔

لیبیا کے سیاسی تجزیہ کار اور لیبیا کی ہائی کونسل کے سابق مشیر صلاح بکوش کا کہنا ہے کہ "لیبیا کا جغرافیہ سمجھنا بہت ضروری ہے۔ یہ ایک وسیع و عریض ملک ہے اور کھلے میدانی اور صحرائی علاقے رکھتا ہے، یہاں تک کہ ساحلی علاقوں میں بھی افواج کی کوئی نقل و حرکت چھپی نہیں رہ سکتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ فوج کے لیے ایئر کوَر یعنی فضائی تحفظ موجود ہے۔ اگر آپ کے پاس یہ فضائی ڈھال نہیں ہے تو ایک بہتر فضائیہ رکھنے والا حریف آپ کی اینٹ سے اینٹ بجا سکتا ہے۔ ترک ڈرونز کی آمد کے بعد لیبیا میں یہی کچھ ہوا۔”

GNA کے اعلیٰ عہدیداران بھی بارہا اس حوالے سے بات کرتے رہتے ہیں۔ وزیرِ داخلہ فتحی باشآغا نے گزشتہ سال ترک ڈرونز کے بارے میں کہا تھا کہ "ترکوں نے ہمیں وقت پر بچا لیا۔”

بکوش نے کہا کہ "ترکی کی ڈرون مدد سے پہلے حفتر کی فضائیہ، عرب امارات، مصر اور روس کی پشت پناہی سے GNA کی افواج پر تابڑ توڑ حملے کر رہی تھی اور بھاری نقصان پہنچا رہی تھی۔ ادلب اور شام کے دیگر علاقوں میں تجربہ رکھنے والے ڈرونز کی آمد نے GNA کو اپنی عددی برتری کا فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کیا۔”

انقرہ نے مارچ کے اوائل میں آپریشن اسپرنگ شیلڈ کے دوران ڈرونز کے ذریعے ادلب میں اسد حکومت کی افواج کےخلاف اپنی عسکری برتری ظاہر کی تھی۔

بکوش کے مطابق ترک ڈرونز 2019ء کے اواخر میں لیبیا میں آنا شروع ہوئے۔ "مجھے معلوم ہے کہ ترک فوجی ماہرین دسمبر یا جنوری سے ان ڈرونز کو اڑانے کے حوالے سے لیبیا کے فوجیوں کو تربیت دے رہے ہیں۔”

بکوش کی طرح دیگر ماہرین بھی اس خیال کے حامی ہیں کہ فضائی برتری لیبیا کی خانہ جنگی کے نتائج میں کتنی اہم ثابت ہوگی۔

یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز میں شمالی افریقہ و مشرق وسطیٰ پروگرام کے پالیسی فیلو طارق مجریسی لکھتے ہیں کہ "GNA نے حال ہی میں فوجی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جس نے ترک ایئر ڈیفنس سسٹم کی مدد اور ڈرون مہم کے ذریعے حفتر کے اڈوں اور سپلائی لائنز کو ہدف اُن سے تقریباً پورا مغربی لیبیا چھین لیا ہے۔”

اپریل سے اب تک GNA کی افواج طرابلس اور تونس کی سرحد کے درمیان متعدد شہر دوبارہ حاصل کر چکی ہیں۔ اس ہفتے الوطیہ ایئربیس سے حفتر کے جنگجوؤں کو نکال باہر کیا گیا جو LNA کے مغربی آپریشنز کا ہیڈکوارٹر تھا اور مغربی لیبیا کی سب سے بڑی ایئربیس بھی۔

چند سیٹیلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح ترک UAV نے اس ایئربیس پر نصب روس کے Pantsir ایئر ڈیفنس سسٹم پر حملہ کیا۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق ترک UAVs کی مدد سے GNA نے متعدد Pantsir سسٹمز کو تباہ بھی کیا ، جس سے روسی ایئر ڈیفنس سسٹم کی ساکھ پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

ہائی ٹیک ترک ڈرونز سے ملنے والے تحفظ کے ساتھ GNA نے حفتر کی ملیشیا کے خلاف اپنی پیش قدمی جاری رکھی۔ حفتر کا ایک گڑھ ترہونہ بھی کچھ عرصے سے GNA کے محاصرے میں ہے۔ اگر ترہونہ بھی طرابلس حامی اتحاد کے ہاتھ آ جاتا ہے تو جنگجو خلیفہ حفتر وسطی اور مغربی لیبیا سے محروم ہو جائیں گے۔

مجریسی نے کہا کہ "ترک فوجی مدد نے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کو زبردست فتوحات دی ہیں، جن سے فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کی طرابلس پر قبضہ کرنے کی امیدوں کا خاتمہ ہوا اور اُن کے حامیوں میں پھوٹ پڑھ رہی ہے۔ جب تک وہ فضائی برتری دوبارہ حاصل نہیں کر پاتے، ہارتے ہی رہیں گے۔ ”

لیبیا کا اگلا قذافی بننے پر نظریں رکھنے والے حفتر کی حالیہ شکستوں کے بعد روس نے اُن کی مدد کے لیے چند ہوائی جہاز بھیجے ہیں۔ ماسکو کے چھ مِگ-29 اور دو سُو-24 طیارے الجفرہ کی ایئربیس پر آئے ہیں، جس سے لیبیا میں تناؤ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ترکی کی مدد سے گورنمنٹ آف نیشنل ایکرڈ (GNA) نے باغیوں سے کئی اہم شہر واپس لے کر لیبیا کے مستقبل کا تعین کر دیا ہے۔

تبصرے
Loading...