روہینگیا مسلمان: تاریخ کے ایک اور سیاہ داغ پر انسانیت کو شرمناک زندگی گزارنا پڑے گی، ایردوان

0 172

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب دنیا کئی علاقائی اور عالمی مسائل کا سامنا کر رہی تھی میانمار سے آنے والی افسوسناک خبروں نے چند ہفتے پہلے ہمیں حیران کر دیا- انہوں نے کہا: "میانمار کے مسلم اکثریتی اراکان ریاست میں دہشتگردوں حملے کے جواز پر مسلمان آبادی کا صفایا کیا جا رہا ہے”-

ایردوان نے کہا: "روہینگیا مسلمانوں کے گاؤں جو پہلے بھی انتہائی غریت میں جی رہے ہیں، ماضی میں انہیں شہری حقوق سے محروم رکھا گیا، انہیں ہزاروں کی تعداد میں اپنا خطہ اور آبائی وطن چھوڑنے پر مجبور کیا گیا- بنگلہ دیش میں مہاجرین کے کیمپس جہاں روہینگیا مسلمان آئے ہیں وہاں بنیادی انسانی ضروریات تک موجود نہیں ہیں”-

صدر ایردوان نے کہا کہ بالکل شام کی طرح، اراکان کے المیے پر بھی عالمی برادری ناکام ہو چکی ہے- جب تک ہم میانمار میں جاری انسانی بحران کو روکا نہیں جاتا، تاریخ کے ایک اور سیاہ داغ پر انسانیت کو شرمناک زندگی گزارنا پڑے گی-

انہوں نے عالمی برادری کو بتایا کہ ترکی مسئلے کے حل کے لیے کئی اقدامات کر چکا ہے- کاغزقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ہونے والی او آئی سی کی میٹنگ میں ہم نے یہ بات اپنے بردار ملکوں کے سامنے رکھی- میری بیوی، میرا بیٹا، کئی کابینہ ممبران کے ہمراہ بنگلک دیش پہنچے اور مہاجرین کے کیمپوں کا دورہ کیا اور ان میں امدادی سرگرمیوں کو آگے بڑھایا-

ایردوان نے کہا کہ ترک ادارہ برائے باہمی رابطہ و تعاون (ٹیکا) جو ترکی کی سرکاری ڈویلپمنٹ تعاون کی تنظیم ہے دنیا کی واحد تنظیم ہے جو میانمار کے اندر کام کر رہی ہے- اس کے ساتھ ساتھ اے ایف اے ڈی، ترک ہلال احمر، دیانت فاؤنڈیشن کے علاوہ کئی این جی اوز بنگلہ دیش اور دوسرے ملکوں میں روہینگیا مسلمانوں کی انسانی امداد جاری رکھے ہوئے ہیں-

تبصرے
Loading...